Iftikhar Arif Ghazal

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے
گہرے زرد زمین کی رنگت دھانی کرتا ہے

بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ
کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے

مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص
درد کے ہر میثاق سے رو گردانی کرتا ہے

یادوں سے اور خوابوں سے اور امیدوں سے ربط
ہو جائے تو جینے میں آسانی کرتا ہے

کیا جانے کب کس ساعت میں طبع رواں ہو جائے
یہ دریا بے موسم بھی طغیانی کرتا ہے

دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

#افتخارعارف