[RIGHT]فرانس میں تبلیغ اسلام اور حجاب کے بعد حلال گوشت پر پابندی کی تیاریاں](http://ahwaal.com/index.php?option=com_content&view=article&id=12449%3A2012-03-31-23-34-15&catid=31%3A2011-08-25-09-52-49&Itemid=35&lang=ur)
[/RIGHT]
L
فرانس میں تبلیغ اسلام، حجاب اور مسجد کے میناروں کے بعد اب حلال گوشت اور حلال کھانوں کے خلاف بھی مہم شروع ہوگئی ہے، دارالحکومت پیرس میں ان دنوں اسلامی اصولوں کے مطابق حلال گوشت بیچنے اور کھانے کا بڑھتا ہوا رحجان اب سیاسی موضوع بحث بنتا جارہا ہے، گزشتہ دنوں ایک فرانسیسی ٹیلی ویژن چینل نے اپنی نشریات میں ایک دستاویزی فلم کے ذریعے یہ انکشاف کیا کہ پیرس میں لگ بھگ 95 فیصد ذبحہ خانے بڑھیت ہوئی مانگ کے پیش نظر حلال گوشت بیچتے ہیں، اس دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے بعد بعض سیاسی جماعتیں، مذہبی ادارے، سوشل گروپ او این جی اوز اس رحجان پر مشتعل نظر آتے ہیں، چند سیاسی جماعتیں اس حلال مسئلہ کو مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کیلئے اپنے سیاسی منشور کا حصہ بنا رہے ہیں۔ پیرس کے میئر نے ان کھانوں اور گوشت کو متصبانہ قرار دے دیا ہے۔ اور اسکی وجہ یہ بتائی ہے کہ فرانس کی ایک فاسٹ فوڈ کمپنی نے یہ اعلان کیا ہے کہ اس کے ریسٹورنٹوں میں صعرف حلال گوشت فراہم کیا جائے گا کہ ان کے گاہکوں کی بڑی تعداد مسلمان ہے۔ اس پر فرانس کے سیاسی رہنماؤں نے فوڈ کمپنی کے اس اعلان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے مذہبی تعصب قرار دیا ہے چونکہ یہ فاسٹ فوڈ کمپنی حلال گوشت فراہم کرنے کیلئے گاہکوں سے اضافی رقم بھی وصول کرے گی جس پر فرانسیسی سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ دوہری ناانصافی ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص (مسلم و غیر مسلم) حلال غذا ہی کھانا چاہتاہو تاہم کمپنی نے اس دلیل کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اضافی رقم تو دینی ہی پڑے گی تاہم اگر کسی کو حلال گوشت پسند نہیں تو وہ کہیں اور جاسکتا ہے لیکن یہ بات اتنی سہل نہیں کہ مغربی معاشرہ اسے ہضم کرسکے۔ اس حوالے سے لیلی میں منعقدہ ایک رییلی سے خطاب کرتے ہوئے PEN نامی صدارتی امیدوار نے کہا ہے کہ پیرس میں تمام ذبحہ خانے ایک خاص اقلیت کے طریقہ کار کو اپنا رہے ہیں وہ اس سلسلہ میں قانونی کارروائی کی اپیل بھی کریں گے پیر سہی سے تعلق رکھنے والے مویشیوں کی خریدو فروخت کرنے والی ایک کمپنی کے سربراہ ہال پی جین نے اپنے ایک انٹرویو میں نامہ نگار کو بتایا ہے کہ ان کے گروپ اور کمپنی کے ایک سروے کے مطابق پیرس اور اس کے مضافاتی علاقوں میں 100 فیصد ذبحہ خانے اسلامی طریقے کے مطابق جانوروں کو ذبحہ کرتے ہیں اس اقدام کے نتیجہ میں سارے فرانس میں موجود تمام افراد کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر حلال گوشت کھلایا جارہا ہے۔ ادھر برطانیہ میں بھی ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا ہے کہ برطانیہ کے سینکڑوں ریستورانوں میں لوگوں کو بتائے بغیر حلال کھلایا جارہا ہے، برطانوی اخابری سن کی ایک رپورٹ کے مطابق ریستورانوں کے علاوہ سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سپورٹس کی بڑی جگہوں پر ہزاروں افراد کو خبردار کئے بغیر بڑی مقدار میں حلال گوشت کھلایا جارہا ہے، اخبار کے مطابق ایسے اقدام اٹھانے پر کئی مقامات گاہکوں نے شدید احتجاج کیا ہے سکولوں میں گوشت کھلانے سے پہلے اس کے (جانور) کلنگ کے طریقہ کار سے متعلق مفصل بتایا جائے۔ لندن میں حلال فوڈ اتھارٹی کے صدر پاکستانی نژاد برطانوی مسعود خواجہ نے کہا ہے کہ لوگوں کو بتائے بغیر حلال گوشت کھلانا غیر اخلاقی حرکت ہے جوکہ بالکل غلط ہے، مسعود خواجہ نے کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں ں کے پاس حلال گوشت کھانے کا چوائس موجود ہے اس طرح غیر حلال کھانے والوں کیلئے بھی چوائس ہونی چاہئے، خواجہ کا کہنا ہے کہ ہر گاہک کو اس بات کا صحیح اور مکمل اطلاع ہونی چاہئے کہ اسے کیا کھلایا جارہا ہے؟ یا وہ کیا کھا رہا ہے؟ برطانیہ کی فارم ویلفیئر اینیمل کونسل نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ حلال گوشت پر پابندی لگائی جائے جبکہ بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ گاہکوں کو کھانوں کے بارے میں ممل معلومات دی جائیں اور باخبر کیا جائے۔
source