[RIGHT]یزدگرد سوم 632ء سے لے کر 651ء تک ایران کا فرمانروا رہا۔ تا آنکہ دوسرے خلیفہ عمر بن خطاب کے اسلامی لشکر نے ایران کو روند ڈالا۔ جنگ قادسیہ میں ایرانی فوج کی شکستکے بعد عمر بن خطاب نے یزدگرد سوم کو اسلام قبول کرنے اور بیعت کرنے کا پیغام بھیجا اور یزدگرد نے اس کا کیا جواب دیا۔ یہ خطوط اسی بات چیت کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان خطوط کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ برطانوی میوزیم میں موجود ہیں۔ یوٹیوب پر بھی ایک آدھ فائل میں ان خطوط کا عکس دکھایا جاتا ہے۔ آپ سب دوستوں کیلئے ان خطوط کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
عمر بن الخطاب کا ایراانی سلطنت کے شہشاہ یزد گرد سوم کے نام
یزد گرد، مجھے تمہارا اور تمہاری قوم کا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا، تا آنکہ تم میری بیعت کر لو۔ ایک وقت تھا کہ تم آدھی دنیا پر حکومت کرتے تھے، لیکن اب کس حال میں پہنچ گئے ہو۔ تمہاری فوجیں ہر محاذ پر شکست کھا چکی ہیں، تمہاری قوم تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ میں تمہیں اپنے آپ کو بچانے کی دعوت دیتا ہوں۔ خدائے واحد کی عبادت کرنا شروع کر دو، خدائے واحد جس نے کائنات کے اندر ہر چیز کو تخلیق کیا۔ ہم تمہارے اور دنیا کے پاس اسی سچے خدا کا پیغام لائے ہیں۔ آگ کی پوجا کرنا بند کر دو، اپنی قوم کو حکم دو کہ آگ کی پوجا بند کرے کیونکہ وہ ایک جھوٹ ہے۔ ہمارے ساتھ مل کر سچ میں شمولیت اختیار کرو۔ اللہ اکبر کی عبادت کرو، بس وہی سچا خدا اور کائنات کا خالق ہے۔ اللہ کی عبادت کرو، اور اسلام قبول کرو کہ اسی میں تمہاری نجات ہے۔ اپنے کافرانہ اطوار ختم کر دو، جھوٹ کی عبادت بند کر دو، اسلام قبول کرو، اللہ اکبر کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کرو۔ یہی ایک واحد طریقہ ہے جس سے تم اپنی جان بچا سکتے ہو اورایرانیوں کیلئے امن بھی حاصل کر سکتے ہو۔ اگر تم عجم کی بھلائی چاہتے ہو تو یہی راستہ اختیار کرو گے، بیعت کرنا ہی واحد راستہ ہے
اللہ اکبر
خلیفۃالمسلمین
عمر بن الخطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہوں کے شاہ، فارس اور بعید کے شاہ، کئی ملکوں کے شاہ، فارسی سلطنت کے شاہ، یزدگرد سوم کی جانب سے تازی (عربی) خلیفہ عمر بن خطاب کے نام
آہور مزدا کے نام، جو حیات و عقل کا خالق ہے****تم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ تم ہمیں اپنے خدا، اللہ اکبر کی راہ پر لانا چاہتے ہو۔ جب کہ تمہیں علم نہیں کہ ہم کون ہیں اور کس کی عبادت کرتے ہیں. یہ بات حیران کن ہے کہ تم عربوں کے حاکم ہو لیکن تمہارا علم صحرا میں گھومنے والے ایک عرب دیہاتی اور صحرائی بدو کی طرح محدود ہے۔
حقیر انسان، تم مجھے خدائے واحد کی عبات کی ہدایت دے رہے ہو جب کہ تمہیں اس بات کا علم تک نہیں کہ ہزاروں سالوں سے ایرانی لوگ خدائے واحد کی عبات کر رہے ہیں، وہ پانچ دفعہ خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ثقافت و فن کے اس ملک میں یہ طریقہ سالوں سے رائج ہے۔
جب ہم نے مہمان نوازی کی روایات اور اچھے کردار کو دنیا میں رائج کیا، جب ہم اپنے ہاتھوں میں “اچھے خیالات، اچھی گفتار، اور اچھے کردار” کا پرچم لہرا رہے تھے، اس وقت تمہارے اباؤاجداد صحرا میں گھومتے تھے اور تمہارے پاس چھپکلیاں کھانے کے علاوہ کچھ نہ ہوا کرتا تھا۔ اور تم اپنی معصوم بچیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے۔
تازی(عربی) لوگوں کے پاس خدا کی پیدا کردہ مخلوق کیلئے کوئی اخلاقی قدریں نہیں ہیں۔ تم خدا کی مخلوق کے گلے کاٹتے ہو، حتیٰ کہ قیدیوں کو بھی معاف نہیں کرتے، عورتوں کی عصمت دری کرتے ہو، اپنے بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے ہو، قافلوں پر حملے کرتے ہو۔ قتل عام کرتے ہو، مردوں اور عورتوں کو اغوا کرتے ہو، ان کی جائیداد پر قبضہ کر لیتے ہو۔ تمہارا دل پتھر کا بنا ہوا ہے۔ ہم ان تمام برائیوں کی مذمت کرتے ہیں جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔ تم ایسی حرکات کے ارتکاب کے بعد ہمیں کس منہ سے خدائی راہ دکھانا چاہ رہے ہو
تم مجھے آگ کی عبادت ترک کرنے کا کہہ رہے ہو۔ ہم ایرانیوں کو آگ کی تپش اور سورج کی روشنی میں خالق کی محبت اور قوت دکھائی دیتی ہے۔ آگ اور سورج کی روشنی ہمیں سچائی کی روشنی دکھاتی ہے۔ اور ہمارے دلوں کو خدا سے محبت اور ایک دوسرے سے محبت کا درس دیتی ہے۔ یہ ہمیں ایک دوسرے سے بھلائی کرنا سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں روشنی دیتی ہے اور ہمارے دلوں میں مزدا ( کی محبت) کا شعلہ جلائے رکھتی ہے۔ ہمارا خدا آہور مزدا ہے اور یہ بہت عجیب بات ہے کہ تم لوگوں نے ابھی ابھی خدا دریافت کیا اور اسے اللہ اکبر کا نام دے دیا۔ لیکن ہم تم جیسے نہیں ہیں۔ ہم اور تم ایک ہی سطح پر نہیں ہیں۔ ہم دوسرے انسانوں کی مدد کرتے ہیں، ہم انسانوں کے درمیان محبت بانٹتے ہیں، ہم پوری دنیا میں بھلائی پھیلاتے ہیں۔ ہم ہزاروں سالوں سے دوسری ثقافتوں کو عزت دیتے ہوئے اپنی ثقافت پھیلا رہے ہیں۔ لیکن تم اللہ کے نام پر دوسروں کی زمین پر حملے کرتے ہو، تم قتل عام کرتے ہو، اور دوسروں کیلئے قحط، غربت اور خوف کی فضا پیدا کرتے ہو۔ تم اس اللہ کے نام سے برائی پھیلاتے ہو، جو ان تمام تباہیوں کا ذمہ دار ہے
کیا یہ اللہ ہے جو تمہیں قتل، لوٹ مار اور تباہی کا حکم دیتا ہے؟ کیا تم اللہ کے ماننے والے اس کے نام پر یہ سب کچھ کرتے ہو، یا یہ دونوں کی وجہ سے ہے۔
تم صحرا کی تپش سے اٹھے اور ہماری زرخیز زمینوں کا جلا کر راکھ کر دیا۔ تم اپنی عسکری مہمات اور تلوار کی قوت سے اللہ کی محبت سکھانے نکلے ہو! تم صحرائی وحشی ہو، ہم جیسے ہزاروں سالوں شہروں میں مقیم لوگوں کو تم خدا کی محبت سکھانے نکلے ہو! ہم ہزاروں سال پرانی طاقتور ثقافت کے امین ہیں جو ہماری طاقت کا سرچشمہ ہے۔ مجھے بتاؤ کہ اللہ اکبر کے نام سے شروع کرنے والی جنگی مہموں، بربریت، قتل اور لوٹ مار سے تم نے مسلمان لشکر کو کیا سکھایا ہے۔ تم نے مسلمانوں کو کونسا علم سکھایا ہے جو اب غیر مسلموں کو سکھانے پر اصرار کر رہے ہو۔ تم نے اللہ سے کونسی تہذیب سیکھی ہے جسے دوسروں کو زبردستی سکھانا چاہ رہے ہو؟
حیف، صد حیف، آج آہور مزدا کی ایرانی فوج تمہارے اللہ کو پوجنے والی فوج سے شکست کھا گئی۔ اب ہمارے لوگوں کو اسی خدا کی عبادت کرنا ہو گی، وہی دن میں پانچ بار عبادت کرنا ہو گی لیکن ایک ایسے خدا کی عبادت کرنا ہو گی جسے تلوار کے زور پر تسلیم کروایا گیا ہے۔ اللہ، اس کی عربی زبان میں عبادت کرو کیونکہ تمہارے اللہ کو صرف عربی آتی ہے۔
میرا مشورہ ہے کہ تم اور تمہارے لٹیرے اپنا سامان باندھیں اور واپس صحرا میں چلے جائیں جہاں وہ رہتے آئے ہیں۔ انہیں وہاں واپس لے جاؤ جہاں وہ دھوپ کی تپش میں جلتے، ایک قبائلی زندگی گزارتے، چھپکلیاں کھاتے اور اونٹنی کا دودھ پیا کرتے تھے۔ میں تمہیں اور تمہارے چوروں اور لٹیروں کے ٹولے کو کو کہتا ہوں کہ ہمارے زرخیز زمینوں، مہذب شہروں اور عظیم قوم کو چھوڑ دو۔ ہمارے مردوں کو قتل کرنے، ہماری عورتوں اور بچوں کو اغوا کرنے، ہماری بیویوں کی عصمت دری کرنے اور ہماری بیٹیوں کو باندیاں بنا کر مکہ بھیجنے کیلئے ان ان پتھر دل وحشیوں کو کھلا مت چھوڑو۔ اللہ اکبر کے نام پر انہیں ایسے جرائم کرنے کیلئے کھلا مت چھوڑو۔ اپنی مجرمانہ کاروائیاں بند کر دو
آریا (قوم کے لوگ) معاف کرنے والئ، گرمجوش، مہمان نواز اور نفیس لوگ ہیں۔ اور یہ جہاں بھی گئے یہ اپنے ساتھ دوستی کے بیج، محبت، علم سچائی ساتھ لے کر گئے۔ اس لئے وہ تمہیں اور تمہارے لوگوں کو لوٹ مار اور مجرمانہ کاروائیوں کی سزا نہیں دیں گے۔
میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ تم اپنے اللہ اکبر کے ساتھ اپنے صحراؤں میں رہو، اور ہمارے مہذب شہروں کا رخ نہ کرو۔ کیونکہ تمہاے عقائد بہت زیادہ خوفزدہ کرنے والے اور تمہارے اطوار بہت وحشیانہ ہیں
دستخط
یزد گرد سوم ساسانی
[/RIGHT]
Re: Mazda
We should also know what the other side wrote! Teggy do not ban me again. Azkar has promised free discussion here.
Re: Mazda
Too bad Umar didn’t listen and look at Iran now.
Re: Mazda
O bhai, use this forum for discussion. Not for missionary purposes. Especially copy/paste from other sites? Seriously?
Re: Mazda
They failed to arabize Iran as they did from Iraq to Morocco - killing the local languages and cultures there. They could not uproot the Persian language and the well developed irani culture and finally Iran got independence from arabs in 1501.
Moreover the most literary work was done by persians during abbassi era.
Re: Mazda
So this post is not about Mazda’s KODO design philosophy and how all the CUVs and cars adapting to it?