متناسب نمائندگی – ایکسپریسس اردو](متناسب نمائندگی - ایکسپریس اردو)
Read the complete article on the link above. Its lengthy but worth reading.
[RIGHT]سن 1990ء کے عام انتخابات ہوئے، میاں نوازشریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد( آئی جے آئی) نے واضح اکثریت حاصل کی۔آئی جے آئی کو79 لاکھ8ہزار513 ووٹ ملے جبکہ بے نظیربھٹو کے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس( پی ڈی اے) کے حصے میں 77 لاکھ 95 ہزار 218 ووٹ آئے۔ حیران کن امر یہ تھا کہ دونوں اتحادوں کے درمیان فرق محض ایک لاکھ 13 ہزار 295 ووٹوں کا تھا لیکن نشستوں کا فرق دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔ آئی جے آئی کی سیٹیں111تھیں جبکہ پی ڈی اے کو محض44نشستیں ملیں۔اس قدر بڑے فرق کا سبب کیاتھا؟ دھاندلی کی آوازیں ہمارے ہاں ہرالیکشن کے بعد سنائی دیتی رہی ہیں لیکن یہاں سبب دھاندلی نہیں تھا بلکہ ہمارے ہاں رائج انتخابی نظام تھا، جسے تناسبی اکثریت کا نظام (Plurality- majority voting) کہاجاتاہے۔آپ نے سناہوگا کہ ہمارے ہاں سیاست میں کامیابی کا بنیادی اصول ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ ہوتاہے، اگرہمارے ہاں مروجہ انتخابی نظام کا جائزہ لیاجائے تو اس میں بھی کامیابی کی بنیاد یہی اصول ہے۔پاکستان میں مروجہ انتخابی نظام کے نقائص سے بہت سے اصحابِ دانش آگاہ ہیں، تاہم ایک نہایت کم پڑھے لکھے فرد کو بھی یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے، اس کے لئے ایک مثال کا سہارا لیناپڑے گا۔[/RIGHT]