**پرشانب بھوشن کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے ڈوسیئر میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کے سلسلے میں جو ثبوت پیش کیے ہيں ان میں ’مٹیریل پروف‘ مثلا جی پی ایس، سیٹلائٹ فون، پستول، مبینہ طور پر پاکستان میں بنے ہوئے ساز وسامان، کھانے پینے کی چیزیں، ڈیزل کے ڈرم، کپڑے، ٹوتھ پاؤڈر اور صابن وغیرہ کی تصویریں شامل ہيں۔ ** **اس ڈوسیئر میں سیٹلائٹ فون پر بات چیت کا اقتباس بھی شامل ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ بات چیت حملہ آوروں اور پاکستان میں واقع لشکر کے ایک سینئر رہنما کے درمیان ہورہی تھی۔ **
ثبوتوں میں زندہ پکڑے گیے حملہ آور اجمل قصاب کے اقبالیہ بیان کا بھی کچھ حصہ شامل ہے۔
**مٹیریل ثبوت
اس سلسلے میں پرشانت بھوشن کہتے ہیں کہ جہاں تک مٹیریل ثبوتوں کی بات ہے انہيں عدالت میں ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ ساز و سامان ممبئی حملوں کے دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کیے گیے ہيں۔ چونکہ پستول، پاکستان کے بنے ہوئے سامان، صابن اور کپڑا وغیرہ کہیں سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہيں اس لیے قانونی طور پر شدت پسندوں سے ان کی برآمدگی عدالت میں ثابت کرنی پڑے گی۔ **
**سیٹ فون
’سیٹلائٹ فون ایک اہم ثبوت ہے۔ کیوں کہ یہ کسی مخصوص شخص یا کمپنی کے نام رجسٹرڈ ہوتا ہے۔ اگر تفتیشی ادارے ان پر کی گئی بات چیت کے نمبر اور ان کی تفصیلات سیٹ فون کی کمپنی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہيں تو یہ بات چیت کرنے والوں کی شناخت کے تعین کا ایک اہم ثبوت ہوگا۔ **
**لیکن ڈوسیئر میں یہ نہيں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے تفتیش کاروں نے یہ کس طرح متعین کیا کہ یہ حملہ آور جن سے بات کر رہے تھے وہ نمبر پاکستان کے ہيں اور ان پر بات کرنے والے پاکستانی تھے۔‘ **
**قصاب کا اقبالیہ بیان
پرشانت بھوشن کے مطابق عدالت میں پولیس کو دیے گیے اجمل کے اقبالیہ بیان کی کوئی اہمیت نہيں ہوگی صرف عدالت کے سامنے دیے گیے بیان کو ہی تسلیم
**
BBCUrdu.com | ??? | ??? ??? ?? ??? ?? ??? ???
COmment: Okay gist of teh article is that its not possible for Pakistan to act on anything unless the proofs are handed over to Pakistan and dossier is not a proof but a claim to have proofs.