Haal Hulya Kalam kab Daikhy...

حال حلیہ کلام کب دیکھے
دل یہ رتبہ مقام کب دیکھے

تھام لے ہاتھ یہ فقیروں کا
کون مالک غلام کب دیکھے

جو سکھائے گئے ہیں دنیا میں
دل وہ کلیہے تمام کب دیکھے

جس پہ آئے, اسی پہ مر جائے
غیر کے یہ خرام کب دیکھے

سامنے ہو خیال جب اس کا
آنکھ منظر تمام کب دیکھے

کوئی قاصد جو آئے اس در سے
چوم لے منہ پیام کب دیکھے

گر رقیبوں کی بات آ جائے
دل مروت سلام کب دیکھے

ساری دنیا کو دل یہ للکارے
اپنی خالی نیام کب دیکھے

ہے بری بات دل میں یہ ابرک
دل حلال و حرام کب دیکھے

جو طبیعت کا ایک مجنوں ہو
وہ زمانہ نظام کب دیکھے

…اتباف ابرک