**[RIGHT]اس کرہ ارض پر مستقبل قریب و بعید میں سائینسی دریافتوں اور کامیابیوں کے امکانات اسقدر زیادہ اور حیران کن ہیں کہ میری عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ذرا ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جس میں انسانی جینز میں انجینیرنگ کے ذریعے تبدیلیاں پیدا کرکے طبعی موت پر مکمل قابو پاکر صرف مطلوبہ جسمانی و ذہنی صلاحیتیں رکھنے والے مخصوص عمر کے حامل افراد پیدا کیے جارہے ہوں گے۔ ایک ایسی دنیا جہاں آپ کو زندہ رہنے کے لیے درکار مکمل غزائی اجزا رکھنے والی ہفتہ وار محض ایک گولی حلق سے نگلنا درکار ہوگی۔ اور آپ گوشت سبزی اور پھلوں کی ضرورت سے یکسر آزاد ہوجایا کریں گے۔ ایک ایسی دنیا جہاں مختلف سیاروں اور انکے چاندوں پر انسانی آبادیاں قایم ہونگی اور آپ روشنی کی رفتار کے قریب قریب سفر کرتے ہوے ماضی اور مستقبل میں داخل ہوجایا کریں گے۔ ایک ایسی دنیا جہاں آپکو مختلف علوم و فنون اور مہارتیں سیکھنے کے لیے سکول کالج یا یونیورسٹی میں داخل ہونا پڑے گا اور نہ ہی کتابوں کی ضرورت ہوگی بس مخصوص علم، فن یا مہارت کا سوفٹ ویر آپکے دماغ میں ڈاون لوڈ ہوگا اور لمحوں میں آپ ایک پروفیسنل ڈاکٹر یا انجینیر سے زیادہ معلومات رکھنے والے انسان بن جایا کریں گے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پر انسانوں کے سامنے ملکوں یا شہروں کا دفاع نہیں بلکہ سیاروں اور کہکشاوں کو اپنے دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے چیلنجز درپیش ہوں گے اور مصنوعی طریقہ سے پیدا کیے گئے انتہائی طاقتور انسان دفاع کے شبعہ کے لیے مامور کیے جائیں گے۔ ایسی دنیا جہاں پر سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانے کی یاد بھی انسانوں کے دماغ سے محو ہوچکی ہوگی اور ساری حرکت صرف فضا تک محدود ہوگی۔ پہلی نظر میں یہ ساری باتیں آپکو کسی سائنس فکشن کا سکرپٹ ہی نظر آئیں گی اور ناقابل یقین معلوم ہوں گی بالکل اسی طرح جیسے قرون وسطیٰ کے کسی اسلامی ملک کا کوئی سائنسدان یہ دعویٰ کرتا کہ مستقبل میں ایک ایسا باکس یا ٹین کا ڈبہ ایجاد کرلیا جاے گا جس میں دور دراز کے ملک چین میں ہونے والے کسی واقعہ کو پل بھر میں براہ راست دیکھا جاسکے گا تو سننے والے مسلمانوں کی اکثیریت یقینی طور پر اس انسان کو پاگل قرار دیکر کفر کا فتویٰ بھی صادر کردیتی۔
Sohail Butt, PF[/RIGHT]**