Gila - by Amjad Islam Amjad

گلہ ہوا سے نہیں ہے ہوا تو اندھی تھی

مگر وہ برگ کہ ٹوٹے تو پھر ہرے نہ ہوئے

مگر وہ سر کہ جھکے اور پھر کھڑے نہ ہوئے

مگر وہ خواب کہ بکھرے تو بے نشاں ٹھہرے

مگر وہ ہاتھ کہ بچھڑے تو استخواں ٹھہرے

گلہ ہوا سے نہیں تُندیٔ ہوا سے نہیں

ہنسی کے تیر چلاتی ہوئی فضا سے نہیں

عدو کے سنگ سے اغیار کی جفا سے نہیں

گلہ تو گرتے مکانوں کے بام ودر سے ہے

گلہ تو اپنے بکھرتے ہوئے سفر سے ہے

ہوا کا کام تو چلنا ہے اس کو چلنا تھا

کوئی درخت گرے یا رہے اُسے کیا ہے

گلہ تو اہلِ چمن کے دل و نظر سے ہے

خزاں کی دھول میں لپٹے ہوئے شجر سے ہے

گلہ سحر سے نہیں رونقِ سحر سے ہے

Re: Gila - by Amjad Islam Amjad

hawa ka kam to chalna hy usko chalna tha
kor darakht giry ya rahy usy kia hy :lajawab:

Re: Gila - by Amjad Islam Amjad

:k::k: