Islam ka almia

[RIGHT]Iلمیہ اسلام
ابو لولو حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ایک ایرانی غلام تھا جو لوہار اور بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ مغیرہ اس سے دو روپے یومیہ ٹیکس لیتے تھے۔ ابو لولو نے حضرت عمر سے شکایت کی کہ اس قدر محنت کرنے کے باوجود وہ جو کماتا ہے وہ مغیرہ ٹیکس کی شکل میں لے لیتے ہیں اور یوں اسے گزارہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حضرت عمر نے ایک عجمی غلام کے مقابلے میں صحابیِ رسول کے حق میں فیصلہ دیا۔ ابو لولو کو غصہ آیا اور ایک صبح وہ خنجر لے کر مسجد میں داخل ہو گیا اور حضرت عمرپر پے در پے خنجر کے کئی وار کئے ۔ لوگوں نے تعاقب کیا تو ابو لولو نے اسی خنجر سے خود کشی کر لی۔ حضرت عمر قاتلانہ حملے کے بعد بھی تین چار روز زندہ رہے۔
موت قریب دیکھ کر حضرت عمر نے نیا خلیفہ چننے کیلئے چھ صحابیوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی۔ حضرت عثمان بن عفان، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت سعد بن ابو وقاص، حضرت علی بن ابوطالب۔ طلحہ بن عبیداللہ اس وقت مدینہ میں موجود نہیں تھے۔ سب لوگوں کو حکم دیا گیا کہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر کے ہاں جائیں اور کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لیں۔ سب حضرات عائشہ کے ایک کمرے میں جا بیٹھے۔ اور انتخابی گفتگو ہونے لگی۔ ایک شور کا سا سماں تھا۔ ہر کوئی اپنی فضیلت اور اہمیت پر زور دے رہا تھا۔ حضرت عمر تک اس نفاق کی خبر پہنچی تو انہوں نے حکم دیا کہ انتخاب کو میری موت تک موقوف کر دیا جائے، اس کے بعد سب لوگ اکٹھے ہوں۔ صحابی ابو طلحہ کو حکم دیا کہ اپنے ساتھ پچاس مسلح انصاری لو اور اس کمیٹی کے ارکان کو مجبور کرو کہ تین دن کے اندر اندر نیا خلیفہ چن لیں، اگر طلحہ بن عبیداللہ اس دوران لوٹ آئیں تو انہیں بھی شامل کر لو۔ ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اگر ان موجود پانچوں میں چار افراد ایک طرف ہوں اور ایک ان سے اختلاف کرے تو اس کی گردن مار دو۔ اگر تین ایک طرف ہوں اور دو اختلاف کر رہے ہوں تو ان دونوں کو قتل کر دو، اگر طلحہ بن عبیداللہ وقت کے اندر اندر آ جائے اور تین ووٹ ایک طرف ہون اور تین دوسری طرف تو عبدالرحمٰن بن عوف کو حق ہو گا کہ وہ کسی کو بھی خلیفہ مقرر کر دے۔ ور اگر ان تین دونوں کے اندر یہ لوگ کسی ایک فیصلے پر متفق نہ ہو سکیں تو سب کو قتل کر دو۔
یہ اعلان سن کر علی بن ابو طالب اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے پاس گئے اور کہا، چچا خلافت اس بار بھی ہمیں ملنے والی نہیں ہے کیونکہ سعد بن ابو وقاص عبدالرحمٰن بن عوف کے چچا زاد بھائی ہیں، اور عبدالرحمٰن عثمان کے قرابت دار۔ لہذا یہ دونوں اپنا ووٹ عثمان کو ہی دیں گے۔ اگر مجھے طلحہ بن عبیداللہ اور زبیر بن عوام کی حمایت مل بھی جائے تب بھی حتمی فیصلہ عبدالرحمٰن بن عوف نے ہی کرنا ہے۔ اگر عمر زندہ رہے تو میں ان سے کہوں گا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کتنی زیادتی کی ہے اور اگر مر گئے تو آثار نظر آ رہے ہیں کہ عثمان کو ہی خلافت ملے گی۔ بخدا، اگر ایسا ہوا تو میں ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔
حضرت عمر کی وفات کے بعد ابوطلحہ اور پچاس مسلح انصاریوں کے نگرانی میں کمیٹی دوبارہ بیٹھی لیکن بات سلجھ نہ پائی۔ عبدالرحمٰن بن عوف نے اپنا نام خلافت کے امیدواروں سے واپس لے لیا، وہ ایک رئیس آدمی تھے، اچھا کھانے اور پہننے کا شوق تھا۔ ان کیلئے نہ ہی خلافت میں کوئی کشش تھی اور نہ ہی وہ عمر بن خطاب جیسی خشک اور روکھی زندگی گزارنا چاہتے تھے اور ان کے نزدیک خلاف تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب کوئی عمر بن خطاب جیسی زندگی گزارے وگرنہ سب اصحاب ان کا جینا مشکل کر دیں گے۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ میں خلافت کی امیدواری سے نام واپس لیتا ہوں۔ اگر آپ راضی ہوں تو مجھے امت مسلمہ کی بھلائی کیلئے خلیفہ منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔ حضرت عثمان تو ایک دم سے راضی ہو گئے لیکن حضرت علی نے کہا کہ وہ سوچ کر بتائیں گے۔ لیکن انہیں بھی بالاخر منا لیا گیا۔
عبدالرحمٰن بن عوف نے سعد بن ابو وقاص کو بھی دستبرداری پر راضی کر لیا۔ وہ ان کے چچا زاد ہونے کے علاوہ سمدھی بھی تھے۔ زبیر بن عوام یہ دیکھ کر دب گئے کہ عبدارحمٰن بن عوف اور سعد بن ابو وقاص کی تائید سے محروم ہو کر اب ان کے خلیفہ بننے کے مواقع ختم ہو گئے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان نے حضرت زبیر بن عوام کی تالیف قلب کیلئے انہیں تین لاکھ روپے کا عطیہ دیا تھا۔ لہذا وہ بھی راست سے ہٹ گئے۔اب میدان میں صرف حضرت عثمان اور حضرت علی رہ گئے تھے۔
عبدالرحمٰن بن عوف باقی دنوں میں دوسرے معزز اصحاب رسول اور خاندان قریش سے بھی مشورہ کرتے رہے۔ حضرت علی کے حق میں صرف بنو ہاشم کے لوگ تھے، اہل مکہ کو حضرت علی پسند نہ تھے کیونکہ انہوں نے مختلف غزوات میں اہل مکہ کے کئی لوگوں کو قتل کیا تھا۔ کچھ روایتوں کے مطابق حضرت علی کے ہاتھوں قتل ہونے والے غزوہ بدر میں 20 لوگ تھے جن میں اکثریت کا تعلق حضرت عثمان کے خاندانن بنو امیہ سے تھا، غزوہ احد میں حضرت علی نے 4 قریشیوں کو قتل کیا۔ حضرت علی کے اس ماضی کی وجہ سے قریش کے کئی بڑے خاندان جن کے بزرگوں کو حضرت علی نے قتل کیا تھا وہ ان سے ناراض تھے۔ حضرت علی کے مقابلے میں حضرت عثمان ایک شریف النفس اور صلح جو قسم کے آدمی تھے۔ وہ غزوہ بدر کے علاوہ تمام غزوات میں رسول کریم کے ساتھ تھے۔ لیکن ان کے دامن پر کسی بھی انسانی خون کے چھینٹے نہ تھے۔ حضرت عثمان مرنے اور مارنے کی بجائے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ غزوہ احد سے تو ایسے سرپٹ بھاگے کہ تین دن بعد مدینہ واپس آئے۔
تیسرے دن پھر سب لوگ اکٹھے ہوئے جسے دیکھنے کیلئے بہت زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے پانچوں اصحاب سے حلف لیا کہ جو وہ فیصلہ کریں گے اسے تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں امیدواران سے کہا کہ آپ وعدہ کریں کہ خلیفہ بننے کی صورت میں اپنے خاندان کو لوگوں کو مسلمانوں پر مسلط نہیں کریں گے، نیز آپ رسول اللہ اور شیخین کے نقش قدم پر چلیں گے۔ حضرت علی نے جواب دیا کہ میں کیسے ایسا وعدہ کر سکتا ہوں جو میرے بس سے باہر ہے، رسول اللہ کے نقش قدم پر چلنا کس کے بس کی بات ہے۔ البتہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق مجھ سے جو ہو سکا وہ میں کروں گا۔ جب یہی سوال حضرت عثمان سے پوچھا گیا تو انہوں میں عبدلرحمٰن کو اثبات میں جواب دیا۔ یہی سوال تین بار پوچھا گیا اور تینوں بار فریقین نے یہی جواب دیا۔ حضرت عثمان کے واضع اور حتمی جواب دینے اور حضرت علی کے غیر واضع اور غیر حتمی جواب دینے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ حضرت عثمان کو جتوانے کیلئے حضرت سعد بن وقاص نے حضرت علی سے کہا کہ عبدالرحمٰن بن عوف کو حتمی جواب پسند نہیں ہے، اور حضرت عثمان کو بتایا کہ عبدالرحمٰن بن عوف کو حتمی جواب پسند ہے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے حضرت عثمان کو خلیفہ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ چند دنوں بعد طلحہ بن عبیداللہ واپس مدینہ آئے تو انہوں نے عمران خان کی طرح انتخاب کو ماننے سے انکار کر دیا کہ انتخاب میں دھاندلی ہوئی ہے، انتخاب دوبارہ کیا جائے۔ لیکن جب انہیں حضرت عمر کے اس فیصلے کی خبر ہوئی کہ متفقہ فیصلہ نہ ماننے والے کو قتل کردیا جائے تو وہ چپ ہو گئے۔ طلحہ حضرت عائشہ کے بہنوئی تھے اس لئے ان کی بہت خواہش تھی کہ طلحہ کو خلافت ملے اور یوں خلافت واپس ان کے خاندان میں واپس آ جائے۔
حضرت عثمان کو جس وقت خلافت ملی اس وقت ان کی عمر 70 سال تھی، ان میں حضرت عمر جیسا دبدبہ نہ تھا، لہذا وہ ہر مسئلے کا حل مطالبات کے سامنے جھک جانے سے کرتے تھے۔ انہوں نے خلافت سنبھالتے ہی خزانوں کے منہ کھول دیئے۔ مدینہ میں ہر روز اعلان ہوتا کہ جس کسی نے راشن لینا ہو، آ کر لے لے، کسی دن کپڑوں اور جوتوں کیلئے اعلان ہوتے، لوگوں کے وضائف میں اضافہ کر دیا گیا۔ حضرت عمر نے صحابہ پر پابندی لگائی ہوئی تھی کہ وہ مدینہ سے باہر جا کر مقبوضات میں جا کر نہیں بس سکتے۔ کیونکہ ان کے بقول خلافت اسلامیہ کو سب سے بڑا خظرہ تب پیش آئے گا جب یہ معزز صحابہ دوسرے علاقوں میں جا بسیں گے۔ ان کے گرد عقیدتمندوں کا ہجوم اکٹھا ہو گا جس سے ان کے دل میں مرکز کے خلاف بغاوت جذبات ابھریں گے۔ لہذا اگر کسی معزز صحابی نے جنگ پر بھی جانے کی خواہش کی تو انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا گیا کہ آپ رسول اللہ کے زندگی میں جہاد میں حصہ لے چکے ہیں لہذا اب آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ مدینہ میں رہیں، نہ آپ دنیا دیکھیں اور نہ دنیا آپ کو دیکھے۔ لیکن حضرت عثمان نے صحابہ پر اس پابندی کو ہٹا دیا۔ اور ان کے خلاف سازشوں کا جال بچھنا شروع ہو گیا۔
مسلمانوں میں دھڑا بازی شروع ہو گئی۔ ایک طرف حکومت وقت کے بہی خواہ یعنی بنو امیہ کے لوگ تھے، ایک طرف طلحہ بن عبداللہ اور زبیر بن عوام کے اہل خاندان اور قبیلے تھے۔ وہی حضرت علی بھی بہت ناراض تھے۔ وہ ہمیشہ سے خلافت کے خواہشمند تھے، لہذا حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد بھی وہ مدینہ کے لوگوں سے بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ کی خواہش تھی کہ ان کے بھائی محمد بن ابوبکر کو کوئی اعلیٰ عہدہ دیا جائے، حضرت عثمان نے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ محمد بن ابوبکر کسی کسی جرم میں دھر لئے گئے، ان کی خواہش تھی کہ ان کا مواخذہ نہ ہو لیکن ہوا۔ جس سے حضرت عائشہ بہت ناراض ہوئیں۔
اس دھڑے بازی کے نتیجے میں حضرت عثمان کےہر جائز و ناجائز کام پر تنقید ہوئی جو بالاخر ان کی شہادت پر منتج ہوئی۔ سعد سے کسی نے پوچھا کہ عثمان غنی کے قتل کی ذمہ داری کس پر ہے تو بولے
”عثمان غنی ایک ایسی تلوار سے قتل ہوئے جس کو عائشہ نے نیام سے نکالا، طلحہ نے تیز کیا، علی نے زہرپلایا اور زبیر نے ہاتھ کے اشارے سے قتل کر دیا“۔
حضرت عثمان کی شہادت تاریخ اسلام کا شائد سب سے بڑا المیہ ہے، یہی جنگ جمل و جنگ صفین کی وجہ بنی جس سے ہزاروں صحابہ کرام شہید ہوئے اور امت مسلمہ فرقوں میں بٹ گئی، جس کا نقصان آج تک مسلمان بھگت رہے ہیں۔
[/RIGHT]

https://scontent-lhr3-1.xx.fbcdn.net/v/t1.0-9/14519811_675839619250055_2208653911609446193_n.jpg?oh=930ab37abba67278b2d215f592b39ede&oe=589FC3D2
Ghulam Rasool - Pakistani freethinkers

LikeShow More Reactions
CommentShare

Re: Islam ka almia

[RIGHT]زید بن معاویہ کے اشعار:کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے، “شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئی نہ کوئی فرشتہ آیا”(دمع السجوم 252)بشکریہ نیر نعمان کلاچوی
[/RIGHT]

Re: Islam ka almia

Lagta hat yeh so-called liberal writer Ahl e Tashee say hay aur like Ahl e Tashi he is Insulting Khulaf e Rashideen…

Re: Islam ka almia

[note]Thread is locked for review. [/note]