**
تم نے اپنے گا وں کے لیے پھولو ں کے سے نام کیوں چن رکھے ہیں ؟
سمن ،سوسن ، بہت پیارے نام ہیں یہ !
اور وہ بو لا ـــــــ
یہا ں پھو ل نہیں ملتے نا ۔ اس لیے
میرا ملا زم بھاری خیمے کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کر تے ہوئے بو لا ، یہاں پھو ل نہیں ملتے اس لیے ! کیا مطلب؟
اور ساربان اپنی آنکھوں پر سے منڈاسا اُٹھا تے ہو ئے بولا۔ تن شہروں میں رہنے والے اپنے باغوں میں نھنی نھنی مصنوعی پہاڑیاں اور چھو ٹے چھوٹے ریت کے قطعے بنا لیتے ہو کہ وہاں پہاڑ اور ریگستان نہیں ہیں !
ہم ریگستان والے اپنے گاوں کو پھولوں کے نا م اس لیے دیتے ہیں کہ یہاں پھول نہیں ملتے ۔
بات ایک ہی ہے ۔
جو چیز حاصل نہ ہو سکے اس نا م لینے سے دل کو تسلی ہوتی ہیں ۔
مصنف : احمدندیم قاسمی
کتاب : طلوع و غروب
**