برستے ساون کی
برساتوں میں
پورے چاند کی
چاندنی راتوں میں
بس یونہی
باتوں باتوں میں
جب تم سے
نظریں ٹکرا سی جاتی ہیں
کیا تم جان جاتی ہو
میرے من میں کیا ہے
ہے اِک لڑکی سُُندر سپنا سی
جھیل سی جس کی آنکھیں ہیں
کلیاں ہیں لب اُسکے
سایوں سے گیسوں ہیں
جانے کب چُپکے سے
میرے دل کے رستوں پر
چاندنی بن کر اُتری ہے
وہ ہوا ہو، صبا ہو کہ جانِ وفا ہو
یا کسی معصوم کے لب پر
اُتری دُعا ہو
بس یونہی باتوں باتوں میں
مالا جپتے پھول سے ہاتھوں میں
بس اتنا جاننا چاہتا ہوں
کہ اُس مالا میں
کوئ منکا
میرے نا م کا بھی ہے