Shocking beyond beleif.
I hope such Mullahs are stoned to death. I sincerely hope that some one in authorities makes sure that they are actually punished and not just an FIR which is forgotten later.
**جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں پولیس نے ایک دینی مدرسے پر چھاپہ مار کر پچیس ’محبوس‘ طلباء کو بازیاب کرانے کے بعد مدرسے کے مہتمم قاری غلام رسول کو حراست میں لے لیا ہے۔ **
قاری غلام رسول کا دعویٰ ہے کہ جب پولیس نے ان کے مدرسے پر چھاپا مارا تو کوئی بھی طالبعلم نہ تو قید تھا اور نہ ہی بیڑیوں میں جکڑا ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے مدرسے سے بھاگے ہوئے ایک طالبعلم کو ان کے مخالفین ان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
قاری غلام رسول پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ زیر تعلیم طلباء کو نا صرف بیڑیاں باندھ کر رکھتے بلکہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بناتے رہے ہیں۔ بازیاب ہونے والے طلباء کی عمریں پانچ سے پندرہ برس کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔
مظفرگڑھ کے ضلعی پولیس افسر رائے محمد طاہر کے مطابق پولیس نے تحصیل کوٹ ادو کے نواحی علاقے موضع ہالہ میں واقع دینی مدرسے کے ایک طالبعلم پندرہ سالہ عرفان کی اطلاع پر چھاپہ مارا تو تین طلباء کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا پایا جبکہ بائیس طلباء مدرسے کے دو مختلف کمروں میں بند تھے، جن کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔
ضلعی پولیس افسر کے مطابق بازیاب کرائے گئے کچھ طلباء نے قاری غلام رسول پر جنسی زیادتی کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ انہیں مدرسے سے جنسی قوت بڑھانے والی ادویات اور انجکشنز بھی ملے ہیں۔اس حوالے سے نو اور بارہ سال عمر کے دو طلباء کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے، جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔