'MQM unit member' arrested in London in connection with Imran Farooq murder

Re: 'MQM unit member' arrested in London in connection with Imran Farooq murder

Well, that is what I heard and that is possibility. Who is going to stop Gullu Nawaz using Punjab police to kill Zardari, Bilawal and top PPP Punjabi leadership ... and then no FIR or court cases?

Obviously Zardari, Bilawal and all top PPP leadership in graves would make Nawaz politically stronger in Punjab and Pakistan.

It is also possible that Nawaz might get Asifa and Bakhtawar kidnapped to keep them slave for few days, and then kill them too ... without any FIR, and that would not be problem too.

It is also possible that Nawaz might get Imran killed too and no FIR, but that is different matter.

Waisay aap ko kiya pareeshani hay yea faraq parta hay?

I believe you support killing by Nawaz whoever he wants to, and no right of FIR for victims.

Re: ‘MQM unit member’ arrested in London in connection with Imran Farooq murder

ofoh… bachon ki tarah zardari aur bilwal ko mar rahay ho… :smack:

Topic is MQM unit member involvemnt in Imran Farooq murder case…

Re: ‘MQM unit member’ arrested in London in connection with Imran Farooq murder

Bhai … Imran Farooq was killed long time ago in dark alley, and even today police is searching for his killer.

Thing that amaze me … is the way Murderer Nawaz used to kill number of innocent people in broad daylight, in front of whole world through the eyes of TV camera, using Gullus wearing police uniform. still no FIR nor court cases. :slight_smile: … What a foolproof and miraculous ways Thug Nawaz the terrorist and convicted hijacker has when killing innocent people.

If anyone wanted to kill Imran Farooq than why they did not do the way Thug Nawaz does. But then, Thug Nawaz is King and King is King :slight_smile:

Re: 'MQM unit member' arrested in London in connection with Imran Farooq murder

According to news, man arrested is released on bail. Shows that police do not have concrete evidence against the suspect. So, search is going on.

But what about murderers in Pakistan? No FIR, no cases, and no court justice. :)

Mazlum Aah bhie kartay hain tou ban jatay hain terrorists
Thug Nawaz Qatal bhie karta hay tou adalat hay khamosh

Re: ‘MQM unit member’ arrested in London in connection with Imran Farooq murder

??? - ?BBC Urdu? - ??? ??? ??? ???: ??? ??? ??? ?? ??? ???](عمران فاروق قتل کیس: ایم کیو ایم کا کارکن گرفتار - BBC News اردو
عادل شاہ زیب
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

                               آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 اگست 2014 ,* 13:46 GMT 18:46 PST                   
  •          پرنٹ کریں](http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/08/140827_imran_farooq_case_arrest_zz.shtml?print=1)
    

عمران فاروق کو ستمبر 2010 میں لندن میں ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا

                  برطانوی دارالحکومت لندن کی  میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق  کے قتل کے کیس میں مشرقی لندن کے علاقے والتھم سٹو سے ایک 30 سالہ شخص کو  گرفتار کیا ہے۔
                  سکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام نے بی بی سی کو گرفتاری کی  تصدیق تو کی ہے تاہم ملزم کی شناخت بتانے سے انکار کیا ہے، لیکن ان کے  بقول اسے تفتیش کے لیے مرکزی لندن کے پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔
                                           **اسی بارے میں**

                  
                     **متعلقہ عنوانات**

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما محمد انور نے تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم برطانیہ کے ایک کارکن کو لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔

                  بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوۓ محمد انور کا کہنا  تھا کہ ’ہمارے کے کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس وقت ہمارے وکلا پولیس  سٹیشن میں موجود ہیں۔‘
                  انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے کارکن کوئی بڑے رہنما نہیں ہیں اور ہم اس وقت صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
                  لندن پولیس کے مطابق عمران فاروق قتل میں مطلوب دو افراد کاشف خان کامران اور محسن علی سید قتل کے بعد برطانیہ سے فرار ہو گئے تھے۔                                     "ہمارے  کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس وقت ہمارے وکلا پولیس سٹیشن میں موجود  ہیں۔ گرفتار ہونے والے کارکن کوئی بڑے رہنما نہیں ہیں اور ہم اس وقت صورتِ  حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔"

محمد انور

                  اس سے پہلے رواں سال مئی میں میٹروپولیٹن پولیس نے  متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس میں مطلوب دو  افراد کی تصاویر جاری کی تھیں۔
                  میٹ پولیس کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تصاویر کے  مطابق 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہے  جب کہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچے  تھے۔
                  میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق دونوں افراد شمالی  لندن کے علاقے سٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام  ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے۔
                  یاد رہے کہ چند ماہ قبل لندن پولیس نے بی بی سی کو  بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں انسداد  دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر 2012 کو  پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا۔
                  اس چھاپے کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی  تھی۔ پولیس نے اس رقم کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی تاہم  پولیس کا کہنا تھا کہ یہ رقم پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لی  گئی۔
                  پولیس نے 18 جون 2013 کو شمالی لندن کے دو گھروں  پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت  مارا گیا تھا اور اس میں پولیس نے ’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی  تھی۔ پولیس نے سرکاری طور پر ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنی تھی۔
                                                                       **لندن پولیس کی تفتیش**

                                                                                         چند ماہ قبل بی بی سی کے پروگرام  نیوزنائٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے  قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر  عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی  کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
                           
                        
                     
                  
                  چند ماہ قبل بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں بی  بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں  اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس  کے علاوہ منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کے کارکنوں کو تشدد  پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
                  ستمبر سنہ 2010 میں لندن کے شمالی علاقے میں ڈاکٹر  عمران فاروق کو ان کے گھر کے باہر سر پر اینٹ کا وار کر کے اور پھر پیٹ  میں چھری مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
                  اطلاعات تھیں کہ میٹرو پولیٹن پولیس نے اس قتل کے  سلسلے میں چار ہزار افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی ہے جن میں متحدہ قومی  موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے بھتیجے افتخار حسین کو عارضی طور پر گرفتار  بھی کیا گیا تھا۔
                  میٹروپولیٹن پولیس سروس کے حوالے سے یہ بھی کہا  جاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزاد سیاسی  ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
                  پولیس کا خیال تھا کہ وہ اپنا سیاسی کریئر از سرِ  نو شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ پولیس اس سلسلے میں ان کے جولائی  2010 میں بنائے گئے نئے فیس بک پروفائل اور بہت سے نئے روابط کو اہم قرار  دے رہی تھی۔
               
            
                                                               ](http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/08/140827_imran_farooq_case_arrest_zz.shtml#page-top)