The political cell was set up by Quaid e jamhooriyat in 1975 through an executive order. It was claimed by ex PM Gillani in 2008 and recently by Defence Secretary that the cell had been disbanded five years ago. But for ending this cell an executive order is required which has not been issued to date.
?BBC Urdu? - ??? - ??? ??? ?? ??? ?? ??? ??? ??? ??? ???](BBC Urdu - پاکستان - سیاسی سیل کی بندش کا حکم نامہ جاری نہیں ہوا)
پاکستان کے اہم ترین انٹیلی جنس ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) میں قائم سیاسی سیل کے خاتمے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے لیکن اسے بند کرنے کے لیے ’ایگزیکٹو آرڈر‘ یا انتظامی حکم نامہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔
آئی ایس آئی میں یہ سیاسی سیل سنہ انیس سو پچھہتر میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے تحریری حکم پر قائم کیا گیا تھا اور سرکاری قواعد کے مطابق اسے بند کرنے کے لیے بھی اسی نوعیت کے حکم نامے کی ضرورت ہے جو تاحال جاری نہیں کیا گیا ہے۔
آئی ایس آئی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے استفسار پر بتایا کہ ان کے ادارے میں قائم سیاسی سیل بند کر دیا گیا ہے۔
اس اہلکار نے بتایا کہ یہ سیل اس وقت بند کیا گیا تھا جب جنرل اشفاق پرویز کیانی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔
تاہم آئی ایس آئی کے اس افسر نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ کیا ان کے ادارے کو یہ سیل بند کرنے کے لیے موجودہ یا کسی سابق حکومت کی طرف سے باضابطہ حکم موصول ہوا ہے یا نہیں؟
وزیراعظم کی جانب سے اس نوعیت کے حکم نامے جاری کرنے کی ذمہ داری کابینہ ڈویژن کی ہوتی ہے۔
کابینہ ڈویژن کے ایک متعلقہ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ڈویژن کے ذریعے کوئی حکم آئی ایس آئی کو ارسال نہیں کیا گیا ہے جس کے ذریعے اس سیل کو بند کیا جا سکے۔
اس افسر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر کابینہ ڈویژن نے اس مبینہ نوٹیفیکشن کو تلاش کرنے بہت کوشش کی۔ یہ نوٹیفیکشن تو نہیں ملا البتہ بعض ایسی سمریاں اور دیگر خطوط ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل کسی نوٹیفیکشن نہیں بلکہ ایک مراسلے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا جو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحریر کیا تھا۔
اس افسر نے اس خط اور سیاسی سیل کی تشکیل کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ ڈویژن میں انس سو پچہتر میں تحریر کیے گئے میٹنگز کے منٹس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ نے بتایا کہ بعض سیاستدان بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
انیس سو اکہتر کی جنگ اور اس کے پس منظر میں یہ بیان کابینہ کمیٹی میں خاصی تشویش کی نظر سے دیکھا گیا اور طے کیا گیا کہ آئی ایس آئی ایسے سیاستدانوں پر نظر رکھے گی۔
اس میٹنگ کے فوراً بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو ایک مراسلہ تحریر کیا جس میں ایک خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم دیا گیا جس کے ذریعے بھارت کے ساتھ رابطوں میں ’ملوث‘ سیاستدانوں پر نظر رکھی جا سکے۔
یہی سیل آئی ایس آئی کا ’سیاسی‘سیل قرار دیا گیا اور اسی کے بارے میں اب آئی ایس آئی نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس بند کر دیا گیا ہے۔
تاہم کابینہ ڈویژن کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ تکنیکی لحاظ سے یہ سیل ابھی تک موجود ہے کیونکہ اسے بند کرنے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے نہ کوئی نیا حکم جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی انیس سو پچھہتر کا حکم نامہ واپس لینے کے لیے کوئی مراسلہ تحریر کیا گیا ہے۔
تکنیکی لحاظ سے یہ سیل شائد کام کر رہا ہو لیکن حزب اختلاف سے متعلق بعض سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق یہ سیل اب عملاً کام نہیں کر رہا۔
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے مرکزی راہنما راجہ ظفر الحق نے اس بارے میں بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے پاس کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے کہ آئی ایس آئی کا سیاسی سیل کام کر رہا ہے یا نہیں، لیکن قرائن یہی بتاتے ہیں کہ یہ سیل اب زیادہ سرگرم نہیں ہے۔
’جنرل پرویز مشرف کے دور میں آئی ایس آئی نے ہماری جماعت کے راہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بہت سرگرمی دکھائی۔اس وقت بہت شدت سے محسوس ہوتا تھا کہ آئی ایس آئی سیاست میں براہ راست ملوث ہے۔ لیکن جنرل مشرف کے جانے کے بعد سے آئی ایس آئی کے سیاست میں کردار میں بتدریج کمی محسوس ہوئی ہے۔‘
راجہ ظفر الحق نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے انہوں نے سیاسی بحث کے دوران اس سیل کا تذکرہ سنا نہیں ہے جس سے محسوس یہی ہوتا ہے کہ یہ سیل اب پہلے کی طرح سرگرم نہیں ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس تاثر کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ملک میں مجموعی سیاسی ماحول بھی خاصا تبدیل ہو چکا ہے۔