بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہےجو گزاری نہ جاسکی ہم سےہم نے وہ زندگی گزاری ہےبن تمہارے کبھی نہیں آتیکیا مری نیند بھی تمہاری ہےاس سے کہو کہ دل کی گلیوں میںرات دنتیری انتظاری ہےایک مہک سمت دل سے آئی تھیمیں یہ سمجھا تری سواری ہےخوش رہے تو کہ زندگی اپنیعمر بھر کی امیدواری ہے(جون ایلیا)