**نکتہ چین ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیا بات بنے، جہاں بات بنائے نہ بنے
میں بلاتا ہوں اس کو مگر اے جذبہ دل
اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
کھیل سمجھتا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
غیر پھرتا ہے لئے یوں ترے خط کو کہ اگر
کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
اس نزاکت کا برا ہو، وہ بھلے ہیں تو کیا
ہاتھ آویں تو انھیں ہاتھ لگائے نہ بنے
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہے
تم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
اسد اللہ خان غالب**