خبر تھی گھر سے وہ نکلا ہے مینہ برستے میں
** تمام شہر لئے چھتریاں تھا رستے میں
**
**بہار آئی تو اک شخص یاد آیا بہت
کہ جس کے ہونٹوں سے جھڑتے تھے پھول ہنستے میں
**
**کہاں کے مکتب و مُلّا ، کہا ں کے درس و نصاب
بس اک کتابِ محبت رہی ہے بستے میں **
ملا تھا ایک ہی گاہک تو ہم بھی کیا کرتے
سو خود کو بیچ دیا بے حساب سستے میں
**یہ عمر بھر کی مسافت ہے دل بڑا رکھنا
کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے رستے میں
P.S.: Can someone plzz make the font a bit larger.
**
Restored attachments:
