Re: Pakistan After Talibanization.
محترم،
آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی گفتگو پورے نقشے کے اوپر ہے؟
کيا آّپ نے الزام نہیں لگايا کہ تحريک طالبان جو کہ منشیات میں ملوث ہیں’ کو امريکہ وجود میں لے کر آيا ہے؟ کيا آپ نے يہ نہیں لکھا؟
**" **Lekin TTP jo k CIA or RAW ki 1 najaiz Aulad hai drugs ko complete support krti hai.”
کيا آپ نے ** بغير کسی مستند ثبوت کے يہ الزام نہیں لگايا کہ بن لادن اور طالبان امريکہ کی پيداوار ہیں؟**
کيا آپ يہ سمجھنے سے قاصر نہیں يا جان بوجھ کر اس خقيقت سے انکار نہیں کر رہے ہیں کہ مصنف، آزاد ميڈيا، صحافی اور کالم نگار اپنی راۓ کے اظہار کا حق رکھتے ہيں؟
آپ کو معلوم ہونا چاہيے کہ اس سے انکار نہيں کيا جا سکتا کہ بعض ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ سائٹس اور لوگ تمام حقائق نہيں بتاتے، اصل میں کچھ ايشوز پر مجموعی طور بناوٹی خبريں شائع کرتے ہيں جن کا حقيقت کیساتھ کوئ تعلق ہی نہيں ہوتا۔
مثال کے طور پر حال ہی ميں امريکہ میں کچھ لوگوں نے پيشن گوئ کی تھی کہ دنيا21 مئ 2011 کو حتم ہو جاۓ گی ليکن ايسا نہيں ہوا اور اب وہ 21 اکتوبر 2011 کا دعوی کر رہے ہیں۔ کيا آپ اس افواہ پر يقين کرتے ہیں؟ اس کہانی کو آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔
ميں جب کسی موضوع پر اپنی راۓ کا اظہار کرتا ہوں تو وہ اس موضوع پر يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ اور امريکی حکومت کے سرکاری موقف کی بنياد پر ہوتا ہے۔ اس کا موازنہ کتاب، آزاد ميڈيا ،نيوز رپورٹ يا کسی اخباری کالم سے نہيں کيا جا سکتا۔ آپ يقينی طور پر ميری راۓ سے اختلاف کر سکتے ہيں۔ آپ اس بات کا حق رکھتے ہيں کہ کسی بھی موضوع کے حوالے سے اپنی آزاد راۓ قائم کريں۔
**طالبان کے بارے میں آپ کا دعوی سرے سے غلط ہے، 1994 سے قبل کوئ طالبان نہيں تھے۔ حکومت پاکستان اور طالبان کے مابين تعلقات، حوالے سے امريکہ کے خدشات اور تحفظات – اس حوالے سے ميں نے يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے کچھ سفارتی دستاويزات جاصل کی ہيں جو آپ کو جذبات اور بيانات سے ہٹ کر کچھ تلخ حقائق سمجھنے ميں مدد ديں گے۔ ان دستاويزی شواہد کے بعد آپ کو طالبان اور پاکستان کے تعلقات، دہشت گردی کی موجودہ لہر، اس کا حقيقی پس منظر اور اس حوالے سے امريکی خدشات سمجھنے ميں بھی مدد ملے گی۔ **
نومبر7 1996 کی اس دستاويز ميں پاکستان کی جانب سے طالبان کی براہراست فوجی امداد پر تشويش کا اظہار کيا گيا ہے۔ اس دستاويز ميں ان خبروں کی تصديق کی گئ ہے کہ آئ – ايس – آئ افغانستان ميں براہ راست ملوث ہے۔ اس ميں آئ – ايس – آئ کے مختلف اہلکاروں کا افغانستان ميں دائرہ کار کا بھی ذکر موجود ہے۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689832&da=y
ستمبر26 2000 کو يو – ايس – اسٹیٹ ڈيپارٹمنٹ کی اس رپورٹ ميں پاکستان کی جانب سے طالبان کو فوجی کاروائيوں کے ليے پاکستانی حدود کے اندر اجازت دينے پر شديد خدشات کا اظہار ان الفاظ ميں کيا گيا ہے
**“يوں تو پاکستان کی جانب سے طالبان کی امداد کاقی عرصے سے جاری ہے ليکن اس حمايت ميں موجودہ توسيع کی ماضی ميں مثال نہيں ملتی”۔ اس دستاويز کے مطابق پاکستان طالبان کو اپنی کاروائيوں کے ليے پاکستان کی سرحدی حدود کے اندر سہوليات مہيا کرنے کے علاوہ پاکستانی شہری بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس دستاويز کے مطابق پاکستان کی پختون فرنٹير کور افغانستان ميں طالبان کے شانہ بشانہ لڑائ ميں ملوث ہے۔ **
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689833&da=y
امريکی انٹيلی جينس کی اس دستاويز کے مطابق پاکستان طالبان کی فوجی امداد ميں براہ راست ملوث ہے۔ اس دستاويز ميں حکومت پاکستان کی اس تشويش کا بھی ذکر ہے کہ پاکستان ميں پختون آبادی کو طالبان کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے ليے حکوت پاکستان طالبان کو اپنی پاليسيوں ميں اعتدال پيدا کرنے کے ليے اپنا رول ادا کرے گی۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689838&da=y
**دسمبر 22 1995 کی اس دستاويز کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے تہران اور تاشقند کو اس يقين دہانی کے باوجود کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کر سکتا ہے، امريکی حکومتی حلقے اس حوالے سے شديد تحفظات رکھتے ہيں۔ اس دستاويز ميں امريکہ کی جانب سے حکومت پاکستان کی طالبان کی پشت پناہی کی پاليسی کو افغانستان ميں قيام امن کے ليے کی جانے والی عالمی کوششوں کی راہ ميں رکاوٹ قرار ديا ہے۔ **
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689840&da=y
اکتوبر 18 1996 کو کينيڈين اينٹيلی ايجنسی کی اس دستاويز کے مطابق کابل ميں طالبان کی توقع سے بڑھ کر کاميابی خود حکومت پاکستان کے لیے خدشات کا باعث بن رہی ہے اور طالبان پر حکومت پاکستان کا اثر ورسوخ کم ہونے کی صورت ميں خود پاکستان کے ليے نۓ چيليجنز پيدا ہو جائيں گے۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689841&da=y
ستمبر 28 1998 اور 25 مارچ 1999 کی ان دو دستاويزات ميں امريکی حکومت نے ان خدشات کا اظہار کيا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنے اثر ورسوخ کے باوجود اسامہ بن لادن کی بازيابی ميں اپنا کردار ادا نہيں کر رہا۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689843&da=y
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689844&da=y
نومبر7 1996 کی اس دستاويز ميں پاکستان کی جانب سے طالبان کی براہراست فوجی امداد پر تشويش کا اظہار کيا گيا ہے۔ اس دستاويز ميں ان خبروں کی تصديق کی گئ ہے کہ آئ – ايس – آئ افغانستان ميں براہ راست ملوث ہے۔ اس ميں آئ – ايس – آئ کے مختلف اہلکاروں کا افغانستان ميں دائرہ کار کا بھی ذکر موجود ہے۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689832&da=y
مارچ 9 1998 کی اس دستاويز ميں اسلام آباد ميں امريکی ڈپٹی چيف آف مشن ايلن ايستھم اور پاکستان کے دفتر خارجہ کے ايک اہلکار افتخار مرشد کی ملاقات کا ذکر ہے جس ميں امريکی حکومت کی جانب سے اسامہ بن لادن سے منسوب حاليہ فتوے اور پاکستان ميں حرکت الانصار کے ليڈر فضل الرحمن خليل کی جانب سے اس فتوے کی تحريری حمايت کے حوالے سے امريکی حکومت کے خدشات کا اعادہ کيا گيا۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689842&da=y
ستمبر 28 1998 اور 25 مارچ 1999 کی ان دو دستاويزات ميں امريکی حکومت نے ان خدشات کا اظہار کيا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنے اثر ورسوخ کے باوجود اسامہ بن لادن کی بازيابی ميں اپنا کردار ادا نہيں کر رہا۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689843&da=y
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689844&da=y
دسمبر 5 1994 کی اس دستاويز کے مطابق حکومت پاکستان کی افغانستان کی سياست ميں براہراست مداخلت اور طالبان پر آئ – ايس – آئ کے اثرورسوخ کے سبب طالبان قندھار اور قلات پر قبضہ کرنے ميں کامياب ہوۓ۔ پاکستان کی اس غير معمولی مداخلت کے سبب اقوام متحدہ ميں افغانستان کے خصوصی ايلچی محمود ميسٹری کی افغانستان مين قيام امن کی کوششوں ميں شديد مشکلات حائل ہيں۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689845&da=y
جنوری 29 1995 کی اس دستاويز میں حکومت پاکستان کے اہلکاروں کی جرنل دوسطم سے ملاقات کا ذکر ہے جس ميں انھيں يہ باور کروايا گيا کہ طالبان ان کے خلاف کاروائ نہيں کريں گے ليکن اس يقين دہانی کے باوجود مئ 1997 ميں مزار شريف پر قبضہ کر کے انھيں جلاوطن ہونے پر مجبور کر ديا۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689846&da=y
ستمبر 30 1996 کو کابل ميں طالبان کے قبضے کے چار دن بعد سی – آئ – اے کی جانب سے اس دستاويز ميں طالبان کی جانب سے دہشت گرد تنظيموں کی پشت پناہی کے حوالے سے غير متوازن پاليسی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گيا ہے۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689848&da=y
اکتوبر 2 1996 کی اس دستاويز ميں آئ – ايس – آئ کی جانب سے 30 سے 35 ٹرک اور 15 سے 20 تيل کے ٹينکر افغانستان منتقل کرنے کا حوالہ ہے۔
**http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689849&da=y
**
جولائ 1 1998 کی اس دستاويز ميں پاکستان کے ايٹمی دھماکے کے بعد نئ سياسی فضا کے پس منظر ميں پاکستان کی جانب سے پہلی بار کھلم کھلا طالبان کی پشت پناہی کا اعادہ کيا گيا۔
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689853&da=y
**اگست 6 1998 کی اس دستاويز ميں ايک رپورٹ کے حوالے سے يہ باور کرايا گيا کہ طالبان کی صفوں ميں 20 سے 40 فيصد فوجی پاکستانی ہيں۔ **
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689854&da=y
پاکستان کی جانب سے طالبان کی پشت پناہی، اور اس کے نتيجے ميں افغانستان ميں القائدہ کی تنظيم نو اور 11 ستمبر 2001 کے حادثے سميت دنيا بھر ميں دہشت گردی کے واقعات کی اس تاريخ کے پس منظر ميں کيا يہ دعوی کرنا حقيقت کے منافی نہيں کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر امريکہ کے اس خطے ميں آنے کے بعد آئ ہے؟
**طالبان اور پاکستان کی يہی وہ تاريخ ہے جس کے نتيجے ميں امريکی حکومتی حلقوں ميں پاکستان کے سرحدی علاقوں ميں طالبان کے
بڑھتے ہوۓ اثرورسوخ پر شديد تشويش پائ جاتی ہے۔ **
ذوالفقار – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
**
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall