hanibal
September 25, 2017, 10:18pm
20
Re: Nawaz Back in Pak to face courts
Divided by racism united by haramkhori.
Esi leay haramkhor mqm nai na ehal pm ko party leader ban-nay ki support ki hai?
جمعہ کے روز سینیٹ میں وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے الیکشن بِل میں ترمیم شدہ بل منظوری کیلئے پیش کردیا۔ سینیٹ کے چئیرمین رضا ربانی کا مؤقف تھا کہ اس بل میں پیش کی گئی ترمیم پہلے سے ہی انڈر ریویو ہے اور قواعد کے تحت اگر کوئی ترمیم پہلے سے زیرغور ہو تو اس میں مزید ترمیم پیش نہیں کی جاسکتی۔ رضا ربانی نے اس کی اجازت دینے سے انکار کیا تو ن لیگ کے سینیٹرز نے احتجاج کیا جس پر رضاربانی نے ترمیم کی اجازت دینے کے معاملے پر رائے شماری کروالی اور اکثریت نے اسے پیش کرنے کی اجازت کے حق میں ہاں کہہ دی۔
رضا ربانی کو لگا کہ یہ اس کے مؤقف اور ایوان کے قواعد کی شکست تھی، چنانچہ اس نے احتجاجاً واک آؤٹ کردیا اور جے یو آئی کے ڈپٹی سینیٹر عبدالغفورحیدری نے اجلاس کی صدارت سنبھال لی۔
رضاربانی کے واک آؤٹ کرنے کے بعد تحریک انصاف کے اراکین نے احتجاجاً واک آؤٹ کرنے کا اعلان کیا کیونکہ ان کے خیال میں رضا ربانی کو واپس لایا جانا چاہیئے تھا۔ اس دن ایوان میں پی ٹی آئی کے 7 میں سے 6 اراکین حاضر تھے۔ جب وہ واک آؤٹ کرکے باہر گئے تو پیچھے سے اعتزاز احسن نے بطور اپوزیشن لیڈر نے نااہل شخص کی پارٹی صدارت نہ سنبھالنے کی ترمیم پیش کردی۔ یہ وہ ترمیم تھی جو تحریک انصاف نے تجویز کی تھی اور اپوزیشن کے ساتھ وسیع تر اتحاد کے زریعے پیش ہونا تھی۔
جب اعتزاز احسن نے ترمیم پیش کی تو پی پی کے ایک رکن نے باہر جا کر پی ٹی آئی کے اراکین کا مطلع کیا، اس وقت پی ٹی آئی کا نعمان خٹک کسی ضروری کام سے پشاور روانہ ہوچکا تھا، پیچھے موجود 5 سینیٹرز بھاگم بھاگ واپس آئے اور انہوں نے اپنی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالا۔
ترمیم کے حق میں 38 اور مخالفت میں 39 ووٹ آئے۔
سینیٹ میں پیپزپارٹی کے 27 اراکین ہیں جن میں سے 3 غیرحاضر تھے، اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے 8 میں سے 7 غیرحاضر تھے، اے این پی کے الیاس بلور سمیت دوسرے اراکین بھی غیرحاضر تھے۔ ایم کیو ایم کے واحد رکن نے اس ترمیم کی مخالفت میں ووٹ ڈال کر ن لیگ کی حمایت کردی۔ اگر پی ٹی آئی کے اراکین ووٹ نہ ڈالتے تو کبھی بھی اس ترمیم کے حق میں 38 ووٹ نہ آتے۔
پچھلے دو دن سے جماعتی دانشوڑوں نے رٹ لگا رکھی ہے کہ تحریک انصاف کی وجہ سے نوازشریف کے پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہوئی۔ جماعتیوں کی یہ بات اتنی ہی غلط ہے جتنا یہ دعوی کہ ان کی جماعت اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہے۔
حضور، پی ٹی آئی کے 7 میں سے 5 اراکین اس وقت ایوان میں موجود تھے اور انہوں نے اعتزازاحسن کی پیش کردہ ترمیم کی حمایت کی تھی لیکن جے یوآئی اور ایم کیو ایم جیسے ***حرام سینیٹرز کی وجہ سے یہ ناکام ہوئی۔
اور ہاں، جماعتی آپ کو یہ کبھی نہیں بتائیں گے کہ اس دن ان کا اکلوتا سینیٹر سراج لالہ خود بھی ایوان سے غیرحاضر ہی تھا۔ شاید جمعہ کے مبارک دن لالہ سراج محنت مزدوری کرنے کی بجائے ذکر اذکار کرنے کو ترجیح دیتا ہو۔
یہ تھی اصل کہانی جو دو دن سے تحریک انصاف کے نااہل میڈیا کے لوگ عوام کے سامنے پیش کرنے سے قاصر رہے!!! بقلم خود باباکوڈا
Issay kehtay hain asli tay nasli Muk-MukA…
PTI kay logoon ko hamesha aisi kisi tarmeem kay waqt hi zaroori kaam kyon yaad aatay hain?
Tayan Ardagan key mukhalifat kerni hu tu saray PTI kay bandar Imran Khan kay kandhay per nazr aatay hain…per aisi koy c tarmeem hu tu inhay zaroori kaam yaad aa jata hay!!!