main paa saka na kabhi is khalish say chuTkara

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا
برس کے کھُل گئے آنسو، نتھر گئی ہے فضا
چمک رہا ہے سرِ شام درد کا تارا
کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا، اک امانت ہے
مری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا
جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی
کُھلے تھے پر تو مرا آسمان تھا سارا
وہ سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ میں بھی کہتا ہوں
مگر نہ چھوڑیں گے لوگ اُس کو گر نہ پھنکارا
(جاوید اختر)


Restored attachments:

Re: main paa saka na kabhi is khalish say chuTkara

وہ سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ میں بھی کہتا ہوں
مگر نہ چھوڑیں گے لوگ اُس کو گر نہ پھنکار

kion log usko kion nahi choren gy
vo bhag b to sekta hy

Re: main paa saka na kabhi is khalish say chuTkara

سانپ اگر ڈسنا چھوڑ بھی دے تو لوگ اس کو مار دیں گے۔ لہٰذا قدرت نے اس کی فطرت میں پھنکارنا لکھ دیا ہے