KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

Some good news!

??? - ?BBC Urdu? - ??? ?? ??? ??? ??? ?? ?? ??? ?? ??? ?](عوام آن لائن ایف آئی آر کے نظام سے خوش - BBC News اردو)

[RIGHT]
عوام آن لائن ایف آئی آر کے نظام سے خوش

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

آخری وقت اشاعت: منگل 23 جولائ 2013 ,* 16:18 GMT 21:18 PST
[/RIGHT]

اس نظام کے تحت لوگ اب گھروں میں بیٹھ کر کسی بھی مسئلے کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے سے ایف آئی آر درج کراسکتے ہیں۔

[RIGHT]خیبر پختونخوا کے پشاور شہر کے ایک نوجوان ارسلان خان کےلیے یہ بات اب بھی ناقابل یقین ہے کہ بغیر سفارش اور رشوت کے، دوکان میں بیٹھے بیٹھےمحض ایک شکایت درج کرانے سے ان کا ایک پرانا مسئلہ حل ہوا۔
صوبائی پولیس کی ویب سائٹ کے ذریعے سے درج کی گئی ایک ایف آئی آر پر پولیس نے فوری کارروائی کی اور اس طرح ان کے لین دین کا ایک دیرینہ معاملہ باآسانی حل ہوگیا۔[/RIGHT]
[RIGHT]اسی بارے میں
[/RIGHT]

*=right]خبیر پختونخواہ میں ایف آئی آر کا آن لائن نظام](خبیر پختونخواہ میں ایف آئی آر کا آن لائن نظام - BBC News اردو)
*=right]’ایف سی آر کا قانون ختم کیا جائے‘](’ایف سی آر کا قانون ختم کیا جائے‘ - BBC News اردو)
*=right]پولیس کے خلاف ایف آئی آر بحال](پولیس کے خلاف ایف آئی آر بحال - BBC News اردو)

[RIGHT]

متعلقہ عنوانات
[/RIGHT]

*=right]پاکستان](http://www.bbc.co.uk/urdu/topics/pakistan),
*=right]خیبر پختونخوا](http://www.bbc.co.uk/urdu/topics/khyber_pukhtoon_khaw)

[RIGHT]
[/RIGHT]

[RIGHT]اندرون شہر کے علاقے کوہاٹی سے تعلق رکھنے والے ارسلان خان کا کہنا ہے کہ انہیں آن لائن ایف آئی ار کے اجراء کے بارے میں اخبارات سے معلوم ہوا۔ ان کے بقول ’میں نے ایسے ہی ایک آزمائش کے طورپر انٹرنیٹ کے ذریعے ایک شکایت درج کروائی کیونکہ میرا بھی ایک شخص کے ساتھ کافی عرصہ سے لین دین کا ایک معاملہ چل رہا تھا‘۔
انہوں نے کہا کہ شکایت درج کرانے کے ٹھیک دو دن بعد پولیس کی طرف سے ان سے رابطہ کیاگیا اور انہیں تھانے طلب کرکے وہاں ان کی رقم کا تنازع حل کرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی یقین نہیں آرہا کہ اتنا جلدی اور بغیر سفارش و رشوت کے نہ صرف ان کا مسئلہ حل ہوا بلکہ ان کے مخالف فریق کی طرف جو پیسے بنتے تھے وہ بھی ان کو پولیس کی مدد سے پورے کے پورے مل گئے۔
صوبہ خیبر پختون خوا میں پولیس نظام میں بہتری لانے کےلیے پہلی مرتبہ آن لائن ایف آئی ار سسٹم کو متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت لوگ اب گھروں میں بیٹھ کر کسی بھی مسئلے کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے سے ایف آئی آر درج کراسکتے ہیں۔[/RIGHT]
[RIGHT][INDENT]“میں نے ایسے ہی ایک آزمائش کے طورپر انٹرنیٹ کے ذریعے ایک شکایت درج کروائی کیونکہ میرا بھی ایک بندے کے ساتھ کافی عرصہ سے لین دین کا ایک معاملہ چل رہا تھا‘۔”
[/RIGHT]
[RIGHT]ارسلان خان

[/RIGHT]
[/INDENT]
[RIGHT]
اس نئے نظام سے بظاہر اب پولیس اہلکاروں کو تھانوں میں اپنی روایتی من مانی یعنی ایف آئی ار کے اندراج سے انکار کرنا جیسے حیلوں بہانوں کا موقع نہیں ملے گا۔ اس سے پہلے پولیس اہلکاروں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ایف آئی ار کے اندراج میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں آن لائن ایف آئی آر سسٹم کا منصوبہ ابھی نیا نیا ہے۔ اس منصوبے کی نگرانی کےلیے ڈی آئی جی رینک کے افسر کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس پراجیکٹ کے لیے کنٹرول روم سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قائم کیا گیا ہے۔
انٹرنیٹ کے ذریعے سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے طریقۂ کار کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے سب سے پہلے کنٹرول روم میں تحریری شکایت موصول ہوتی ہے جس کے بعد وہ شکایت متعلقہ تھانے کو بھیجی جاتی ہے۔[/RIGHT]
[RIGHT][INDENT]“اس پراجیکٹ کے اجراء کا بنیادی مقصد عوام کو ان کے دھلیز پر سہولت دینا اور پولیس نظام میں بہتری لانا ہے۔”
[/RIGHT]
[RIGHT]منصوبے کے ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی نوید گل

[/RIGHT]
[/INDENT]
[RIGHT]
تھانے میں ابتدائی تفتیش کے بعد ہی فیصلہ ہوتا ہے شکایت کو ایف آئی آر میں تبدیل کیا جائے یا نہیں کیونکہ پولیس افسران کے مطابق کئی ایسی شکایات ہوتی ہیں جس میں ایف آئی ار درج کرانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
سنٹرل پولیس آفس پشاور میں تعینات اس منصوبے کے ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی نوید گل کا کہنا ہے کہ ’اس پراجیکٹ کے اجراء کا بنیادی مقصد عوام کو ان کے دھلیز پر سہولت دینا اور پولیس نظام میں بہتری لانا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اب صوبے کے کسی بھی تھانے میں کوئی بھی شخص بغیر کسی خوف و خطر کے کسی کے خلاف آن لائن رپورٹ درج کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر پولیس سٹیشن میں فوکل پرسن مقرر کئے گئے ہیں جن کا کام ان شکایات کا جائزہ لینا اور ان کو ایف آئی آر میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔[/RIGHT]
[RIGHT][INDENT]“تھانوں کے بادشاہ ایس ایچ او اور محرر ہوتے ہیں اور جب تک ان کو اعلی تربیت نہیں دی جاتی اور ایماندار اہلکاروں کو تھانوں میں تعینات نہیں کیا جاتا اس وقت تک پولیس سٹیشن کا ماحول تبدیل نہیں ہوسکتا۔”
[/RIGHT]
[RIGHT]صحافی علی حضرت باچا

[/RIGHT]
[/INDENT]
[RIGHT]
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ایف آئی آر کے اندراج میں نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں اور نہ ہی تھانے کے عملے پر چیک رکھنے کےلئے کوئی نیا طریقہ کار بنایا گیا ہے۔
پشاور کے سینیئر صحافی علی حضرت باچا کا کہنا ہے کہ تھانوں کے بادشاہ ایس ایچ او اور محرر ہوتے ہیں اور جب تک ان کو اعلی تربیت نہیں دی جاتی اور ایماندار اہلکاروں کو تھانوں میں تعینات نہیں کیا جاتا اس وقت تک پولیس سٹیشن کا ماحول تبدیل نہیں ہوسکتا۔[/RIGHT]
انہوں نے کہا کہ تھانوں کے عملے کو خصوصی تربیت دینی چاہیے اور وہاں تعلیم یافتہ افراد کو مقرر کیا جائے جبکہ ان کو عوام سے بھی اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

^ can you plz add English version also

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

^^.I only found urdu news on PTI page..

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

English news on The Nation.

People can now file FIR online in KPK

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

^ thankx

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

Apni qaomi zubana parrhni nahi aati kya? :bummer:

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

nhi ati hai but yeah baut chota likha hai lekin sub logo ko iss forum pe nhi ati

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

**

KPK to introduce e-governance for transparency
**
Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Pervez Khattak said that the government has devised a mechanism for introduction of E-governance system, and to fully exploit benefits from information technology, saying that the step would ensure transparency and brining improvement in the existing governance system.

Preliminary, he said that the system would be initiated at department of police, health and revenue on experimental basis, which could be implemented in other institutions in different phases.

So far more than 13 fields have been indentified in which the E-governance can be easily introduced, including online admission, E-procurement, E-voting, recruitment, target subsidy management, land record, public complaints, along with access to information etc.

Chief Minister directed the authorities to introduce E-governance in distribution of Zakat, and procurement of equipment in health department.

Full Report

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

there will be a flood of FIRs being reported [both fake N genuine]...

now, the question is: do they have enough manpower to investigate all those FIRs or will they simply pick N choose to for investigation?

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

Nahi aati to seekhni chahiye thi na… :asa: … wesey MQM ki zubaan meiN isey kehtey heiN “siyaq-o-sabaaq sey hat kar peish kia gaya hey” :hehe:

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

oops wrong thread meN post kar diyaa thaa :(

Re: KPK Launches Online FIR systems - KP voters pleased

some good work being done! even if they don't have enough manpower, they will soon.
i'm sure they can plan based in the response.
Also i guess there may be some legislation required to further strengthen this process and close loop holes if any.