ان بھوکے ننگے لوگوں کی یہ بھوک مٹاۓ کون یہاں
یہاں بکتے جج پلاٹوں پر انصاف دکھاۓ کون یہاں
تیس ایکڑ کی اک کوٹھی میں شریف برادر رھتے ھیں
فٹ پاتھ پہ مرنے والوں کی انہیں لاش دکھاۓ کون یہاں
تو لوٹ لٹیرے دیس میرا تو فطرت سے لٹیرا ھے
سب چورتیرے کارندے ھیں تمہیں روکے گا اب کون یہاں
یہ انسانوں کی بستی ھے یا ڈیرا ھے حیوانوں کا
یہاں محافظ خود لٹیرے ھیں انہیں امن سکھاۓ کون یہاں
فرھنگی خود تو چلا گیا پر اپنے ٹٹو چھوڑ گيآ
ان ٹٹووں کو مٹانے کو اب آگے آۓ گا کون یہاں
یہ جج کمشنر اور جرنیل کیا طرز فرھنگی سیکھی ھے
عمرو علی کے وقتوں کی انہیں رھن سکھاۓ کون یہاں
یہ ظلمی دور مٹانا ھے پھر حسن حسین کو لانا ھے
اک خواب میں غازی دیکھا ھے اسے ڈھونڈ کےلاۓکون یہاں