ظالموحساب دو خون کا جواب دو‘‘۔
[RIGHT]اس نظم کی تخلیق کے بارے میں خود فارغ بخاری نے اپنی سوانح حیات ''مسافتیں‘‘ میں لکھا ہے جسے انکی وفات کے بعد انکی انقلابی فکر کے وارث بیٹے قمر عباس نے ایمِ اسیری کے دوران جون 1997 میں سنٹرل جیل پشاور میں مکمل کیا اور پھر شائع کروایا۔
فارغ بخاری لکھتے ہیں۔
[RIGHT]‘‘ ایوبی مارشل لا کے دوران بھٹو کی تحریک شروع ہوئی تو میں نے مارشل لا کے خلاف لکھنا شروع کیا ۔جنرل شیر علی خان ان دنوں وزیر اطلاعات تھے اور پیپلز پارٹی کا نوجوان شیر دل رہنما حق نواز گنڈا پور شہید کر دیا گیا۔ پورے ملک میں چرچا تھا کہ اسے حکومت نے مروایا ہے۔ میں نے ایسے میں ارشاد راؤ کے ادبی مجلے ‘‘ الفتح‘‘ میں یہ نظم لکھی تھی جس پر مجھے قید کر لیا گیا،رسالہ ضبط ہو گیا اور فوجی عدالت نے مجھے ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی‘‘
[/RIGHT]
گنڈا پور کا لہو رائیگاں نہ جائے گا
بے گناہ کا خون ہے اپنا رنگ لائے گا
ایک دن ضرور یہ کوئی گُل کھلائے گا
بانیانِ ظلم کو خاک میں ملائے گا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناصر و ظہیر کا مولوی فقیر کا
سانگھڑ کبیر کا جنگِ کاشمیر کا
حاکمِ شریر کا شیر علی وزیر کا
ایک ایک زخم کا ایک ایک تیر کا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوم کے عتاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
حشرِ احتساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
خونی انقلاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستوں کے پیچ و خم کوئی دن کی بات ہے
کھُل رہے گا یہ بھرم کوئی دن کی بات ہے
یہ جفائیں یہ ستم کوئی دن کی بات ہے
فیصلہ کریں گے ہم کوئی دن کی بات ہے
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارغ بخاری کی زندگی اور شاعری کا محور انقلاب،غریب اور مظلوم کی آواز اور فکر یزیدی کا پردہ چاک کرنے کے خلاف رہا ہے اور وہ ہر دور میں اپنے اسی شعر کی تصویر نظر آئے۔
[/RIGHT]
قتل گاہوں سے عَلَم کون چُنے
**
سب ہیں لاشے ہی اٹھانے والے**
******فارغ بخاری کے بارے میں مجھے تفصیل سے لکھنا ہے کہ یہ قرض ایک مدت سے میرے سر پر ہے لیکن اسوقت ایک خیال رہ رہ کر کچوکے لگا رہا ہے کہ حبیب جالب اور فارغ بخاری جیسے وہ بیدار فکر اور بیدار ضمیرتخلیق کار کیا ہوئے۔ **
[RIGHT]یہ عجب بات ہے کہ ایک حق نواز کے مارے جانے پر فارغ بخاری جیسا شاعر ایسا ابدی اور آفاقی نعرہ تخلیق کر دے اور آج جب آئے روز شہر شہر گھر گھر کتنے ہی حق نواز بے گناہ مارے جا رہے ہیں تو ہمارے قلم کار یا تو بے حس ہو چکے ہیں،مفادات کی خاطر خاموش ہیں یا خفتہ ضمیر ہیں کہ اپنے ارد گرد فضا میں لہو کی بو بھی انہیں جگا نہیں پا رہی۔
[/RIGHT]
Re: Old days Farigh Bukhari (Urdu)
ظالموحساب دو خون کا جواب دو‘‘۔
[RIGHT]اس نظم کی تخلیق کے بارے میں خود فارغ بخاری نے اپنی سوانح حیات ''مسافتیں‘‘ میں لکھا ہے جسے انکی وفات کے بعد انکی انقلابی فکر کے وارث بیٹے قمر عباس نے ایمِ اسیری کے دوران جون 1997 میں سنٹرل جیل پشاور میں مکمل کیا اور پھر شائع کروایا۔
فارغ بخاری لکھتے ہیں۔
[RIGHT]‘‘ ایوبی مارشل لا کے دوران بھٹو کی تحریک شروع ہوئی تو میں نے مارشل لا کے خلاف لکھنا شروع کیا ۔جنرل شیر علی خان ان دنوں وزیر اطلاعات تھے اور پیپلز پارٹی کا نوجوان شیر دل رہنما حق نواز گنڈا پور شہید کر دیا گیا۔ پورے ملک میں چرچا تھا کہ اسے حکومت نے مروایا ہے۔ میں نے ایسے میں ارشاد راؤ کے ادبی مجلے ‘‘ الفتح‘‘ میں یہ نظم لکھی تھی جس پر مجھے قید کر لیا گیا،رسالہ ضبط ہو گیا اور فوجی عدالت نے مجھے ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی‘‘
[/RIGHT]
گنڈا پور کا لہو رائیگاں نہ جائے گا
بے گناہ کا خون ہے اپنا رنگ لائے گا
ایک دن ضرور یہ کوئی گُل کھلائے گا
بانیانِ ظلم کو خاک میں ملائے گا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناصر و ظہیر کا مولوی فقیر کا
سانگھڑ کبیر کا جنگِ کاشمیر کا
حاکمِ شریر کا شیر علی وزیر کا
ایک ایک زخم کا ایک ایک تیر کا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوم کے عتاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
حشرِ احتساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
خونی انقلاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستوں کے پیچ و خم کوئی دن کی بات ہے
کھُل رہے گا یہ بھرم کوئی دن کی بات ہے
یہ جفائیں یہ ستم کوئی دن کی بات ہے
فیصلہ کریں گے ہم کوئی دن کی بات ہے
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارغ بخاری کی زندگی اور شاعری کا محور انقلاب،غریب اور مظلوم کی آواز اور فکر یزیدی کا پردہ چاک کرنے کے خلاف رہا ہے اور وہ ہر دور میں اپنے اسی شعر کی تصویر نظر آئے۔
[/RIGHT]
قتل گاہوں سے عَلَم کون چُنے
**
سب ہیں لاشے ہی اٹھانے والے**
*فارغ بخاری کے بارے میں مجھے تفصیل سے لکھنا ہے کہ یہ قرض ایک مدت سے میرے سر پر ہے لیکن اسوقت ایک خیال رہ رہ کر کچوکے لگا رہا ہے کہ حبیب جالب اور فارغ بخاری جیسے وہ بیدار فکر اور بیدار ضمیرتخلیق کار کیا ہوئے۔ *
[RIGHT]یہ عجب بات ہے کہ ایک حق نواز کے مارے جانے پر فارغ بخاری جیسا شاعر ایسا ابدی اور آفاقی نعرہ تخلیق کر دے اور آج جب آئے روز شہر شہر گھر گھر کتنے ہی حق نواز بے گناہ مارے جا رہے ہیں تو ہمارے قلم کار یا تو بے حس ہو چکے ہیں،مفادات کی خاطر خاموش ہیں یا خفتہ ضمیر ہیں کہ اپنے ارد گرد فضا میں لہو کی بو بھی انہیں جگا نہیں پا رہی۔
[/RIGHT]
Zahe naseeb AP uncle. Khush aamdeed...
Nice sharing. Is this Farigh Bukhari the same guy, who wrote 'tum kitne Bhutto maaro ge'?