Golden oldies!

Golden oldies! Grandparents were a rare breed until 30,000 years ago… when life expectancy grew

Read more: Life expectancy: Grandparents were a rare breed until 30,000 years ago | Daily Mail Online
Follow us: @MailOnline on Twitter](http://ec.tynt.com/b/rw?id=bBOTTqvd0r3Pooab7jrHcU&u=MailOnline) | DailyMail on Facebook

Grandparents are a relatively new phenomenon, researchers said today.
Until around 30,000 years ago, mankind’s ancestors had lifespans that were too short for three generations to live side-by-side, according to a study.
Simply, most people died before they were old enough to have grandchildren.

Scientists said their findings show that once life expectancy began to grow, populations expanded and societies started to thrive.

It is even possible that early humans’ longer lifespans may have been the key factor which allowed them to establish their superiority over competitors like Neanderthals.

A long-running research project, studying the fossils of proto-humans stretching back three million years, reported some of its findings in the magazine Scientific American.

Anthropologist Rachel Caspari said that by examining Neanderthal dental records, her team established that 130,000 years ago, ‘no-one survived past 30’, which was the age at which they would have become grandparents.

The study, which involves fossil remains from 768 individuals, has been calculating the ratio of older to younger adults in ancient human societies down the millennia.

In the Neanderthal culture there were just four adults past the age of 30 for every 10 young adults. The average life expectancy was between 15 and 30.

Early man: Until relatively recently, very few humans lived long enough to have grandchildren

However, when researchers turned to the European humans of the early Stone Age, they discovered that the ratio of older to younger adults was 20 to 10, meaning that many people were now living to have grandchildren.

Scientists have concluded that ‘adult survivorship soared very late in human evolution’, but have so far been unable to explain the phenomenon.

But what is clear is that the longer lifespans brought huge advantages to early human society.

Not only did grandparents increase the ‘economic and social resources’ of a group, they also passed on ‘cultural knowledge’, such as traditional hunting techniques, to their descendants.

Eventually, according to the magazine article, 'Longevity became a prerequisite for the unique and complex behaviours that signal modernity.

‘These innovations in turn promoted the importance and survivorship of older adults, which led to the population expansions that had such profound cultural and genetic effects on our predecessors.’

The article concluded that early humans were ‘older and wiser’ than their rivals, which allowed them to out-compete and eventually exterminate them.

These new findings may explain how the human population recovered after being reduced to no more than a few thousand, as reported earlier this week.

A recent study claimed that the group which went on to populate Europe and Asia numbered only 1,200 people at one point.

However, it may be that the advances in longevity promoted rapid population growth which allowed humanity to re-establish itself.

Read more: Life expectancy: Grandparents were a rare breed until 30,000 years ago | Daily Mail Online
Follow us: @MailOnline on Twitter](http://ec.tynt.com/b/rw?id=bBOTTqvd0r3Pooab7jrHcU&u=MailOnline) | DailyMail on Facebook

Read more: http://www.dailymail.co.uk/sciencetech/article-2016759/Life-expectancy-Grandparents-rare-breed-30-000-years-ago.html#ixzz4LaddKopP
Follow us: @MailOnline on Twitter](http://ec.tynt.com/b/rw?id=bBOTTqvd0r3Pooab7jrHcU&u=MailOnline) | DailyMail on Facebook

Re: Golden oldies!

[RIGHT]چھائی ،برائی ، انسان اور ارتقاء !!!
ہم پاکستانیوں میں بیشتر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اچھائی اور برائی میں تمیز مذہب کی دین ہے ،اس "مائنڈ سیٹ"میں ہما رے بھائیوں کا بھی کوئی قصور نہیں ہے ، ہمیں بچپن سے ہی الله سے ڈرنے کی ڈاکٹرین سے گزرنا پڑتا ہے ، بچے کو ہر بات پرالله دیکھ رہا ہے … الله مارے گا …یہ گناہ ہوگا … وہ گناہ ہو گا …وغیرہ وغیرہ جیسے برین واشنگ مر حلے سے گزرا جاتا ہے .اسی برین واشنگ سے گزرتے جب بچہ سمجھنے کی عمر میں پہنچتا ہے تو صرف مذھب اسلام میں موجود اچھائی اور برائی کے پیمانے جو چودہ سو سال پہلے طے کر لئے گیے تھے ہی مستقل طور پر دماغ میں گھرکر چکے ہوتے ہیں ،جس کا مظاہرہ ہم اس گروپ میں اکثر دیکھتے ہیں ،ایسا لگتا ہے جیسے ان خدائی مذہبوں سے پہلے انسان کے پا س اچھائی برائی کا کوئی پیمانہ نہیں تھا ،ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے اسلام نے ہی اچھائی برائی میں تفریق سمجھا ئی لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ آخر یہ اچھائی اور برائی کیا ہیں ؟
اچھائی برائی نے انسان کی دنیا میں کیسے جگہ بنائی ؟
کس طرح کل کی برائی آج کی اچھائی اور آج کی برائی گزرے کل کی اچھائی دیکھا ئی دیتی ہے ؟
کیا یہ اچھائی برائی کا پیمانہ ایک سا رہ سکے گا ؟
کیا اچھائی اور برائی کے اس پیمانے کو ایک ہی مرتبہ میں ہمیشہ کے لیے فکس کیا جا سکتا ہے ؟
کیا اس تیزی کے ساتھ بدلتی زندگی اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہووے انسانوں کے لئے چودہ سو سال پہلے طے ہونے والے یہ پیمانے رہتی دنیا تک کے لئے متوازن رہ سکتے ہیں ؟
جب ہم ان باتوں کا جواب مذہب اسلام سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو انسان میں برائی اور اچھائی کا اصل موجد حضرت شیطان ہے ، لالچ سے لیکر سیکس تک حضرت شیطان کا انسان پر مکمل کنٹرول ہے ،اس خیالی اور دیو مالائی قصے پر پورا ایک کامیڈی ڈرامہ لکھا جاسکتا ہے لیکن ہم یہاں مختصراً انسان میں برائی اور اچھائی کی پروان پر نظر مارتے ہیں
پیچھلے ڈیڑھ دو سو سال میں آرکیالوجیکل دریافتیں ،پرانی لٹریچر کے تراجم ، سائن اور کوڈ لینگویج کے سمجھنے میں بریک تھرو ،کاربن ڈیٹنگ ،مڈیکل ڈیسکوریز ڈی این اے کی جانکاری غرض کہ جدید ٹیکنولوجی کی وجہ جتنا انسان آج اپنے بارے میں جانتا ہے شائد اتنا اپنی تاریخ میں پہلے کبھی جانتا ہو ،ملے ہوے شوھدات اور انسان کی عادات میں اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کرتے ہووے ہم بڑے آرام سے کامن سینس کا استمعال کرتے ہووے اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ یہ اچھائی ،برائی، گناہ یہ جرم سب ہمارے تجربات اور ہمیشہ تبدیل ہونے والی بہتری کی ضرورت کا نتیجہ ہیں ،
انسان اصل میں ایک وائلڈ جنگلی جانور پیدا ہوتا ہے ،دماغ ایک بلینک یعنی خالی سلیٹ ہو تی ہے ،لیکن اپنی بقاء اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے پوری طرح اکویپٹ ہوتا ہے ، ایک چھوٹے بچے کو آپ پول یا کھڑے پانی میں پھینک دیں ، وہ بچہ مرنے کے ڈر اور زندہ رہنے کے لالچ میں تیرنا شروع کر دیتا ہے ، کسی بھی پہلے ان دیکھی چیز کو خطرہ سمجھ کرڈر سے رونا شروع کر دیتا ہے کسی اونچی آواز سے دل دھک دھک کر اٹھتا ہے اور ماں یا جانی پہچانی شخصیت کی طرف لپک پڑتا ہے ،
اصل میں ڈر اور لالچ بقاءکی ا اہم ضرورتیں ہیں ، ہم آج ایک کہاوت بولتے ہیں " جو ڈر گیا وہ مر گیا "حالنکہ حقیقت میں جو ڈرتے نہیں ہیں انھیں کے مرنے کے زیادہ چانسس ہو تے ہیں " .آپ تقریباً سبھی جانوروں سے اس بات کا نجوبی جائزہ لے سکتے ہیں کہ زندگی کی بقا کی اس جنگ میں ماں باپ اپنے ابو اجداد کے ڈر اور لالچ کے تجربے کو سپرم میں ہی ہارڈ وائر کی طرح بچے میں منتقل کر دیتے ہیں ،اس کے لئے سدھاۓ جانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ،اسطرح زندہ رہنے کے لئے موت سے ڈرنا اور زندہ رہنے کا لالچ ضروری ہے .
اب یہ مرنے کا ڈر اور جینے کا لالچ ہماری بقا میں ایک بنیادی کردار اد کرتا ہوا مختلف ارتقائی منازل کرتا ہوا آج ا اچھائی برائی میں تبدیل ہو چکا ہے ،آج تک ملی ہڈیوں اور ڈھانچوں سے پتہ چلتا ہے کہ آج سے تقریبن تیس پنتیس ہزار سال پہلے تک ہم ایک خاندان کی شکل میں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں رہتے تھے ،دس سے پندرہ کی تعداد پر مشتمل اس خاندان جس میں لوگوں کی عمر اوسطأ پندرہ سے تیس سال تھی ،زندہ رہنے کے لئے نہ ختم ہونے والی کھانے کی ضرورت کی خا طر اور اپنے آپ کو سلامت رکھنے کے لئے ہمارا ہمیشہ حرکت میں رہنا ایک لازمی عمل تھا ،
ایک ہی جگہ پر انسان سمیت تمام درندے سمٹے ہوتے تھے ، ہمیں مسلسل چوکنا رہنا پڑتا تھا ، ایک چھوٹی سی آھٹ کو پہچاننے کی غلطی آپ کو زندگی سے فارغ کر سکتی تھی ،یہی وجہ ہے کہ آج بھی کوئی اچانک اونچی یا نہ مانوس آواز آپ کے رونگٹے کھڑے کرنے کے علاوہ دل کی دھڑکن تیز کر دیتی ہے ،ایسی خوفناک جگہ پر رہتے ہووے کسی کو اپنا کھانا بنانے سے پہلے خود کسی کا کھانا بننا پڑ سکتا تھا ، شکار کا شکاری پھر شکاری کا شکاری پھر اس شکاری کا شکاری ، اگر آپ ان حالات میں اگر آپ اپنی عار ضی کمین گا ه تک پہنچ بھی گیے ہیں تو آپ جیسا کوئی اور خاندان آپ کو کھانے میں کمپیٹیشن جانتے ہووے یا خطرہ جانتے ہووے آپکا رام نام ست کر سکتا تھا ،
یوں تو آج سیکس کو ہم لوگوں نے ایک ٹیبو بنا کر رکھ دیا ہے لیکن اصل میں یہ انسان کے چند ایک نیادی میکنزم میں سے ایک ہے ،جس طرح بچہ پیدا ہوتا ہے اس کا میکنزم اس کو کھانا کھانے کا احساس دلاتا ہے ٹھیک اس طرح بچے کا مکنیزم اس کے عضو تناسل کو کھڑا کرنا شروع کر دیتا ہے جونہی بچہ پانچ چھ مہینے کا ہو جاتا ہے وہ تکیے پر یا اپنے ہاتھ سے اپنے عضو تناسل کی رگڑنا شوروع کر دیتا ہے حالنکہ بچے کو اس عمل کی سمجھ بھوجھ بھی نہیں ہوتی ، لیکن پھر بھی اس کی باڈی اپنے جین کی بقا کی خاطر ابتدائی عمر میں ہی ڈولپمنٹ موں مصروف ہو جاتی ہے ،
اب انھیں باتوں کو مد نظر رکھتے ہووے ہم اس وقت کے انسانوں کی زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں ہما رے اس ایک خاندان میں تین سے چھ عورتیں ہوتیں دو تین بچے باقی مرد ہوتے تھے ،جو ایک دوسرے کے سامنے شرم و حیا سے پاک ننگے گھومتے تھے،انسان کی اس مختصر زندگی میں کھانا ، بچنا ، اور نسل بڑھانا ہی ترجیحی کام تھا ،ہر خاندان کے ا الفا میل یعنی طاقتور آدمی کے تصرف میں سا ری عورتیں ہوتیں خونی رشتوں میں تمیز کے با رے میں کوئی علم نہیں تھا ،
یہ خاندان یا انسانوں کی ٹولی ہر وقت متحرک رہتی ،اگر کوئی محفوظ جگہ مل جاتی تو اس کو عارضی مسکن بنا لیا جاتا، انسانوں کی یہ ٹولیاں ایک دوسرے کو خطرہ جانتے ہووے اس ہاسٹائل ماحول میں ایک دوسرے سے دور رہتیں تھیں اور اگر ایک دوسرے سے کھیں ٹکراؤ ہو گیا تو وہ انتہائی ڈیڈلی ہوتا تھا ،آپس میں تعاون اور کمیونیکیشن نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ذاتی تجربات کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے سے قاصر تو تھے ہی لیکن اوپر سے عمرکم ہونے کی ستم ظریفی ،
جیسا کے اوپر بتایا جا چکا ہےفوسل ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریبن تیس ہزار سال پہلے تک انسان کی اوسطأ عمر پندرہ سے تیس سال کی ہوتی تھی جس کی محتلف وجوہات ہو سکتیں ہیں ،مسلسل انبریڈنگ یعنی اپس میں فیملی میں ہی سکس کے نتیجے میں پیدا ہونے کی وجہ مدفیعاتی قوت انتہائی کمزور رہتی ، کوئی بھی معمولی انفکیشن ، ہڈی کا ٹوٹنا ،بخار ، کسی زہریلے مچھر کیڑے مکھی کا کا ٹ جانا کسی انجانے زہریلے پھل یا جڑی بوٹی کا نگل جانا وغیرہ وغیرہ ، اسلیے اگر ایک بچہ پندرہ سال کی عمر باپ بنتا تھا تو اس کا باپ مر چکا ہوتا تھا ،گرینڈ پیرنٹس یعنی دادا دادی نانا نانی کی پود نہ ہونے کے برابر تھی اگر ہوتی بھی تو بچے کے سمجھنے کی عمر پہنچنے کے بہت پہلے ختم ہو جاتی تھی اس وجہ سے بچہ صرف باپ سے بھی پورا تجربہ یا زندگی کی تکنیک کا علم حاصل نہیں کر پا تا تھا ،
لیکن آج سے تیس ہزار سال کے بعد کے فوسل ریکارڈ پتہ چلتا ہے کہ یہاں سے دنیا میں مختلف خطوں میں بتدریج انسان کی عمر میں اضافہ ہونا شروع ہوا یورپین انسانوں میں ہر بیس نوجوانوں کے مقا بلے میں دس ایسے لوگ تھے جو تیس سال کی عمر سے زیا دہ کے تھے ،جس ک مطلب ہوا کہ دادا دادی اور نانا نانی کے دور کی شروعات تھیں ، یہی وہ وقت تھا جب انسانوں کی یہ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں چالیس چالیس پچاس پچاس پر مشتمل شکاریوں کی شکل میں اکٹھے ہونا شروع ہووے ، یہیں سے انسان نے اپنے حریفوں پر مکمل عظمت پانے کا عمل شروع کیا ،یہیں سے انسان کی ضرورتیں تبدیل ہوتیں ہیں اور انسانی عادت میں ایک نا ختم ہونے والی تبدیلی کو نیا رخ ملتا ہے
جس کو آج ہم اچھائی اور برائی کے نام سے جانتے ہیں
نوٹ (جن حضرت کو فوسل ریکارڈ کے متعلق جانکاری چاہیے ان کے لئے لنک دیا جارہا ہے یہ تھریڈ مکمل طور پر انسانی عادات کے ارتقا کے متعلق ہے نہ کے انسانی جنیٹکس کے مطلق ہے اس لئے کوشش کی جائے کہ بات پوسٹ کے مد میں ہی بات ہو ) [/RIGHT]http://www.dailymail.co.uk/…/Life-expectancy-Grandparents-r…
[RIGHT](جاری ہے )

Haji Mast Ali - Pakistani free thinkers[/RIGHT]