New Heroes

These people who gave their lives in fighting oppression may not receive any medal, but are our modern day heroes.

?BBC Urdu? - ??? - ??? ??? ??? ??? ??? ??? ??? ???](’فوج مدد کرتی توماں، شوہر، بیٹا زندہ ہوتے‘ - BBC News اردو)
ہمارا خاندانی تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ میرے دیور محمد شیر خان پیپلز پارٹی سوات کے نائب صدر ہیں۔ طالبان نے جب سوات پر کنٹرول حاصل کیا تو ہمارے خاندان نے یہ کہہ کر ان کو ماننے سے انکار کر دیا کہ یہاں پر صرف حکومت کی ہی عملداری ہوگی۔ یہاں سے ہمارے اور طالبان کے درمیان جھگڑا شروع ہوا۔ انہوں نے پہلے میرے دیور محمد شیر خان پر عید کے دن حملہ کیا جس میں وہ زخمی ہوگئے۔ چھ مہینے کے بعد تئیس جون دو ہزار آٹھ کو انہوں نے میرے ایک اور دیور منیر خان کے گھر میں اس وقت دستی بم پھینکا جب وہ اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔ اس حملے میں وہ ہلاک ہوگئے۔
میرے شوہر عبدالکبیر خان اور میرا بیٹا محمد علی خان اگلے دن شام کو فاتحہ خوانی سے واپس آ رہے تھے کہ گھر کے دروازے پر پہنچتے ہی طالبان نے ان پر حملہ کردیا۔ وہ جلدی سے گھر میں داخل ہوگئے۔ اس وقت میں نے دروازے کو تالا لگا دیا۔ طالبان نے ہم پر فائرنگ شروع کردی۔ گھر میں میری والدہ ، شوہر، بیٹا، بہو اور ان کے پانچ بچے تھے۔
میں نے بھاگ کر اسلحہ نکالا اور اپنے شوہر اور بیٹے کے حوالے کردیا۔ میرے شوہر نے پہلے فوجیوں کو فون کیا اور پھر دوسرے حکومتی اہلکاروں اور رشتہ داروں کو۔ مگر اس وقت تک طالبان چاروں طرف سے ہمارے مکان کا محاصرہ کر چکے تھے۔ وہ ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے اور دستی بم پھینکتے رہے۔ انہوں نے صحن میں تیرہ چودہ دستی بم پھینکے جو پھٹ گئے لیکن ہمیں کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔

مارے گھر میں بندوقیں، کلاشنکوف اور پستول موجود تھے اور میرا شوہر اور بیٹا کبھی بندوق تو کبھی پستول سے فائرنگ کرتے تاکہ طالبان کواس دھوکے میں رکھیں کہ گھر میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ فائرنگ کی آوازوں سے بچے بہت زیادہ رو رہے تھے اور ہم نے انہیں باورچی خانے منتقل کردیاجو قدرے محفوظ جگہ تھی۔ میں اور میری بہو میگزین میں کارتوس بھر بھر کر میرے شوہر اور بیٹے کو دیتے رہے۔رات کے دس بجے میری ماں کو سینے میں گولی لگی۔ میں لاچاری سے ان کے سرہانے کھڑی انہیں آخری سانسیں لیتے دیکھتی رہیں۔ میں ایک دفعہ ماں کے پاس آتی اور پھر بھاگ کر میگزین لوڈ کر کے انہیں شوہر اور بیٹے تک پہنچاتی ۔ وہ تقریباً دو گھنٹے کے بعد مرگئیں، مرنے کے بعد میں نے انہیں سیدھا لٹاکر ان پر کمبل ڈال دیااور باہر نکل آئی۔
گولیوں کی اتنی بوچھاڑ تھی کہ ایک آدھ دفعہ تو گولیاں میرے پائنچوں سے ہوتی ہوئی باہر کو نکلیں۔رات گہری ہوتی گئی۔ میرا شوہر اور بیٹا مزاحمت کرتے رہے۔صبح کے چار بجے مجھے باورچی خانے سے’آہ‘ کی آواز آئی۔ میں نے آواز دی کیا ہوا تو شوہر نے کہا ’مجھے گولی لگ گئی ہے‘۔ انہیں پیٹ میں گولی لگی تھی۔ میں ان کے پاس جاکر بیٹھ گئی۔ میرے پاس علاج کا کوئی وسیلہ نہیں تھا اور نہ ہی مجھے کسی چیز کی سمجھ آرہی تھی۔

**کچھ دیر بعد میرا بیٹا بھی باورچی خانے میں داخل ہوا اور جب اس نے اپنے والد کو زخمی حالت میں دیکھا تو وہ بھی حوصلہ ہار بیٹھا۔ اس نے اپنے والد سے کہا کہ ’میں بھی جیتے جی خود کو طالبان کے حوالے نہیں کروں گا۔ میں صحن کے بیچ میں جا کر ان کی گولیوں کا نشانہ بننا چاہتا ہوں‘۔ یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ ’بیٹے حوصلہ مت ہارو، وہ ویسے ہی تمہیں مار دیں گے آخر کب تک مزاحمت کر پاؤ گے، تم نے آخری دم تک لڑنا ہے مگر خدارا بیٹے میری آنکھوں سے اوجھل ہوجاؤ تا کہ میں تمہیں گولی لگتے دیکھ نہ سکوں۔‘ میں اپنی ماں اور شوہر کے بعد اپنے بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ ** **اس نے حوصلہ پا کر پھر فائرنگ شروع کردی۔ تقریباً ایک گھنٹے تک میں اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی رہی۔ ہم نے زیادہ باتیں نہیں کیں۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’غیرت ایک ہی دن دکھائی جاتی ہے روز روز نہیں۔ اگر تم لوگ زندہ بچ گئے تو
**

بچوں کا خیال رکھنا‘۔ تھوڑی دیر بعد وہ فوت ہوگئے

۔
ابھی میں ان کو سنبھال ہی رہی تھی کہ باورچی خانے کے دوسرے حصے سے بم دھماکے کی آواز آئی۔ میں نے بھاگ کر دیکھا تو میرا بیٹا دستی بم کا نشانہ بن گیا تھا۔( اس وقت بی بی مہینہ کی آواز حلق میں اٹک گئی اور انہوں نے پانی پینے کے بعد اپنی کہانی پھر شروع کی) ۔ کچھ ہی دیر بعد نقاب پوش طالبان اندر آگئے۔ انہوں نے ہم سے باہر نکل جانے کو کہا۔ انہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے کپڑے نکال کر انہیں آگ لگا دی۔ سونا نکال کر چرایا۔ میں، میری بہو اور پانچ چھوٹے چھوٹے بچے لاشیں چھوڑ کر گھر سے نکل آئے اور قریب ہی واقع اپنے دیور کے گھر چلے گئے۔ کچھ دور چل کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہمارا مکان شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔اگلے دن انہوں نے ہمارے دوسرے دیور کے گھر کو بھی بارودی مواد سے اڑا دیا۔

Re: New Heroes

:hinna: :hinna: :hinna: