شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
موتی ہو کہ شیشہ، جام کہ دُر
جو ٹوٹ گیا ، سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جُڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا، سو چھوٹ گیا
تمامن میں چھپائے بیٹھے ہو
ناحق ٹکڑے چُن چُن کر
دشیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
شاید کہ انہی ٹکڑوں میں کہیں
وہ ساغرِ دل ہے جس میں کبھی
صد ناز سے اُترا کرتی تھی
صہبائے غمِ جاناں کی پری
پھر دنیا والوں نے تم سے
یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا
جو مَے تھی بہا دی مٹی میں
مہمان کا شہپر توڑ دیا
یہ رنگیں ریزے ہیں شاید
ان شوخ بلوروں سپَنوں کے
تم مست جوانی میں جن سے
خلوت کو سجایا کرتے تھے
Re: Masiha
:)
Re: Masiha
nice
Re: Masiha
:k: