Iqbal ne inqilaabi poetry likhne ke sath bachon ke liye baRi pyari pyari nazmen bhi liken.. aaiye iss thread main Iqbal ki bachon ke liye ki gai shayari share karen:
Restored attachments:
Iqbal ne inqilaabi poetry likhne ke sath bachon ke liye baRi pyari pyari nazmen bhi liken.. aaiye iss thread main Iqbal ki bachon ke liye ki gai shayari share karen:
Restored attachments:
Re: Iqbal ki bachon ke liye shayari
my lil bhateejiyan are in lovee with lab pe aat hai...
we used hv to sing lab pe aati hai every monday in the assembly school days mai
Re: Iqbal ki bachon ke liye shayari
For GS baby
Re: Iqbal ki bachon ke liye shayari
my lil bhateejiyan are in lovee with lab pe aat hai... we used hv to sing lab pe aati hai every monday in the assembly school days mai
why only Monday? In Pakistan, its sung on all days
Re: Iqbal ki bachon ke liye shayari
ايک مکڑااور مکھي
ماخوذ - بچوں کے ليے
اکدن کسي مکھي سے يہ کہنے لگا مکڑا
اسراہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
ليکن مري کٹيا کي نہ جاگي کبھي قسمت
بھولےسے کبھي تم نے يہاں پائوں نہ رکھا
غيروں سے نہ مليے تو کوئي بات نہيں ہے
اپنوں سے مگر چاہيے يوں کھنچ کے نہ رہنا
آئوجو مرے گھر ميں تو عزت ہے يہ ميري
وہ سامنے سيڑھي ہے جو منظور ہو آنا
مکھي نے سني بات جو مکڑے کي تو بولي
حضرت کسي نادان کو ديجے گا يہ دھوکا
اس جال ميں مکھي کبھي آنے کي نہيں ہے
جوآپ کي سيڑھي پہ چڑھا ، پھر نہيں ات
مکڑے نے کہا واہ! فريبي مجھے سمجھے
تم سا کوئي نادان زمانے ميں نہ ہو گا
منظورتمھاري مجھے خاطر تھي وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس ميں نہيں تھا
اڑتي ہوئي آئي ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہروجو مرے گھر ميں تو ہے اس ميں برا کيا!
اس گھر ميں کئي تم کو دکھانے کي ہيں چيزي
باہرسے نظر آتا ہے چھوٹي سي يہ کٹيا
لٹکےہوئے دروازوں پہ باريک ہيں پردے
ديواروں کو آئينوں سے ہے ميں نے سجايا
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہيں بچھونے
ہرشخص کو ساماں يہ ميسر نہيں ہوتا
مکھي نے کہا خير ، يہ سب ٹھيک ہے ليکن
ميں آپ کے گھر آئوں ، يہ اميد نہ رکھنا
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سوجائے کوئي ان پہ تو پھر اٹھ نہيں سکتا
مکڑے نے کہا دل ميں سني بات جو اس
پھانسوں اسے کس طرح يہ کم بخت ہے دانا
سوکام خوشامد سے نکلتے ہيں جہاں مي
ديکھوجسے دنيا ميں خوشامد کا ہے بند
يہ سوچ کے مکھي سے کہا اس نے بڑي بي
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتي ہے اسے آپ کي صورت سے محبت
ہوجس نے کبھي ايک نظر آپ کو ديکھا
ہيں کہ ہيرے کي چمکتي ہوئي کنياں
سرآپ کا اللہ نے کلغي سے سجايا
حسن ، يہ پوشاک ، يہ خوبي ، يہ صفائي
پھراس پہ قيامت ہے يہ اڑتے ہوئے گانا
مکھي نے سني جب يہ خوشامد تو پسيجي
بولي کہ نہيں آپ سے مجھ کو کوئي کھٹکا
انکارکي عادت کو سمجھتي ہوں برا ميں
سچ يہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہيں ہوتا
يہ بات کہي اور اڑي اپني جگہ سے
پاسآئي تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
بھوکاتھا کئي روز سے اب ہاتھ جو آئي
آرام سے گھر بيٹھ کے مکھي کو اڑايا