Re: 'MQM unit member' arrested in London in connection with Imran Farooq murder
Z A Bhutto , Benazir Bhutto even Murtaza Bhutto were killed by using Punjabi police , Even five Punjabi judges of those days SC and Lahore High court were also involved in murder of ZA Bhutto and you are willing more
Well, that is what I heard and that is possibility. Who is going to stop Gullu Nawaz using Punjab police to kill Zardari, Bilawal and top PPP Punjabi leadership ... and then no FIR or court cases?
Obviously Zardari, Bilawal and all top PPP leadership in graves would make Nawaz politically stronger in Punjab and Pakistan.
It is also possible that Nawaz might get Asifa and Bakhtawar kidnapped to keep them slave for few days, and then kill them too ... without any FIR, and that would not be problem too.
It is also possible that Nawaz might get Imran killed too and no FIR, but that is different matter.
Waisay aap ko kiya pareeshani hay yea faraq parta hay?
I believe you support killing by Nawaz whoever he wants to, and no right of FIR for victims.
Re: ‘MQM unit member’ arrested in London in connection with Imran Farooq murder
Bhai … Imran Farooq was killed long time ago in dark alley, and even today police is searching for his killer.
Thing that amaze me … is the way Murderer Nawaz used to kill number of innocent people in broad daylight, in front of whole world through the eyes of TV camera, using Gullus wearing police uniform. still no FIR nor court cases. … What a foolproof and miraculous ways Thug Nawaz the terrorist and convicted hijacker has when killing innocent people.
If anyone wanted to kill Imran Farooq than why they did not do the way Thug Nawaz does. But then, Thug Nawaz is King and King is King
عمران فاروق کو ستمبر 2010 میں لندن میں ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا
برطانوی دارالحکومت لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے کیس میں مشرقی لندن کے علاقے والتھم سٹو سے ایک 30 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔
سکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام نے بی بی سی کو گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے تاہم ملزم کی شناخت بتانے سے انکار کیا ہے، لیکن ان کے بقول اسے تفتیش کے لیے مرکزی لندن کے پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔
**اسی بارے میں**
**متعلقہ عنوانات**
متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما محمد انور نے تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم برطانیہ کے ایک کارکن کو لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔
بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوۓ محمد انور کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کے کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس وقت ہمارے وکلا پولیس سٹیشن میں موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے کارکن کوئی بڑے رہنما نہیں ہیں اور ہم اس وقت صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
لندن پولیس کے مطابق عمران فاروق قتل میں مطلوب دو افراد کاشف خان کامران اور محسن علی سید قتل کے بعد برطانیہ سے فرار ہو گئے تھے۔ "ہمارے کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس وقت ہمارے وکلا پولیس سٹیشن میں موجود ہیں۔ گرفتار ہونے والے کارکن کوئی بڑے رہنما نہیں ہیں اور ہم اس وقت صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔"
محمد انور
اس سے پہلے رواں سال مئی میں میٹروپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس میں مطلوب دو افراد کی تصاویر جاری کی تھیں۔
میٹ پولیس کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تصاویر کے مطابق 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہے جب کہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچے تھے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق دونوں افراد شمالی لندن کے علاقے سٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے۔
یاد رہے کہ چند ماہ قبل لندن پولیس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر 2012 کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا۔
اس چھاپے کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے اس رقم کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ یہ رقم پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لی گئی۔
پولیس نے 18 جون 2013 کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت مارا گیا تھا اور اس میں پولیس نے ’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔ پولیس نے سرکاری طور پر ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنی تھی۔
**لندن پولیس کی تفتیش**
چند ماہ قبل بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
چند ماہ قبل بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کے کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
ستمبر سنہ 2010 میں لندن کے شمالی علاقے میں ڈاکٹر عمران فاروق کو ان کے گھر کے باہر سر پر اینٹ کا وار کر کے اور پھر پیٹ میں چھری مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اطلاعات تھیں کہ میٹرو پولیٹن پولیس نے اس قتل کے سلسلے میں چار ہزار افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی ہے جن میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے بھتیجے افتخار حسین کو عارضی طور پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
میٹروپولیٹن پولیس سروس کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزاد سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس کا خیال تھا کہ وہ اپنا سیاسی کریئر از سرِ نو شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ پولیس اس سلسلے میں ان کے جولائی 2010 میں بنائے گئے نئے فیس بک پروفائل اور بہت سے نئے روابط کو اہم قرار دے رہی تھی۔
](http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/08/140827_imran_farooq_case_arrest_zz.shtml#page-top)