How many of you Agree with this Act :cobra:
According to him that He is helping dead person to give answers of questions ![]()
How many of you Agree with this Act :cobra:
According to him that He is helping dead person to give answers of questions ![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
Astagfriullah.
What is right take it and what is wrong leave it.
I saw the vdo posted here and i myself contacted the Organization of Allama Tahir ul Haq Qadiri Shahab,for the answer to this vdo here is the reply i got from the organization of the above scholar:
http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1041/تلقین-میت-کے-بارے-میں-شرعی-حکم-کیا-ہے/
ذیل میں ہم تلقین بعد اَز تدفین پر چند واضح روایات پیش کریں گے جس سے نفس مسئلہ کے بارے میں پیدا شدہ اِشکال دور ہوجائے گا اور امام ابن عابدین شامی کے بیان کی تائید و مزید وضاحت بھی ہوجائے گی:
(1) سنن ابن ماجہ:
عبداﷲ بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيمُ الْکَرِيمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ.
’’اپنے مردوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيمُ الْکَرِيمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ کی تلقین کیا کرو۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! کَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ (اِسے زندہ لوگوں کے واسطے پڑھنا کیسا ہے)؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ.
(سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی تلقين الميت لا إله إلا اﷲ، 1 : 465، الرقم : 1446)
’’بہت ہی اچھا ہے، بہت ہی اچھا ہے۔‘‘
اِس روایت کے الفاظ کَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ سے ثابت ہورہا ہے کہ لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ سے مراد فوت شدگان ہیں یعنی حدیث مبارکہ میں بعد اَز وصال / تدفین تلقین کرنے کی ترغیب ہے۔ اگر روایت کو اِس معنی پر محمول نہیں کیا جائے گا تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف سے اِس وضاحتی سوال کی کیا توجیہ ہوگی؟ چوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد اَز وصال تلقین کرنے کا حکم فرما رہے تھے، اِسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا تھا کہ کَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ یعنی اِسے زندہ لوگوں کے لیے پڑھنا کیسا ہوگا!
(2) سنن نسائی :
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
لَقِّنُوا هَلْکَاکُمْ قَوْلَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.
(سنن النسائی، کتاب الجنائز، باب تلقين الميت، 4 : 5، الرقم : 1827)
’’اپنے ہلاک ہوجانے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو۔‘‘
(3) المعجم الکبیر للطبرانی :
امام طبرانی المعجم الکبیر میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
إذا مات أحد من إخوانکم، فنثرتم عليه التراب، فليقم رجل منکم عند رأسه، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يسمع، ولکن لا يجيبثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يستوی جالسا، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يقول : أرشدنا رحمک اﷲ، ولکن لا تشعرونثم ليقل : أذکر ما خرجت عليه من الدنيا، شهادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدا عبده ورسوله، وأنک رضيت باﷲ ربا، وبمحمد نبيا، وبالإسلام دينا، وبالقرآن إمامافإنه إذا فعل ذلک، أخذ منکر ونکير أحدهما بيد صاحبه، ثم يقول له : أخرج بنا من عند هذا ما نصنع به، فقد لقن حجته، ولکن اﷲ لقنه حجته دونهمقال رجل : يا رسول اﷲ! فإن لم أعرف أمه، قال: انسبه إلی حواء.
المعجم الکبير للطبرانی، 8 : 249، الرقم : 7979.
مجمع الزوائد للهيثمی، 2 : 324؛ 3 : 45.
کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال، 15 : 256257، الرقم : 42406
’’جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی فوت ہوجائے اور اسے قبر میں دفن کرچکو تو تم میں سے ایک آدمی اُس کے سرہانے کھڑا ہوجائے اور اسے مخاطب کرکے کہے : اے فلاں ابن فلانہ! بے شک وہ مدفون سنتا ہے لیکن جواب نہیں دیتا۔ پھر دوبارہ مردے کو مخاطب کرتے ہوئے کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس آواز پر وہ بیٹھ جاتا ہے۔ پھر کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس پر وہ مردہ کہتا ہے : اﷲ تم پر رحم فرمائے، ہماری رہنمائی کرو۔ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔ پھر وہ کہے : اُس اَمر کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے رُخصت ہوتے ہوئے تھے اور وہ یہ کہ اِس اَمر کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں؛ اور یہ کہ تو اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغمبر ہونے، اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ جب یہ سارا عمل کیا جاتا ہے تو منکر نکیر میں سے کوئی ایک دوسرے فرشتے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور کہتا ہے : مجھے اِس کے پاس سے لے چلو، ہم اس کے ساتھ کوئی عمل نہیں کریں گے کیونکہ اس کو اِس کی حجت تلقین کر دی گئی ہے۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے اُس کو اُس کی حجت تلقین کی نہ کہ ان لوگوں نے۔ پھر ایک آدمی نے کہا : یا رسول اﷲ! اگر میں اس کی ماں کو نہ جانتا ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر اُسے اماں حواء کی طرف منسوب کرو۔‘‘
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کو ’تلخیص الحبیر (2 : 3536)‘ میں بیان کیا ہے اور اس کے بعد لکھا ہے کہ اس کی اسناد صالح ہیں، جب کہ ضیاء مقدسی نے اسے احکام میں قوی قرار دیا ہے اور اس روایت کے دیگر شواہد بھی موجود ہیں
ابن ملقن انصاری نے ’خلاصۃ البدر المنیر (1 : 274275)‘ میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس کے صرف ایک راوی سعید بن عبد اﷲ کو میں نہیں جانتا، لیکن اس روایت کے کثیر شواہد ہیں جو اسے تقویت بہم پہنچاتے ہیں
(4) امام سیوطی :
امام جلال الدین سیوطی الدر المنثور فی التفسیر بالماثور میں سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 27: يُثَبِّتُ اﷲُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَيٰوة الدُّنْيَا وَفِی الْاٰخِرَة ﴿اللہ ایمان والوں کو (اس) مضبوط بات (کی برکت) سے دنیوی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھی)﴾ کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
وأخرج سعيد بن منصور عن راشد بن سعد وضمرة بن حبيب وحکيم بن عمير قالوا : إذا سوی علی الميت قبره وانصرف الناس عنه، کان يستحب أن يقال للميت عند قبره : يا فلان! قل لا إله إلا اﷲ، ثلاث مرات، يا فلان! قل : ربی اﷲ ودينی الإسلام ونبيی محمد، ثم ينصرف.
’’سعید بن منصور نے راشد بن سعد، ضمرہ بن حبیب اور حکیم بن عمیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جائے اور لوگ واپس جانے لگیں تو مستحب ہے کہ ان میں سے ایک شخص میت کی قبر پر کھڑا ہوکر کہے : اے فلاں! کہہ دو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ تین بار کہے۔ پھر کہے : اے فلاں! کہہ دو کہ میرا رب اﷲ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص بھی واپس چلا جائے۔‘‘
امام جلال الدین سیوطی کا سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 27 کے تفسیر میں اس روایت کو بیان کرنا ہی اس اَمر کی دلیل ہے کہ قبر پر کھڑے ہوکر تلقین کرنے سے مومنین کو منکر نکیر کے سوالات کے جواب دینے میں ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے اور یہ مستحب عمل ہے اور یہی اِس آیت مبارکہ میں بیان کیے گئے الفاظ کا مفہوم ہے
اس کے ساتھ امام سیوطی نے درج ذیل ایک اور روایت بھی بیان کی ہے:
وأخرج ابن منده عن أبی أمامة رضی الله عنه قال : إذا مت فدفنتمونی، فليقم إنسان عند رأسی، فليقل : ياصدی بن عجلان! اذکر ما کنت عليه فی الدنيا شهادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدا رسول اﷲ.
’’ابن مندہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : میرے مرنے کے بعد جب مجھے دفنا چکو تو ایک انسان میری قبر کے سرہانے کھڑا ہوکر کہے : اے صدی بن عجلان! یاد کرو اُس عقیدے کو جس پر تم دنیا میں تھے یعنی اس بات کی گواہی پر کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔‘‘
یہی روایت امام علاؤ الدین ہندی کنز العمال میں ذرا تفصیل کے ساتھ لائے ہیں۔
(5) کنز العمال للہندی :
عن سعيد الأموی، قال : شهدت أبا أمامةوهو فی النزاع، فقال لی : يا سعيد! إذا أنا مت فافعلوا بی کما أمرنا رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم. قال لنا رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : إذا مات أحد من إخوانکم فسويتم عليه التراب فليقم رجل منکم عند رأسه، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يسمع ولکنه لا يجيب، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يستوی جالسا، ثم ليقل يا فلان ابن فلانة! فإنه يقول : أرشدنارحمک اﷲ. ثم ليقل : اذکر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدا عبده ورسوله وأنک رضيت باﷲ ربا وبمحمد نبيا وبالإسلام دينا وبالقرآن إماما، فإنه إذا فعل ذلک أخذ منکر ونکير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له : أخرج بنا من عند هذا ما نصنع به قد لقن حجته فيکون اﷲ حجيجه دونهما. فقال له رجل : يا رسول اﷲ! فإن لم أعرف أمه، قال : انسبه إلی حواء.
(کنز العمال، 15 : 311312، الرقم : 42934)
’’سعید اُموی روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ کے پاس حاضر ہوا درآں حالیکہ وہ حالتِ نزع میں تھےانہوں نے مجھے فرمایا : اے سعید! جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ وہی کچھ کرنا جس کا حکم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا ہے۔ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی فوت ہوجائے اور اسے قبر میں دفن کرچکو تو تم میں سے ایک آدمی اُس کے سرہانے کھڑا ہوجائے اور اسے مخاطب کرکے کہے : اے فلاں ابن فلانہ! (فلانہ مؤنث کا صیغہ ہے جس سے مراد ہے کہ اسے اُس کی ماں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا۔) بے شک وہ مدفون سنتا ہے لیکن جواب نہیں دیتا۔ پھر دوبارہ مردے کو مخاطب کرتے ہوئے کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس آواز پر وہ بیٹھ جاتا ہے۔ پھر کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس پر وہ مردہ کہتا ہے : اﷲ تم پر رحم فرمائے، ہماری رہنمائی کرو۔ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔ پھر وہ کہے : اُس اَمر کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے رُخصت ہوتے ہوئے تھے اور وہ یہ کہ اِس اَمر کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں؛ اور یہ کہ تو اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغمبر ہونے، اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ جب یہ سارا عمل کیا جاتا ہے تو منکر نکیر میں سے کوئی ایک دوسرے فرشتے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور کہتا ہے : مجھے اِس کے پاس سے لے چلو، ہم اس کے ساتھ کوئی عمل نہیں کریں گے کیونکہ اس کو اِس کی حجت تلقین کر دی گئی ہے۔ سو اﷲ تعالیٰ اس کی حجت بیان کرنے والا ہوگا منکر نکیر کے علاوہ۔ پھر ایک آدمی نے کہا : یا رسول اﷲ! اگر میں اس کی ماں کو نہ جانتا ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر اُسے اماں حواء کی طرف منسوب کرو۔‘‘
اِمام ہندی کہتے ہیں کہ اِس روایت کو ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
(6) ابن رجب الحنبلی :
حافظ ابن رجب الحنبلی أهوال القبور وأحوال أهلها إلی النشورمیں لکھتے ہیں :
حدثنی بعض إخوانی أن غانما جاء المعافی بن عمران بعد ما دفن، فسمعه وهو يلقن فی قبره، وهو يقول : لا إله إلا اﷲ. فيقول المعافی : لا إله إلا اﷲ.
’’ہمارے بھائیوں میں سے ایک نے روایت کیا ہے کہ غانم، معافی بن عمران کے پاس اُس وقت آئے جب انہیں دفن کیا جا چکا تھا۔ پس اُسے سنا گیا جب کہ اُسے قبر میں تلقین کی جارہی تھی۔ تلقین کرنے والا کہ رہا تھا : لا إله إلا اﷲاور معافی بن عمران بھی جواباً کہ رہے تھے : لا إله إلا اﷲ۔‘‘
علاوہ ازیں ابن رجب الحنبلی نے کئی اور روایات بھی بیان کی ہیں جن سے مردے کو دفن کرنے کے بعد تلقین کیا جانا ثابت ہوتا ہے۔ نیز امام ابن ابی الدنیا اور امام سیوطی نے اِس موضوع پر متعدد روایات اپنی کتب میں ذکر کی ہیں۔
(7) ابن عابدین شامی :
امام شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قد روی عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم أنه أمر بالتلقين بعد الدفن، فيقول : يا فلان بن فلان! اذکر دينک الذی کنت عليه من شهادة أن لا إله اللہ وأن محمد رسول اللہ، وأن الجنة حق والنار حق، وأن البعث حق وأن الساعة آتية لا ريب فيها، وأن اللہ يبعث من فی القبور وأنک رضيت باللہ ربا وبالاسلام دينا، وبحمد صلی الله عليه وآله وسلم نبيا وبالقرآن إماما وبالکعبة قبلة، وبالمؤمنين إخوانا.
(ابن عابدين شامی، رد المحتار، 2 : 191)
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تدفین کے بعد مردے کو تلقین کرو، تلقین کرنے والا میت کو یہ کہے : اے فلاں کے بیٹے! یاد کرو وہ دین جس پر تم دنیا میں تھے یعنی اِس اَمر کی گواہی کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جنت اور دوزخ کے ہونے اور قیامت کے قائم ہونے پر جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل قبور کو اٹھائے گا اور تم اللہ کو رب مانتے تھے، اسلام کو دین مانتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے تھے، کعبہ کو قبلہ اور تمام مسلمانوں کو بھائی مانتے تھے۔‘‘
پھر فرماتے ہیں:
لا نهی عن التلقين بعد الدفن لأنه لا ضرر فيه، بل فيه نفع، فإن الميت يستأنس بالذکر علی ما ورد فيه الآثار.
’’تدفین کے بعد تلقین سے منع نہیں کیا جائے گا اِس لیے کہ اِس میں (یعنی مردے کو تلقین کرنے میں) کوئی حرج نہیں بلکہ سراسر فائدہ ہے کیوں کہ میت ذِکر اِلٰہی سے مانوس ہوتی ہے جیسا کہ آثارِ صحابہ سے واضح ہے۔‘‘
(8) امام ابو داؤد :
امام ابو داؤد السنن کی کتاب الجنائز کے باب الاستغفار عند القبر للميت فی وقت الانصراف (قبر کے پاس دفن کے بعد] واپس مڑنے سے قبل میت کے لئے استغفار) میں ایک اور حدیث روایت کرتے ہیں :
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيتِ، وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيکُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ.
’’حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب میت کو دفن کر کے فارغ ہوجاتے تو وہاں کھڑے ہوکر فرماتے : اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا مانگو، کیونکہ اب اِس سے سوالات ہوں گے۔‘‘
علامہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
(9) ملا علی قاری :
ملا علی قاری اپنی کتاب مرقاۃ المفاتیح (1 : 327) میں اِس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
وقال ابن حجر: وفيه إيماء إلی تلقين الميت بعد تمام دفنه وکيفيته مشهورة، وهو سنة علی المعتمد من مذهبنا خلافاً لمن زعم انه بدعة کيف. وفيه حديث صريح يعمل به فی الفضائل اتفاقاً بل اعتضد بشواهد يرتقی بها إلی درجة الحسن.
’’حافظ ابن حجر عسقلانی کا کہنا ہے کہ اِس روایت میں میت کو دفن کر چکنے کے بعد تلقین کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور ہمارے مذہبِ (اَہل سنت و جماعت) کے مطابق یہ معتمد سنت ہے۔ بخلاف اِس قول کے کہ یہ بدعت (سیئہ) ہے۔ اور اس ضمن میں واضح حدیث بھی موجود ہے، جس پر فضائل کے باب میں بالاتفاق نہ صرف عمل کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے اتنے شواہد و توابع ہیں جو اسے درجہ حسن تک پہنچا دیتے ہیں۔‘‘
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
خلاصہ کلامدنیاوی زندگی ختم ہونے پر اِنسان کے لیے دو وقت بڑے خطرناک ہیں : ایک حالتِ نزع کا؛ دوسرا تدفین کے بعد قبر میں ہونے والے سوالات کا۔ اگر مرتے وقت خاتمہ بالخیر نصیب نہ ہوا تو عمر بھر کا کیا دھرا سب برباد گیا اور اگر قبر کے امتحان میں ناکامی ہوئی تو اُخروی زندگی برباد ہوگئی۔ اِس لیے زندہ لوگوں کو چاہیے کہ ان کٹھن مراحل میں اپنے پیاروں کی بھرپور مدد کریں کہ مرتے وقت اس کے پاس کلمہ پڑھتے رہیں اور بعد اَز دفن بھی کلمہ پڑھتے رہیں تاکہ وہ اِس امتحان میں بھی کام یاب ہوجائے۔
آخر میں ہم صحیح بخاری میں مذکور روایت بیان کریں گے جس سے تلقین میت کے باب میں تمام اِشکالات اَز خود رفع ہو جائیں گے۔
صحیح بخاری (کتاب المغازی، باب قتل ابی جھل) میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
اَنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم اَمَرَ يوْمَ بَدْرٍ بِاَرْبَعَة وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِیٍّ مِنْ اَطْوَائِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَکَانَ اِذَا ظَهرَ عَلَی قَوْمٍ اَقَامَ بِالْعَرْصَة ثَلَاثَ لَيالٍ. فَلَمَّا کَانَ بِبَدْرٍ الْيوْمَ الثَّالِثَ، اَمَرَ بِرَاحِلَتِه فَشُدَّ عَلَيها رَحْلُها، ثُمَّ مَشٰی وَاتَّبَعَه اَصْحَابُه، وَقَالُوا: مَا نُرٰی ينْطَلِقُ اِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِه حَتّٰی قَامَ عَلٰی شَفَة الرَّکِيِّ، فَجَعَلَ ينَادِيهمْ بِاَسْمَائِهمْ وَاَسْمَائِ آبَائِهمْ: يا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! وَيا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! اَيسُرُّکُمْ اَنَّکُمْ اَطَعْتُمْ اﷲَ وَرَسُولَه. فَاِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يا رَسُولَ اﷲِ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ اَجْسَادٍ لَا اَرْوَاحَ لَها؟ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيدِه! مَا اَنْتُمْ باَسْمَعَ لِمَا اَقُولُ مِنْهمْ.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے روز کفارِ قریش کے چوبیس سرداروں کی لاشوں کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا حکم فرمایا تھا۔ چنانچہ ان گندے لوگوں کو ایک گندے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ جب کسی قوم پر غلبہ حاصل ہوتا تو تین راتیں وہاں قیام فرماتے تھے۔ جب میدان بدر میں تیسرا روز آیا تو اپنی سواری تیار کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی پر کجاوہ کس دیا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے چل دیے اور ان حضرات کا بیان ہے کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ضرورت کے تحت جا رہے ہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کنوئیں کی منڈیر پر جا پہنچے (جہاں کفارِ قریش کو پھینکا گیا تھا) اور ان لوگوں کے نام مع ولدیت لے کر انہیں مخاطب فرمانے لگے : اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا یہ بات تمہیں اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے۔ بے شک ہمارے رب نے ہم سے جس چیز کا وعدہ فرمایا تھا وہ ہمیں حاصل ہوگئی ہے۔ بتاؤ جس کا اس نے تمہارے لیے وعدہ کیا تھا وہ تمہیں ملی ہے یا نہیں؟ راوی کا بیان ہے کہ اس صورت حال پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ایسے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے تم اِن سے زیادہ نہیں سنتے۔‘‘
صحیح بخاری اور دیگر متعدد کتب میں مذکور اِس روایت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ دفن کرنے کے بعد اگر میت کو مخاطب کرنا بے سود ہوتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی بھی کفار سے کلام نہ فرماتے۔ ان کفار کو وہی اَمر یاد دلایا گیا جس پر وہ اِس دنیا میں تھے، جب کہ بندۂ مومن کو اُس اَمر کی تذکیر کی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں ہوتا ہے، یعنی امر توحید و رسالت۔ پس ثابت ہو جاتا ہے کہ مرنے کے بعد میت کو اُس کے عقائد کی تذکیر کرنا نہ صرف مستحب بلکہ ایک مسنون عمل ہے جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے بھی بیان کیا تھا۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا :
مرنے والے مرتے ہیں، لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیںمرنے والوں کی جبیں روشن ہے اُس ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
^ Brother, please ask them to also explain the following video and many others like these posted on youtube. Even if we ignore the dancing and music in it, how can we ignore the sajda part. Even the Prophet (saw) didn’t ask people to do sajda to him.
Kazzab Tahir-ul-Qadri Khud Ko Sajda Karwate Hue - YouTube
p.s. Before copy pasting their reply please do think yourself as well, if their reply makes sense to your common sense (on the basis of your knowledge of Quran and Hadith) ? Usually I don’t like criticizing, but when a person is making fool of thousands then it is duty to every Muslim to warn people of the fitna that is created in the name of Islam.
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
I"m sure these people ll defend Sajda to other people as well (nauzbillah) :smack2:
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
Here is the real definition of Talqeen by Peer Syed Irfan Shah Mashhadi
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
aur appko kitna bhi Ahdees aur Saha e sita ki books ka hawala diya jayai app ka haal yeahi rahai ga ..Afsoos…
apjaisai log without confirmatiob ilzam lagatein hain jaisai kai app log koyi ALIMs hoon…i will defend very ALIM wich is worth respecting not only him…
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
mr or mrs Soil u joined the forum at 14april…hmm gud new member,lagta hai yea bhi mr sannan ki aik multi hai..:biggthumb: aur agar nai hai tho koyi baat nai hai im sure appkai pass bhi internet ka connection hoga why dont u ask urself from the scholar…insaan jab kissi kcheez ko dekhta hai thi usski tehkeeq bhi karta hai ya indhoon ki terhaaan taqleed shurooh kardaita hai…:smack: ,mein iss terhaan ki bai shumar vdos dekh chkein hoon different ppl kai liyai banayein jateen hain unka image detroy karnai kai liyai…don waste ur time try to get answers urself…
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
so he’s ur mentor…gud
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
pehlai tho app telqeen ko man hi nahi rahai thai,balkai murdai ki wakalt kai naam sai appnai thread start kia …pehlai app appni tashi karein…iss vdo mein bhi talqeen ko shariyat sai jayaiz qarar diya gaya hai…yahan app nai jo vdo Tahir ul Haq Qadiri shahb ki di thi us mein bhi koyi drama nahi tha,seedha sa unhein qaber per talqeen bad az marg kartai huyai dekhaya gaya …balkai unhoon nai tho logon ko dor kardiya takai aisi koyi surat na paih ayai jissai yea lagai kai logon ko mehez dekhanai kai liyai yea sab kiya jaraha hoo…
**change ur threads name to…Islam mein Talqeen ki Sharayai Hasiyat…
now fact of the matter is yea murdai ki wakalt nai the,balkai talqeen thi jo kai jayeiz hai shariyat mein iss kai barein mein ahkamat wazeh hain…secondly app tho pehlai man hi nai rahai thai ,ab jab appko hawalajat dekhyai gayai tho app new vdo dhondh kar lai ayai…
**
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
lagta hai app ko histeria ka attack huya hai :Dim sure ur the mr sannan’s multi..
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
He is not my mentor ![]()
but he is from the same Firqa :cobra: Ahle-e-hadess, Brailvi, Deobandi and zakir naik every one said he is wrong so inn ka kounsa masluk hay mujhay bata dain ![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
Apnay matlub key gharai ghari cheezain to har koi lay kar aa jata hay aur copy paste karnay main koi harj naheen daleel wohi hoti hay jo short and sense walli ho :cobra:
Tamam Ulma aik taraf aur aap kay yah Aalim aik taraf
aap ka kuch naheen ho sakta hay aab ![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
aap to phir Shaikhni Islaam Nikleen
![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
Mairi Multi kia howa aap ko
Inn key batain ghour say mat parhain warnah yahi haal ho jay ga ![]()
aap par tou Kashaf bhi honay laga ![]()
waisay aap key purani multi kia thi ![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
Knock knock.. kia ye cafe hai ![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
Kia cafe aur poetry kay illawa kaheen par hansana mana hay ![]()
Re: ► Murday Key Wakalat ◄
Nahin Murdon wale thread main hansna mana hai ![]()