کیا فقہی اختلافات مسلمانوں کی ایک ریاست کے راستے میں رکاوٹ ہیں؟
(تحریر: محمد یاسر)
فقہی اختلافات کا طعنہ، سیکولر حضرات کی جیب میں موجود وہ سخت ترین کوڑا ہے جس نے اسلام پسندوں کی کمر کو چھلنی کر دیا ہوا ہے۔ اِدھر کسی کے منہ سے اسلام کے نفاذ کا جملہ نکلا تو اُدھر یہ کوڑا حرکت میں آ گیا۔ پس میں نے سوچا کہ اس سلسلے میں ایک مدلل اور اصولی جواب تحریر کیا جائے جس میں سیکولر حضرات کو فقہی اختلافات کے سلسلے میں اسلامی ریاست کے طرز عمل کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ اسلام پسندوں کو بھی ایک نصیحت کی جائے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق دین نصیحت ہے۔ اللہ، رسول ﷺ اور قرآن کی خاطر، عوام اور ان کے لیڈروں کے لئے۔
**جمہوریت میں اختلافِ رائے کا مسئلہ حل کرنے کا طریقہ:
** آج مغربی معاشرے میں اسقاط حمل سے لے کر کلوننگ تک، Stem celll research سے لے کر ہم جنس پرستی تک، اور عراق جنگ سے لے کر ٹیکس اصلاحات تک بے شمار مسائل میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ لیکن کسی نے آج تک یہ نہیں کہا کہ کیونکہ جمہوری نظام میں اختلاف پایا جاتا ہے چنانچہ یہ نظام نافذ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ تو اس اختلاف کو ”جمہوریت کی خوبصورتی“ قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں اسلام میں پائے جانے والے اجتہادی اور فروعی اختلاف کو بنیاد بنا کر اسلام کو ناقابل نفاذ کہنا نہ صرف اسلام سے نابلدی ہے بلکہ یہ سراسر بدنیتی پر مبنی ہے۔
جمہوری نظام میں ایک مسئلے پر موجود مختلف آرا (difference of opinion) میں سے ایک رائے کو نافذ کرنے کا ایک اپنا طریقہ کار ہے جو اسلام سے مختلف ہے۔ یہ طریقہ عوامی نمائندوں کی اکثریتِ رائے (یعنی پالیمنٹ کی اکثریت) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پس اس طریقہ کار کے مطابق وہ اپنے تمام اختلافات کو ریاستی سطح پر حل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ ایک ہی رائے اختیار کر لیتے ہیں بلکہ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ریاست میں اجتماعی سطح پر ایک ہی رائے نافذ ہو جاتی ہے۔ اور بقیہ رائے کے حامل لوگ اپنی رائے کے نفاذ کیلئے سیاسی طریقے سے اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس رائے کے حق میں رائے عامہ ہموار ہو جاتی ہے اور اکثریتی رائے کی بنیاد پر پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ ہو جاتی ہے۔ اس کی حالیہ مثال امریکہ اور برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف کالے قوانین بنانا ہے جس میں حکومت کو رائے عامہ بنانے میں خاصی محنت کرنی پڑی تاہم مختلف واقعات کو استعمال کر کے وہ مطلوبہ رائے عامہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور اب ایسے قوانین نافذ ہیں جن کی مدد سے ایک شخص کو بغیر مقدمہ چلائے سالوں گوانتانامو کے عقوبت خانوں میں قید رکھا جاسکتا ہے۔
اسلام میں اختلاف رائے کو حل کرنے کاطریقہ کار:
اسلام میں اختلاف رائے میں ایک رائے نافذ کرنے کا طریقہ کار جمہوریت سے مختلف ہے۔ اسلام کا اس سلسلے میں طریقہ کار یہ ہے کہ شریعت سے اخذ کردہ دلائل کی بنیاد پر کئے جانے والے اجتہادات میں سے اولولامر یعنی خلیفہ جس رائے کو قوت دلیل کی بنیاد پر اختیار یا تبنی (Adopt) کرتا ہے وہی رائے حکومتی سطح پر نافذ العمل ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پوری امت اس رائے کے علاوہ کوئی دوسرے رائے نہیں رکھ سکتی بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکومتی سطح پر خلیفہ کا اختیار کردہ اجتہاد ہی نافذ العمل ہوتا ہے۔ البتہ خلیفہ عبادات، ذاتی معاملات اور عقائد کی فروعی تفصیلات میں کوئی مخصوص اجتہاد نافذ نہیں کریگا اور لوگوں کو اجازت ہوگی کہ وہ کسی بھی مجتہد کی تقلید کریں۔ وہ محض ان مسائل میں ایک اجتہاد کو نافذ کرے گا جن کا تعلق اجتماعی معاملات اور نظام سے ہے مثلاً جہاد کب اور کس کے خلاف کیا جائے، خراج، اقتصادی نظام، تعلیمی پالیسی وغیرہ۔ اس کے علاوہ وہ تمام مسائل جس میں دلائل قطعی ہیں اور اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں خلیفہ محض ان احکامات کو نافذ کرتا ہے اور اس میں خلیفہ یا کسی اور مجتہد کی ذاتی پسند و ناپسند کا عمل دخل برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً قرآن کا حکم کہ کسی بھی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان نہیں کیا جاسکتا خلیفہ کی مرضی یا کسی بھی مجتہد کی پسند و ناپسند کی بنا پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور اسے من و عن نافذ کیا جائیگا۔
دلائل:
اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء: 59)
اے ایمان والو! اللہ اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولوالامر (حکمرانوں) کی بھی۔(النساء: 59)
پس خلیفہ اسلامی دلائل پر مبنی رائے میں سے جس رائے کو اختیار کرنے کے بعد لاگو کریگا اس پر تمام مکاتب فکر محض اس لئے عمل کریں گے کیونکہ اس منتخب کردہ خلیفہ کی اطاعت مندرجہ بالا آیت اور دیگر احادیث کی وجہ سے فرض ہے۔ اس دوران عوام اور دیگر مجتہدین اپنی اپنی رائے پر قائم رہ سکتے ہیں، اس کی تعلیم و ترویج کر سکتے ہیں اور خلیفہ کو اپنی رائے اپنانے کے لئے مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔ لیکن ان اجتماعی مسائل میں پوری امت کو خلیفہ کے اپنائے گئے اجتہاد ہی پر عمل کرنا ہو گا کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اسی طرح معاشرے اور ریاست کا نظم و نسق بغیر انتشار کے چلایا جاسکتا ہے۔ مشہور فقہی قاعدہ ہے:
امر الامام یرفع الخلاف
امام (خلیفہ) کا حکم اختلاف کو ختم کرتا ہے
اور
امر الامام نافذ ظاہرا و باطنا
امام کا حکم ظاہرا اور باطنا نافذ کیا جاتا ہے۔
اسی اصول کے تحت ابو بکر نے اپنی خلافت کے دوران صحابہ کی اکثریتی رائے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی رائے کو نافذ کیا اور مرتدین زکاة، جھوٹی نبوت کے دعوے داروں اور رومیوں کے خلاف ایک ساتھ لشکر کشی فرمائی۔ اسی طرح حضرت عمر نے عراق کے مفتوحہ علاقوں پر خراج نافذ کرنے کے اپنے اجتہاد کو نافذ فرمایا اگرچہ حضرت بلال اور اکابر صحابہ کا اجتہاد ان سے مختلف تھا۔ نیز جب ابو بکر خلیفہ تھے تو انہوں نے طلاق، وراثت اور اموال کی تقسیم میں اپنے اجتہادات کو نفاذ کیاجبکہ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں انہی مسائل پر مختلف اجتہادات کو لاگو فرمایا۔ حضرت ابو بکر اور عمر کے اس طریقہ کار پر تمام صحابہ کا اجماع ہے جو ہمارے لیئے شرعی دلیل ہے۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ اجتہادی اختلاف حضرت ابو بکر اور عمر کی خلافت کے دوران بھی رہا لیکن اس نے امت میں تفرقہ یا انتشار پیدا نہیں کیا کیونکہ امت کو اپنے اجتہادی اختلافات حل (resolve) کرنے کا طریقہ آتا تھا۔
اجتہادی اختلاف کی اجازت کی سنت نبوی ﷺ سے دلیل:
صحابہ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں اجتہاد کیا کرتے تھے اور ان کی رائے میں اختلاف بھی پایا جاتا تھا۔ یہ اجتہادی اختلاف رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا اور آپ ﷺ نے اس پر کسی کی ملامت نہ فرمائی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے:
(قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الاحذاب لا یصلین حد العصر لا فی بنی قریظ فدرک بعضھم العصر فی الطریق فقال بعضہم لا نصلی حتی نتیھا وقال بعضھم بل نصلی لم یرد منا ذلک فذکر ذلک للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم یعنف واحدا منھم)
(بخاری)
”عزوہ احزاب (کے اختتام والے) دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی نماز عصر نہ پڑھے سوائے بنو قریظہ پہنچ کر۔ بعض حضرات کی عصر کی نماز کا وقت راستے ہی میں ہو گیا۔ ان میں سے کچھ (صحابہ) نے کہا کہ ہم (راستے میں) نماز نہیں پڑھیں گے جب تک (بنی قریظہ) پہنچ نہ جائیں۔ بعض (صحابہ) نے کہا نہیں بلکہ ہم (نماز) پڑھیں گے کیونکہ (رسول اللہ ﷺ کے) اس فرمان سے یہ مراد نہ تھی (بلکہ اس حکم سے محض عجلت مطلوب تھی)۔ پھر جب نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے دونوں میں سے کسی گروہ کی سرزنش نہ فرمائی۔“
اس حدیث سے واضح ہوا کہ صحابہ کی ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے منطوق (لفظی معنی) پر عمل کیا اور دوسرے گروہ نے مفہوم پر اور آپ ﷺ نے کسی کی بھی سرزنش نہیں فرمائی کیونکہ آپ ﷺ کے فرمان کے یہ دونوں معنی سمجھے جا سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تابعین اور تبع تابعین نے کبھی بھی اجتہادی اختلاف کی بنیاد پر کسی مجتہد کی ملامت کی اور نہ ہی کفر کا فتوی لگایا۔ ہاں جنہوں نے قطعی احکامات میں اختلاف کیا ان پر مرتد ہونے کی وجہ سے ریاست نے قتل کی حد جاری کی۔ اسی طرح عمر و بن العاص سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا:
”اگر ایک قاضی اجتہاد کرتے ہوئے درست فیصلہ دے تو اس کیلئے دو اجر ہیں تاہم اگر وہ اجتہاد کرتے ہوئے غلط فیصلے پر پہنچ جائے تو اس کیلئے ایک اجر ہے۔“
یعنی اگر اجتہاد کی شرائط پوری کرتے ہوئے ایک مجتہد غلط رائے تک بھی پہنچ جائے پھر بھی اسے اجتہاد کرنے کی سعی اور کوشش کا ثواب ملے گا۔ جبکہ درست رائے تک پہنچنے والے مجتہد کو زیادہ ثواب ملے گا۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو اجتہاد کرنے کی صلاحیت نہ بھی رکھتا ہو وہ اٹکل پچو کے تیر چلا کر خود بھی گمراہ ہو اور اوروں کو بھی گمراہ کرے۔ ایسا کرنے والا ثواب کا حق دار نہیں بلکہ عقاب کا سزاوار ہوتا ہے۔
آج خلافت اور خلیفہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان فقہی اختلافات میں سے ایک رائے کو نافذ کرنا ممکن نہیں رہا۔ اسلام کا عملی طریقہ کار حضرت ابوبکر کے دور سے شروع ہو کر عثمانی خلافت تک جاری رہا۔ خلافت تمام مسلمانوں کی ایک ریاست کا نام ہے اور یہ کسی مخصوص گروہ کی خلافت نہیں۔ خلافت کسی مخصوص مسلک کو نافذ نہیں کرے گی۔ بلکہ قوی دلائل کی بنیاد پر کئے جانے والے اجتہادات میں سے درست اجتہاد کو نافذ کیا جائے گا۔ خواہ وہ کسی عصر حاضر کے مجتہد کی رائے ہو یا اسلام کے مشہور زمانہ تاریخی مجتہدین کی رائے ہو جن کا آج ایک زمانہ مقلد ہے۔ بہرحال اس اصولی بحث کے بعد اگر اس معاملے کا تھوڑی سی گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام کے قطعی احکامات میں کسی بھی مسلک یا اجتہاد میں کوئی فرق نہیں۔ خواہ اس کا تعلق معاملات، سے ہو عبادات سے ہو یا کہ حکمرانی کے امور سے۔
مزید برآں وہ امور جن کا تعلق امت کے اجتماعی مسائل سے ہے ریاست ان کو نافذ کرنے کی واحد قانونی اور شرعی اتھارٹی ہوتی ہے۔ ان معاملات میں امت میں کوئی بڑا اختلاف نہیں پایا جاتا کہ جس کے نفاذ سے کوئی انتشار یا تفرقہ پیدا ہو۔ مثلا ریاست کا عوام کی تمام بنیادی ضروریات کو پورا کرنا، کفار کے ساتھ فوجی تعاون کا ممنوع ہونا، IMF اور ورلڈ بینک جیسے استعماری اداروں سے قرضہ لینے کی ممانعت، اقوام متحدہ جیسے طاغوت کی رکنیت کا حرام ہونا، غریب شہری سے کسی بھی قسم کا ٹیکس لینے کی ممانعت، عوامی اثاثہ جات جیسے تیل، گیس، کوئلہ اور دیگر معدنیات وغیرہ کی نجکاری کی ممانعت، کرنسی کا سونے یا چاندی پر منحصر ہونا، حدود کا نفاذ، زکوة، خراج اور عشر کی وصولی، فحاشی کی ممانعت، اسلامی مقبوضہ علاقوں کو کفار کے چنگل سے چھڑانے کے لئے جہاد کرنا وغیرہ جیسے تمام احکامات میں کسی بھی مکتبہ فکر کو کوئی اختلاف نہیں۔ ایسے میں خلیفہ جب ان احکامات کو نافذ کریگا تو اس سے کسی قسم کی کوئی فرقہ واریت یا اختلاف پیدا ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا۔
جہاں تک عبادات اور بعض انفرادی نوعیت کے مسائل کا تعلق ہے تو اولاً اصولی طور پر ان میں بھی امت میں اختلاف نہیں بلکہ یہ اختلاف محض فروعی نوعیت کا ہے۔ نیز یہ اختلاف امت کی وحدت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ نہ ہی ریاست کے امور پر اس کا کوئی اثر پڑتا ہے۔ چنانچہ ریاست مسلمانوں کو کسی بھی شرعی اجتہاد کے مطابق کار بند ہونے کی اجازت دیگی۔ چنانچہ ایک شخص اپنے مجتہد کے اجتہاد کے مطابق نماز ادا کر سکے گا، شادی بیاہ کے احکامات پر کار بند ہوگا یا تجہیز و تدفین کی رسومات سرانجام دیگا۔ پس ان اختلاف کے باقی رہنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اگرچہ خلافت ان میں بھی مثبت انداز میں مکالمہ کو فروغ دے کر ایسے معاشرے کو پروان چڑھائے گی جہاں تمام لوگ قرآن و سنت کو ہی واحد مصدر و ماخذ سمجھیں گے اور ایک دوسرے کے اجتہادی اختلافات کا احترام بھی کریں گے۔ نیز اللہ کے حکم اور اس کی علت تک پہنچنے کی جستجو کو اجتماعی طور پر جاری رکھیں گے۔ اجتہاد سے متعلقہ درست فہم ہی تفرقہ بازی اور دیگر مکاتب فکر سے بغض کو زائل کرتی ہے کیونکہ دیگر مکاتب فکر بھی دلائل کی بنیاد پر ایک شرعی مسئلے پر کار بند ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرون اولی کے مسلمانوں میں بعض اوقات سیاسی اختلافات کے باعث بدمزگیاں تو ضرور ہوئیں لیکن انھوں نے کبھی بھی فقہی اختلاف کو بنیاد بنا کر جنگ و جدل نہیں کیا۔ اسی طرح ہمیں تاریخ سے مختلف مکاتب فکر کے درمیان بیشمار مثبت فکری اور فقہی مباحث ملتے ہیں جن کے نتیجے میں کئی مواقع پر مجتہدین نے اپنے اجتہادات سے رجوع کر کے قوی دلیل پر مبنی اجتہاد کو اختیار کیا۔ نیز حاضرین مجلس کو بھی اپنے فقہی علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مکاتب فکر کے دلائل سمجھنے کا موقع ملتا۔ چنانچہ مختلف مکاتب فکر میں ایک دوسرے کے لئے احترام پیدا ہوتا اور معاشرے میں ہم آہنگی کی فضا جنم لیتی تھی۔
موجودہ صورت حال:
حقیقت یہ ہے کہ آج امت فرقہ واریت سے نفرت کرتی ہے اور اس میں فرقہ وارنہ جذبات نہیں پائے جاتے۔ درحقیقت یہ حکمران ہیں جو ہر وقت یہ تاثر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ امت فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم ہے تاکہ جب بھی ان پر اسلام کے نفاذ کا دباﺅ بڑھے تو وہ فرقہ واریت کا بہانہ بنا کر اس فریضے سے معذرت کر لیں۔ اگر عوام میں واقعی فرقہ واریت پائی جاتی تو ہم فرقہ وارانہ فسادات دےکھتے لیکن جب بھی بم دھماکوں کا کوئی افسوس ناک واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے،(جس کے ثبوت کبھی منظر عام پر نہیں لائے جاتے) تو امت دوسرے مسالک کے بجائے حکومت اور بیرونی عناصر پر ہی شک کرتی ہے، کیونکہ امت اس کھیل کو سمجھ چکی ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ عراق اور پاکستان کے اندر مقدس مقامات اور مساجد میں دھماکوں کے بارے میں بلےک واٹر اور امرےکی خفےہ اےجنسےوں کے عمل دخل سے متعلق شواہد میڈیا میں آچکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فرقہ وارانہ آگ کو بھڑکانے مےں ملوث ہے۔
آخر میں ہم علما سے مطالبہ کرتے ہےںکہ وہ امت کے سامنے اس حقیقت کو واضح کریں کہ قطعی احکامات میں کوئی اختلافِ رائے نہیں اور آج بھی تمام مسالک ان معاملات مےں ےکسو ہےں۔ جبکہ ظنی دلائل میں مختلف مجتہدین قرآن و سنت سے اجتہاد کرتے ہیں اور ہر مجتہد کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان دلائل کے ذرےعے اللہ کے حکم تک پہنچے۔ پس اس سلسلے میں اگر اجتہاد کا درست طرےقہ کار اختیار کیا گیا ہو تو دےگر مسالک کی رائے بھی اسلامی تصور کی جاتی ہے اور اس کو اختےار کر کے وہ اللہ سبحانہ و تعالی کے حکم ہی کا اتباع کر رہے ہوتے ہیں جیسے کہ ان کے اپنے مسلک کے لوگ۔ جہاں تک اس پہلو کا تعلق ہے کہ کون سا مجتہد درست حکم تک پہنچا ہے، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے جس کا قطعی علم ہمےں آخرت کے دن ہوگا۔
نتیجہ:
پس یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو چکی ہے کہ اجتہادی اختلاف مسلمانوں کی ایک اسلامی ریاست کے راستے میں ہرگز کوئی رکاوٹ نہیں۔ بلکہ اصل رکاوٹ وہ حکمران طبقہ ہے جو اس ایشو کو بھڑکا کر اسلام کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں تاکہ اقتدار پر ان کی گرفت ڈھیلی نہ ہو جائے اور انھیں اپنے کرتوتوں کا حساب نہ دینا پڑے۔