Haan Meri Qabr Pe Bhi Naam Na Likha Hoga

ہاں میری قبر پہ بھی نام نہ لکھا ہوگا
دار پر لٹکا ہوا میرا جو لاشہ ہوگا

سرخ کھلتے ہوئے پھولوں کے گلستاں کی جگہ
ایک جھلسا ہوا کانٹوں کا بچھونا ہوگا،

پل میں جب لوٹ لیا جائے گا خوشیوں کو میری
مسکراتا ہوا ہر شخص کا چہرہ ہوگا،

خار ہیں خاک پہ بکھرے ہوئے پھولوں کی طرح
ہاں یہاں پر کوئی دیوانہ ہی رہتا ہوگا

وہ تو بن جائے گی کل اور کسی کی لیکن
آنسوُں میں میرے وہ چہرہ جھلکتا ہوگا

ساز بھی راگ بھی اور محفلِ رندانہ بھی
بے وفائی کا بہت خوب ارادہ ہوگا

کل وہ آئیگی پلٹ کر میرے دروازہ پر
اور آنگن میں پڑا میرا جنازہ ہوگا،

یاد کرنے کے لئے عاشقِ تنہائی کو
نہ کوئی مجلس و ماتم نہ فاتحہ ہوگا،

بھول جائے گا زمانہ تیری بیباکی کو
بس لبِ عام پہ غربت کا تزکرہ ہوگا،

زندگی بوجھ سی لگتی تھی جسے کل پرسوں
آج دنیا میں تماشا بنا پھرتا ہوگا

موسمِ گرم ہو یا سرد سی ہوائیں چلیں
اِس غمِ دل میں اضافہ ہی اضافہ ہوگا

(RARI)

Re: Haan Meri Qabr Pe Bhi Naam Na Likha Hoga

poerty to bohat zabardast hy
per itni sad :teary1:

Re: Haan Meri Qabr Pe Bhi Naam Na Likha Hoga

hamain ghumalood shairi karnay ka shauq hai

Re: Haan Meri Qabr Pe Bhi Naam Na Likha Hoga

موسمِ گرم ہو یا سرد سی ہوائیں چلیں
اِس غمِ دل میں اضافہ ہی اضافہ ہوگا

Is it your own poetry ?

Re: Haan Meri Qabr Pe Bhi Naam Na Likha Hoga

Yes