► Murday Key Wakalat ◄

Re: ► Murday Key Wakalat ◄

آخر میں ہم صحیح بخاری میں مذکور روایت بیان کریں گے جس سے تلقین میت کے باب میں تمام اِشکالات اَز خود رفع ہو جائیں گے۔
صحیح بخاری (کتاب المغازی، باب قتل ابی جھل) میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
اَنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم اَمَرَ يوْمَ بَدْرٍ بِاَرْبَعَة وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِیٍّ مِنْ اَطْوَائِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَکَانَ اِذَا ظَهرَ عَلَی قَوْمٍ اَقَامَ بِالْعَرْصَة ثَلَاثَ لَيالٍ. فَلَمَّا کَانَ بِبَدْرٍ الْيوْمَ الثَّالِثَ، اَمَرَ بِرَاحِلَتِه فَشُدَّ عَلَيها رَحْلُها، ثُمَّ مَشٰی وَاتَّبَعَه اَصْحَابُه، وَقَالُوا: مَا نُرٰی ينْطَلِقُ اِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِه حَتّٰی قَامَ عَلٰی شَفَة الرَّکِيِّ، فَجَعَلَ ينَادِيهمْ بِاَسْمَائِهمْ وَاَسْمَائِ آبَائِهمْ: يا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! وَيا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! اَيسُرُّکُمْ اَنَّکُمْ اَطَعْتُمْ اﷲَ وَرَسُولَه. فَاِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يا رَسُولَ اﷲِ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ اَجْسَادٍ لَا اَرْوَاحَ لَها؟ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيدِه! مَا اَنْتُمْ باَسْمَعَ لِمَا اَقُولُ مِنْهمْ.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے روز کفارِ قریش کے چوبیس سرداروں کی لاشوں کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا حکم فرمایا تھا۔ چنانچہ ان گندے لوگوں کو ایک گندے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ جب کسی قوم پر غلبہ حاصل ہوتا تو تین راتیں وہاں قیام فرماتے تھے۔ جب میدان بدر میں تیسرا روز آیا تو اپنی سواری تیار کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی پر کجاوہ کس دیا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے چل دیے اور ان حضرات کا بیان ہے کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ضرورت کے تحت جا رہے ہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کنوئیں کی منڈیر پر جا پہنچے (جہاں کفارِ قریش کو پھینکا گیا تھا) اور ان لوگوں کے نام مع ولدیت لے کر انہیں مخاطب فرمانے لگے : اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا یہ بات تمہیں اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے۔ بے شک ہمارے رب نے ہم سے جس چیز کا وعدہ فرمایا تھا وہ ہمیں حاصل ہوگئی ہے۔ بتاؤ جس کا اس نے تمہارے لیے وعدہ کیا تھا وہ تمہیں ملی ہے یا نہیں؟ راوی کا بیان ہے کہ اس صورت حال پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ایسے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے تم اِن سے زیادہ نہیں سنتے۔‘‘
صحیح بخاری اور دیگر متعدد کتب میں مذکور اِس روایت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ دفن کرنے کے بعد اگر میت کو مخاطب کرنا بے سود ہوتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی بھی کفار سے کلام نہ فرماتے۔ ان کفار کو وہی اَمر یاد دلایا گیا جس پر وہ اِس دنیا میں تھے، جب کہ بندۂ مومن کو اُس اَمر کی تذکیر کی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں ہوتا ہے، یعنی امر توحید و رسالت۔ پس ثابت ہو جاتا ہے کہ مرنے کے بعد میت کو اُس کے عقائد کی تذکیر کرنا نہ صرف مستحب بلکہ ایک مسنون عمل ہے جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے بھی بیان کیا تھا۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا :
مرنے والے مرتے ہیں، لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیںمرنے والوں کی جبیں روشن ہے اُس ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میںConfirm this from the above source mentioned…صحیح بخاری