مستانہ رقص کیجیئے گردابِ حال میں
بیڑا ہے پار ڈوب کر اپنے خیال میں
ترسی ہوئی نگاہوں پہ اب رحم کیجیئے
کب تک یہ امتیاز حرام و حلال میں
ہاں کیوں نہ اتر چلو خمیازہ جھیل کر
ڈوبے مری بلا سے عرق انفعال میں
کیا زندگی کے بعد بھی ہے کوئی زندگی؟
پھر جان آ چلی چمنِ پائمال میں
آوازِ بازگشت پر کیا دیتے ہو صدا
کس سے الجھ رہے ہو جواب و سوال میں
کیا بزمِ اتحاد ہے کیا حسنِ اتفاق
بیگانہ و یگانہ ہیں سب ایک حال میں
یگانہ چنگیزی