**
عمر کے بعد اس طرح دید بھی ہو گی بات بھی
تو بھی قریب جاں ہے آج بھیگ رہی ہے رات بھی
دل میں ہے اک محل سرا اس میں لگا ہے آئینہ
عکس ہے اس میں غیر کا عکس میں اپنی ذات بھی
خواب میں تیری دید سے اس طرح روشنی ہوئ
نور سے بھر گیا تمام حجلہء کائنات بھی
ایک خیال کے طفیل ایک وصال کے سبب
روز تو روز عید تھا شب تھی شب برات بھی
سارے جہاں کے سامنے ایسے رہے ہیں سربلند
دل میں تھا ایک رنج بھی ہاتھ میں ایک ہاتھ بھی
**
نہ شوق ہے، نہ تمنا، نہ یاد ہے دل میں
کہ مستقل کسی غم کی نہاد ہے دل میں
ہے الف لیلہ ولیلہ سی زندگی در پیش
سو جاگتی ہوئ اک شہر زاد ہے دل میں
جو ضبط چشم کے باعث نہ اشک بن پایا
اس ایک قطرہء خون کا فساد ھے دل میں
پھر ایک شہر سبا سے بلاو ا آیا ہے
پھر ایک شوق سلیماں نژاد ھے دل میں
ہے ایک سحر دلآویز کا اسیر بدن
تو جال بنتی، کوئ اور یاد ہے دل میں
تمام خواہشیں اور حسرتیں تمام ہوئیں
مگر جو سب سے عجب تھی مراد ہے دل میں
**
تنہا، سر انجمن کھڑی تھی
میں اپنے وصال سے بڑی تھی
اک پھول تھی اور ہوا کی زد پر
پھر میری ہر ایک پنکھڑی تھی
اک عمر تلک سفر کیا تھا
منزل پہ پہنچ کے گر پڑی تھی
طالب کوئ میری نفی کا تھا
اور شرط یہ موت سے کڑی تھی
وہ ایک ہواےء تازہ میں تھا
میں خواب قدیم میں گڑی تھی
وہ خود کو خدا سمجھ رہا تھا
میں اپنے حضور میں کھڑی تھی
**
دشت میں اک طلسم آب کے ساتھ
دور تک ہم گئے سراب کے ساتھ
پھر خزاں آئ اور خزاں کے بعد
خار کھلنے لگے گلاب کے ساتھ
رات بھر ٹوٹتی ہوئ نیندیں
جڑ گئیں سحر ماہتاب کے ساتھ
ہم سدا کی بجھے ہوئے تھے
وہ تھا پہلی سی آب و تاب کے ساتھ
چھوٹی عمروں کی پہلی پہلی بات
کچھ تکلف سے کچھ حجاب کے ساتھ
اور پھر یہ نگاہ خیرہ بھی
ڈوب جائے گی آفتاب کے ساتھ
رات کی طشتری میں رکھی ہیں
میری آنکھیں کسی کے خواب کے ساتھ
**
میں خود سے پوچھ رہی تھی،کہاں گئے مرے دن
مجھے خبر ہی نہ تھی رائگاں گئے مرے دن
گئے ہیں وحشت صحرا سمیٹنے کے لیے
کہ سوئے بزم و سر گلستان گئے مرے دن
بہت اداس نہ ہو دل شکستگی سے مری
مرے حبیب،مرے رازداں ! گئے مرے دن
خدا کرے کوئ جوئے مراد سامنے ہو
بدوش گرد رہ کارواں گئے مرے دن
کوئ نگاہ، کوئ دل، نہ کوئ حرف سپاس
نہیں تھا کوئ بھی جب پاسباں ،گئے مرے دن
بہت سے لوگ گلی کا طواف کرتے تھے
بس اس قدر ہے مری داستاں،گئے مرے دن!
**
آشوب
کیا آہ بھرے کوئ
جب آہ نہیں جاتی
دل سے بھی ذرا گہری
اور عرش سے کچھ اونچی
کیا نظم لکھے کوئ
جب خواب کی قیمت میں
آدرش کی صورت میں
کشکول گدائ کا
شاعر کو دیا جا ۓ
اور روک لیا جاۓ
جب شعر اترنے سے
بادل سے ذرا اوپر
تاروں سے ذرا نیچے
کیا خاک لکھے کوئ
جب خاک کے میداں پر
انگلی کو ہلانے سے
طوفان نہیں اٹھتا
جب شاخ پہ امکاں کی
اس دشت تمنا میں
اک پھول نہیں کھلتا
رہوار نہیں رکتے
موہوم سی منزل پر
آنکھوں کے اشارے سے
اور نور کی بوندوں کی
بوچھاڑ نہیں ہوتی
اک نیلے ستارے سے
جب دل کے بلاوے پر
اس جھیل کنارے پر
پیغام نہیں آتا
اک دور کا باشندہ
اک خواب کا شہزادہ
گلفام، نہیں آتا
بستی میں کوئ عورت
راتوں کو نہیں سوتی
جاگی ہوئ عورت کی
سوئ ہوئ قسمت پر
جب کوئ بھی دیوانہ
بے چین نہیں ہوتا
دہلیز کے پتھر سے
ٹکرا کے جبیں اپنی
اک شخص نہیں روتا
جب نیند کے شیدائ
خوابوں کو ترستے ہیں
اور دیکھنے کے عادی
بینائ سے ڈرتے ہیں
رہ رہ کے اندھیرے سے
آنکھوں میں اترتے ہیں
آنکھوں کے اجالوں سے
ان پھول سے بچوں سے
کہہ دو کہ نہ اب ننگے
پاؤں سے چلیں گھر میں
اس فرش پہ مٹی کے
اب گھاس نہیں اگتی
اب سانپ نکلتے ہیں
دیوار سے اور در سے
اب نور کی بوندوں سے
مہکی ہوئ مٹی میں
انمول اجالے کے
وہ پھول نہیں کھلتے
اب جھیل کنارے پر
بچھڑے بھی نہیں ملتے
بستی میں کوئ عورت
راتوں کو نہیں سوتی
اور جاگنے والوں سے
اب نظم نہیں ہوتی
کیا نظم لکھے کوئ
جب جاگنے سونے میں
پا لینے میں،کھونے میں
جب بات کے ہونے میں
اور بات نہ ہونے میں
کچھ فرق نہ رہ جاۓ
کیا بات کرے کوئ