Improving Schools To be done by Army

**پاکستان کے سرکاری سکولوں میں بجلی، پینے کے پانی، بیت الخلاء، چار دیواری اور عمارت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے چوبیس ارب روپے سے زائد کا ایک منصوبہ پاکستان فوج کے ذریعے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ **
یہ منصوبہ تعلیم کے شعبہ میں صدارتی اصلاحات کے تحت شروع کیا جا رہا ہے اور پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن نے اس منصوبہ کی باقاعدہ منظوری بھی دے دی ہے۔
پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے ترجمان و سینئر جائنٹ سیکرٹری آصف شیخ نے اس منصوبہ کے حوالے سے بتایا کہ فوج نے ملک کے سرکاری سکولوں میں ان سہولیات کی عدم دستیابی کا سروے کیا تھا اور اس کو مدنظر رکھ کر یہ منصوبہ فوج کے ذریعہ مکمل کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج اس منصوبہ کی نگرانی کرے گی اور یہ منصوبہ مکمل کرائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوج کے ذریعے یہ منصوبہ بہتر انداز میں مکمل ہوگا۔ فنڈز کا استعمال بھی بہتر ہو سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں اس منصوبہ کی لاگت اکتیس ارب روپے تھی جسے بعد میں کم کرکے چوبیس ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وفاقی وزارت تعلیم اور پاکستانی فوج کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔ اس یاداشت کے تحت وزارتِ تعلیم اور متعلقہ صوبائی ادارے اس منصوبے میں فوج کی طرف سے فراہم کردہ خدمات کو صیغہ راز میں رکھنے اور فوج کی اجازت کے بغیر یہ معلومات کسی کو فراہم نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

اس منصوبے کو پاک فوج کی چار کور تین، پانچ، گیارہ اور بارہ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ پانچ سالوں میں پائہ تکمیل تک پہنچےگا اور وزارتِ تعلیم منصوبے کے سارے فنڈز ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کو جاری کرے گی۔
انجینئرنگ کور کے کمانڈر بریگیڈئر کی سطح کے افسر کو پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کریں گے جبکہ منصوبے کے تحت پچاس لاکھ روپے تک کا منصوبہ پراجیکٹ ڈائریکٹر جبکہ پچاس لاکھ روپے سے زائد کے منصوبے کی منظوری کور کمانڈر دے گا۔
منصوبہ کے لیے مختص فنڈز میں سے فوج کو اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک سو انتالیس گاڑیاں خرید کر دی جائیں گی اور پٹرول گاڑیوں کی خریداری اور دیکھ بھال پر مجموعی طور پر اس منصوبہ سے اکتیس کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو اس منصوبے میں خدمات سرانجام دینے پر الگ سے ڈیوٹی الاؤنس اور دیگر سہولیات جس میں رہائش بھی شامل ہوگی، فراہم کی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت فوج کو گاڑیاں فراہم کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کے تحت گاڑیوں کی تعداد کم کی گئی ہے تاہم انہوں نے تعداد نہیں بتائی کہ کتنی گاڑیاں اس منصوبے کے لیے فوج کو خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ وزارت تعلیم یا کسی اور ادارے کی طرف سے یہ منصوبہ فوج کو دینے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا بلکہ منصوبہ بندی کمیشن نے خود یہ منصوبہ فوج کے ذریعے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان میں کیے گئے تعلیمی سروے کے مطابق سرکاری شعبہ میں چلنے والے پچاس فیصد سکول بجلی، پینے کے صاف پانی، چار دیواری، بیت الخلاء اور عمارت کی سہولیات سے محروم ہیں۔

Comments:
Invited

Re: Improving Schools Tobe done by Army

My comment is that reading urdu in this script is not easy.

Re: Improving Schools Tobe done by Army

I thinks its good. It may not be preferable, but when army does something in development they do it right.

Even though it may be undesirable (if the army does it and not established civil institutions), but it will yield positive results :insha:

Re: Improving Schools To be done by Army

More money for army generals :dhimpak:

Re: Improving Schools To be done by Army

The funny thing is that according to MOU signed, education deptt will not reveal any information about services of army without army's permission.

Is this a matter of national security? Are they going to install nuclear weapons in schools that it has to be kept secret?

Or is it like a "Theka" or militarization of education.

Re: Improving Schools To be done by Army

^ its all about covering their greedy/corrupt behinds.

Re: Improving Schools To be done by Army

before it was collecting utility bills now schools... why am I not surprised.

Re: Improving Schools To be done by Army

Well when there not at war, may as well make them public servants.

Re: Improving Schools To be done by Army

I can't read this. Will the schools be free? Will they be placed in villages, or just in Lahore?

Re: Improving Schools To be done by Army

yah I cant read Urdu either. I opted for German in high school, not Urdu. Urdu is far to foreign for my Europeanized eyes.