mera to bus zewar tum

[RIGHT]جو مڑ کے پیچھے کبھی ہم نے دیکھا
تو یادوں کے جھروکوں سے
اجلی اجلی روشن صبحیں
ساری پیاری پیاری شامیں
پیار میں ڈوبی سیاہ راتیں
اور ان سب کے ہو محور تم
نام تمہارے جیون میرا
میرا ہو بس زیور تم
(شگفتہ شفیق)

[/RIGHT]

Re: mera ho bus zewar tum

koe nai ji asli asli hota hy :halo:

Re: mera to bus zewar tum

Nice