Myth about winning 1965 War

Re: Myth about winning 1965 War

I think before people start jumping on @Sachaydino we need to ask who initiated the war & what were the gains at the end? To me, none withstanding valour and scarifies of our forces, the war was ill-conceived, badly manged & created permanent anonymity between the two countries.

Re: Myth about winning 1965 War

Whoever crossed the international border

Re: Myth about winning 1965 War

All three wars between India and Pakistan has big connection!! Kashmir. Does it ring some bells into your ears???

Re: Myth about winning 1965 War

I am not talking about the how Pakistan defended Indian reaction?? I am talking about who started the war, what was the purpose and what were the consequences?? Was it worth to start that war???? Historical facts have always been distorted to favor one faction of people. To me Ayub Khan rigged the elections of 1964 when Fatima Jinah emerged as a major opponent to Ayub Khan. If you were there as you claim you will not deny this. To regain his popularity and continuing his tyranny, Ayub Khan started proxy war with India just to divert the minds of people. I am not anti Punjabi but I am concerned with Punjabis supporting this corrupt and most incompetent army at the cost of country.

Re: Myth about winning 1965 War

kashmir yes, 1971 no, I would even say that the 71 war had nothing to do with kashmir. The war would not have happened if the elected govt would had been allowed to take its rightful place.

Re: Myth about winning 1965 War

Pakistanis were the first to cross the border in 1965.

Re: Myth about winning 1965 War

Kashmir has been major concern between Pakistan and India since 1947. If that concern is removed, East Pakistan would have still been a part of Pakistan.

Re: Myth about winning 1965 War

I was there when the election between Ayub and Fatima Jinnah took place and yes they were rigged in favour of Ayub. As for who started the war, who army crossed the International border at 4am in the morning at wagah border?

Re: Myth about winning 1965 War

wrong again. Skirmishes were taking place in Kashmir and both Pak and India crossed LOC during those skirmishes not the International boirder. India crossed the international border on september 6 and started the war.

Re: Myth about winning 1965 War

Keep onto your personal slurs. I would only say kuch sharam karo kuch haya karo. Last time I also checked Lahore, Sialkot were still part of Pakistan when major part of Pakistan broken away in 1971. Attitude like this Pakistan will only comprise of Lahore and Sialkot in the future.

Re: Myth about winning 1965 War

:slight_smile: That is what the author of article was saying in the first post. Always lies and wrong history of Pakistan has been taught.

And here is the latest. Can you deny this too?? :slight_smile: woh kehtay hain na ek jhooth ko sach saabit karnay ke leay ek hazaar jhooth bolnay parhtay hain. In this report at the end it says, the then Air Marshal Noor Khan told that army lied to nation that it was India who attacked Pakistan first. :slight_smile:

آپریشن جبرالٹر Ú©ÛŒ یادیں - BBC Urdu](آپریشن جبرالٹر کی یادیں - BBC News اردو)

ایم الیاس خانبی بی سی نیوز، کشمیر

  • 7 ستمبر 2015

شیئر](آپریشن جبرالٹر کی یادیں - BBC News اردو)

Image copyrightPhoto DivisonImage captionاندازوں کے مطابق کشمیر جانے والی جبرالٹر فورس سات سے 20 ہزار ارکان پر مشتمل تھیاگست 1965 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بظاہر ایک مسلح مزاحمتی تحریک جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور اس ’بغاوت‘ کے ایک ماہ بعد بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کا یہ حملہ ’بلا اشتعال‘ تھا لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس وقت شروع ہونے والی تحریک واقعی مقامی تھی؟
71 سالہ قربان علی ان ’مزاحمت کاروں‘ میں شامل تھے جنھوں نے اگست 1965 میں بھارتی فوجیوں سے لڑائی کی۔
سنہ 1965 کی یادیں قربان علی کی زبانی سنیے](’دس کے گروپ میں چار فوجی ہوا کرتے تھے‘ - BBC News اردو)
کشمیر جانے والے رضاکار محمد نذیر کی کہانی سنیے](’جب کیمپ سے نکلے تو نہیں جانتے تھے کہ منزل کیا ہے‘ - BBC News اردو)
لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشی قربان علی کوئی مزاحمت کار نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی آزاد کشمیر رجمنٹ کے ایک فوجی تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میں اس وقت تازہ تازہ بھرتی ہوا تھا۔ میری عمر بمشکل 20 برس تھی۔ میں نے رجمنٹل تربیت مکمل کی تھی اور پھر رضاکارانہ طور پر جبرالٹر فورس میں شامل ہوا۔‘
پاکستان نے آج تک سرکاری طور پر اس قسم کی کسی فوج کی تیاری یا موجودگی کی تصدیق نہیں کی لیکن پاکستانی فوج کے سابق میجر، سکیورٹی امور کے ماہر اور مصنف اکرام سہگل نے اپنے ایک اخباری مضمون میں اس فوج کو ’ آزاد کشمیر رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فوج کے رضاکاروں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھرتی کیے گئے ان افراد کا مجموعہ قرار دیا ہے جنھیں جلدبازی میں تربیت دے کر جولائی/اگست 1965 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دھکیل دیا گیا۔‘
پاکستانی اور دیگر عسکری مورخین کے مطابق اس منصوبے کو آپریشن جبرالٹر کا نام دیا گیا تھا اور اس کے خالق خطے کے فوجی کمانڈر میجر جنرل اختر حسین ملک تھے۔

Image captionقربان کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ 180 افراد پر مشتمل تھا جن میں سے بیشتر عام شہری رضاکار تھےمنصوبہ یہ تھا کہ گوریلا لڑائی لڑتے ہوئے بھارتی مواصلاتی نظام کو تباہ کیا جائے اور مرکزی مقامات پر حملے کر کے بھارتی فوج کو باندھ کر رکھ دیا جائے۔
قربان علی اور ان کے گروپ نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے کے لیے شمال سے طویل اور دشوارگزار راستہ اختیار کیا۔
یہ لوگ کئی دن اسلحہ، گولہ بارود اور خشک راشن کمر پر لادے پیدل چلے، پہاڑ چڑھتے اترتے رہے جن میں سے کئی برف پوش تھے۔
اس سفر کے بعد انھوں نے ضلع کپواڑہ میں چوکی بال کے قصبے کے نزدیک جنگلات میں اپنی کمین گاہیں قائم کر لیں۔ یہ لوگ اپنے دن اور راتیں درختوں کے کھوکھلے تنوں میں یا پھر چٹانوں کی اوٹ میں گزارتے رہے۔
انھوں نے وہاں جو ایک ماہ گزارا اس میں ایک پل تباہ کیا اور بھارتی فوج کی سپلائی لائن پر کئی مقامات پر حملے کیے۔
قربان کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ 180 افراد پر مشتمل تھا جن میں سے بیشتر عام شہری رضاکار تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر دس افراد میں سے چھ عام شہری تھے۔‘
قربان اور ان کے ساتھی نہیں جانتے تھے کہ ان جیسے کئی اور گروپ دیگر مقامات سے کشمیر کے اس حصے میں داخل ہو چکے تھے۔

Image copyrightPhoto DivisionImage captionاگست 1965 کے آخر تک بھارتی فوج نے کشمیر میں داخل ہونے والے بیشتر دراندازوں کو تلاش کر کے پکڑ لیا تھااندازوں کے مطابق کشمیر جانے والی یہ جبرالٹر فورس سات سے 20 ہزار ارکان پر مشتمل تھی۔
ان میں سے ایک محمد نذیر بھی تھے جو اب 64 برس کے ہو چکے ہیں۔
جب انھیں بھرتی کیا گیا تو ان کی عمر 14 برس تھی اور وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے پونچھ میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’جب انھوں نے ہمیں تربیتی کیمپ سے نکالا تو ہم نہیں جانتے تھے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ ہم سمجھے کہ یہ بھی ہماری تربیت کا ایک حصہ ہے۔‘
نذیر اور ان کے ساتھی فارورڈ کہوٹہ سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہوئے اور زیادہ تر ضلع پونچھ کے قصبے منڈی کے علاقے میں کارروائیاں کیں۔
نذیر کہتے ہیں کہ ان کے گروپ میں شامل اکثر لوگ خود ان جیسے لڑکے تھے۔ ’اس کم عمری میں سب نے بہت خونریزی دیکھی۔ لیکن ان کے حوصلے بہت بلند تھے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جب کبھی گولیاں چلتیں یا کارروائی ہوتی تو ہمارا جوش و جذبہ بڑھ جاتا۔ جب خاموشی ہوتی تو ہم بوریت کا شکار ہو جاتے۔ اس وقت ہم نے شاید ہی کبھی زندگی اور موت کے بارے میں سوچا ہو۔‘

Image captionاس کم عمری میں سب نے بہت خونریزی دیکھی۔ لیکن ان کے حوصلے بہت بلند تھے: محمد نذیرآپریشن جبرالٹر اس مفروضے کی بنیاد پر کیا گیا کہ یہ گوریلا حملے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی مسلم آبادی کو بغاوت پر اکسائیں گے۔
اس سلسلے میں ایک باغی ریڈیو سٹیشن بھی قائم کیا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ کشمیر میں کہیں قائم ہے جبکہ وہ راولپنڈی سے نشریات کر رہا تھا جن میں ’مجاہدین‘ کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا تاکہ لوگوں کو مزاحمت پر اکسایا جائے۔
لیکن بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی شہری آبادی نہ صرف کسی عام بغاوت کے لیے تیار نہیں تھی بلکہ اسے ان دراندازوں کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا بھی رہا۔
عسکری مورخین نے ایسی کئی مثالیں پیش کی ہیں جن میں ان کی کارروائیوں میں عام شہری مرے یا زخمی ہوئے یا پھر انھوں نے ان مزاحمت کاروں کی مخبری کر دی۔
جبرالٹر فورس کی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کارروائیوں کے بعد بھارت نے نہ صرف کشمیر میں اپنی فوج میں اضافہ کیا بلکہ دراندازی کے مقامات بند کرنے کے ساتھ ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے بھارتی فوج نے ایسے بلند دروں پر بھی قبضہ کر لیا جہاں سے وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
بھارت کے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستانی فوجی ستمبر کے پہلے ہفتے میں جموں میں داخل ہوئی تاکہ بھارتی سپلائی لائن کو کاٹا جا سکے۔ یہ کارروائی بھارت کی جانب سے لاہور اور سیالکوٹ کی سرحد سے پاکستان پر حملے کی وجہ بنی۔

Image captionیوسف کی ہلاکت کے وقت ان کی اہلیہ نسا بیگم سات ماہ کی حاملہ تھیںاگست 1965 کے آخر تک بھارتی فوج نے کشمیر میں داخل ہونے والے بیشتر دراندازوں کو تلاش کر کے پکڑ لیا تھا یا پھر وہ لڑائی میں مارے گئے۔
بھارت کی جانب سے لاہور پر حملے کے بعد ان میں سے زندہ بچ جانے والوں کو واپسی کے احکامات ملے۔
قربان علی کے مطابق ’ہمیں بتایا گیا کہ وہ ہمیں مزید کمک نہیں پہنچا سکتے اور ہمیں اب اپنا انتظام خود ہی کرنا ہوگا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمارے مشن میں سب سے مشکل وقت تھا۔ ہمارے عقب میں جو چوٹیاں تھی جن پر پہلے پاکستانی کنٹرول تھا، وہ اب بھارتی قبضے میں جا چکی تھیں۔ ہم کمزور ہو چکے تھے‘۔
محمد نذیر اپنے گاؤں سے تعلق رکھنے والے ساتھی جنگجو محمد یوسف کی لاش گھسیٹتے ہوئے پاکستانی پوسٹ پر پہنچے تھے۔
’اس چوکی پر موجود سنتری نے بتایا کہ اس لاش کو گاؤں تک لے جانے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ موجود نہیں۔ پھر کچھ شہری کنٹریکٹرز نے میری مدد کی اور میں یوسف کی لاش اس کے اہل خانہ تک لے جا پایا۔‘
یوسف ایک 23 سالہ نوجوان تھا اور جب وہ جبرالٹر فورس کا حصہ بنا تو اس کی شادی کو ایک برس ہی ہوا تھا۔ ایک جھڑپ میں پسپائی کے دوران یوسف ایک مارٹر گولہ لگنے سے مارا گیا تھا۔
یوسف کی ہلاکت کے وقت ان کی اہلیہ نسا بیگم سات ماہ کی حاملہ تھیں۔

Image copyrightGettyImage captionایک خیال یہ ہے کہ آپریشن جبرالٹر کی ناکامی نے پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان کو توڑ کر رکھ دیا تھاان کا کہنا ہے کہ ’جب وہ دور تھے تو میں ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا کیا کرتی تھی لیکن پھر ایک دن ان کی لاش آئی۔‘
نسا کے مطابق خدا نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ’اس نے مجھے ایک بیٹا دیا اور ہمت دی کہ میں اسے تعلیم دلواؤں، اس کی شادی کروں اور اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھوں۔‘
یہ لڑائی بظاہر نسا بیگم کو توڑنے میں ناکام رہی لیکن بہت سوں کا کہنا ہے کہ اس نے آپریشن جبرالٹر کی اجازت دینے والے پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔
اس جنگ کے بعد ان کا اقتدار کمزور ہوتا گیا اور تین برس بعد انھیں حکومت چھوڑنا پڑی۔ ایوب خان 1974 میں انتقال کرگئے لیکن اپنے پیچھے عسکری مہم جوئی کا ورثہ چھوڑ گئے۔
1965 میں پاکستانی فضائیہ کی کمان کرنے والے ریٹائرڈ ایئر مارشل نور خان نے ڈان اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ برّی فوج نے ’قوم کو ایک بڑا جھوٹ بول کر گمراہ کیا کہ یہ جنگ پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے چھیڑی تھی اور پاکستان کو اس میں بڑی فتح ملی۔‘
ان کے مطابق اب چونکہ اس ’جھوٹ‘ کی تصحیح نہیں کی گئی اس لیے فوج اپنی ہی بنائی ہوئی کہانی پر یقین کرنے لگی ہے اور غیر ضروری جنگیں لڑ رہی ہے۔‘

Re: Myth about winning 1965 War

  1. Do your home work
  2. Blind hatred is a bad thing
  3. It was India that crossed the IB

The central lesson from the 1965 War - Rediff.com India News
India crossed the international border on September 6 and began its advance towards Lahore, the second largest city of Pakistan.

India crossed the International Border on the Western front on 6 September, marking an official beginning of the war

  1. Hare-om and shanti :slight_smile:

Re: Myth about winning 1965 War

Whatever suits you.

Re: Myth about winning 1965 War

The traitorous souls like you can only dream! The dastards Taliban and BLA terrorists are getting what they deserve, your kind is more than welcome to taste the same medicine. Try separating an inch from Pakistan.

India wanted to claim Lahore and Sialkot in 1965, not Bangladesh, so explain how exactly Pakistan lost the war terribly when Indian General's dream of having breakfast in Lahore was blown up in the air?

Re: Myth about winning 1965 War

sithya jana ki angraizi kia hoti hey :cobra:

#sathaya_jana](http://www.paklinks.com/gs/usertag.php?do=list&action=hash&hash=sathaya_jana)

Re: Myth about winning 1965 War

aoe baqi hisay ka sader u ka yeh azeem leeder hoga :cobra:

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-xlf1/v/t1.0-9/11960038_874842472599149_467596510623049521_n.jpg?oh=7a9a8e08a2b376a41f3965c1a7192e26&oe=56625709&__gda__=1453688643_a64b9b37696ada69f9084abfee78fcaf

Re: Myth about winning 1965 War

Certainly not a Pakistani source :chai:

Re: Myth about winning 1965 War

Har koi QAS ki age par kion criticize karta hia?

Re: Myth about winning 1965 War

Sach, operations Gibraltar and Grand Slam were tactically flawed (which no one should question based on India's response). However, the response was met with a stiff resistance from our side with an unmatched unity and fervor. We stood up to aggression to an enemy which outnumbered us heavily. Some of the hallmarks of the war were Operation Dhwarka, the heroics of PNS Ghazi (kali devi as the indians called it), MM Alam's records or the famous tank battle of Chawinda (largest tank battle since WW2 in which Pakistan put forth a graveyard of Indian tanks). Yes, the economic factor played in and the war drained both countries but at least we preserved our existence in the face of an enemy that was meant to capture at least one of our primary cities. I would count that as a victory in my books for the good guys (us) :) A big salute to our soldiers who laid down their lives, the ones that survived to tell the tales of glory and the unmatched support and morale of the civilians during this time.

Re: Myth about winning 1965 War

more than double in numbers, IAF aircrafts downed by PAF with barely 20 to 30 losses for PAF. An airforce more than twice the size of PAF made to run for their lives.