کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے
جو دامن تھا، دامن بدر ہو رہا ہے
کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے
سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے
اِدھر کا مسافر اُدھر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
چلی تو مسافر اُچھلنے لگے ہیں
جو بیٹھے ہوئے تھے وہ چلنےلگے ہیں
قدم جا کے ٹخنوں سے ٹلنے لگے ہیں
جو کھایا پیا تھا اُگلنے لگے ہیں
تماشا سرِ رہ گزر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
جو خوش پوش گیسو سنوارے ہوئے تھا
بہت مال چہرے پہ مارے ہوئے تھا
بڑا قیمتی سوٹ دھارے ہوئے تھا
گھڑی بھر میں سب کچھ اتارے ہوئے تھا
بے چارے کا حلیہ دگر ہو را ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
وہ اک پہلواں پیٹھ میں تھم گیا ہے
بہت بھی گیا تو بہت کم گیا ہے
کوئی ہاتھ پتلون میں جم گیا ہے
کوئی ناک دیوار پہ تھم گیا ہے
کوئی سرو قد مختصر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
کوئی نصف بیٹھا ہے، آدھا کھڑا ہے
جہاں بھی کھڑا ہے وہیں پر گڑا ہے
کسی کی گھڑی پر کسی کا گھڑا ہے
کہاں ہاتھ تھا اور کہاں جا پڑا ہے
جو دیوار تھی اس میں در ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
جو کالر تھا گردن میں، ‘لر’ رہ گیا ہے
ٹماٹر کے تھیلے میں ‘ٹر’ رہ گیا ہے
خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے
بغل میں تو بس ایک پر رہ گیا ہے
کوئی کام ہم سے اگر ہو رہا ہے
کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
فاخرہ تو پاگل تھی
فیشنوں کے چکر میں
یوں فریب کھا بیٹھی
رنگ گورا کرنے کی
ہر دوا منگا بیٹھی
تھی دوا جو کھانے کی
وہ دوا لگا بیٹھی
جو دوا لگانی تھی
اس دوا کو کھا بیٹھی
اور اس حماقت میں
اپنی جان گنوا بیٹھی
فاخرہ تو پاگل تھی