[RIGHT]: ”آپ صدر جنرل پرویز مشرف کو ان کے تجربے اور حقیقت پسندی کی بنیاد پر ”مدبر“ قرار دے کر موصوف کے ساتھ کچھ زیادتی کر جاتے ہیں! کیونکہ مدبر وہ ہوتاہے جو اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر قوم کے حال و مستقبل کو بہتر بنانے کی استعداد کا مظاہرہ کرے۔ ڈیگال اور نیلسن منڈیلا کی طرح وہ برطانوی ڈاکٹر بھی اس حوالے سے مدبر کہلائے گا جس نے مغل بادشاہ کا کامیاب علاج کرنے کے عوض سونے میں تُلنے کی بجائے بادشاہ سے انگریزوں کے لئے تجارتی حقوق حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ یہ تدبر آگے چل کر سلطنت برطانیہ کی وسعت کی بنیاد ثابت ہوا۔ صدر مشرف کے تدبر کا یہ حال ہے کہ بش کے دورے کے موقع پر نیب سے محترمہ بے نظیر سے متعلق شہ سرخیوں سے ”خبر“ شائع کرائی جاتی ہے کہ فلاں ملک میں بھی محترمہ کے ”اثاثے“ جو کرپشن کا نتیجہ تھے ، منجمد کر دیئے گئے ہیں اگر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے سیکڑوں سربراہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر مقرر کرنا تدبر ہے تو یقینا جنرل مشرف ایک ”مدبر“ ہیں۔ اگر کھلا وعدہ کرکے ایم ایم اے سے ایل ایف او منظور کرانا لیکن اس پر قائم نہ رہنا تدبر ہے تو پھر ٹھیک ہے جنرل ضیاء کے ساتھیوں نے اسلحہ اور منشیات سے اربوں روپے بنائے بلکہ جنرل ضیاء الحق نے تو ولی خان مرحوم کو بھی ہیروئن کا کاروبار کرنے کی مبینہ ”ترغیب“ دی تھی! آج اکیلا ڈاکٹر قدیر قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے اور اس دھندے سے فیضیاب ہونے والے جرنیل آزاد پھر رہے ہیں۔ انہوں نے تو محترمہ کو بھی اس نفع بخش ”کاروبار“ پر راغب کرنے کی کوشش کی تھی۔ ”مدبر تو کجا جنرل مشرف کو تو ہوشیار کھلاڑی بھی نہیں کہا جا سکتا۔ امریکا اور بھارت کو تو چھوڑیئے، مشرف تو افغانستان جیسے مقبوضہ ملک کے نام نہاد صدر سے بھی زچ ہو گئے ہیں یہی تدبر ہے تو برما کے جرنیل مشرف سے بڑے مدبر ہیں! ”آپ بالکل صحیح لکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے سفر کے 1947ء میں آغاز سے آج ہم 58سال بعد جس حال میں ہیں، ہماری حالت کی دوسری اور کوئی صورت ممکن ہی نہیں تھی! فلسفے کی زبان میں اسے یوں کہا جاتا ہے اور بالکل درست کہا جاتا ہے کہ ”جو واقعہ جس طرح ظہور پذیر ہوا ہے۔ اس کے ظہورکی کوئی دوسری صورت ممکن ہی نہ تھی“۔ کسی واقعہ کے بعد ذہنی ورزش کے لئے ہم تجزیہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر یوں ہوتا تو یہ واقعہ ٹالا جا سکتا تھا۔ یوں نہ کرتے تو یوں ہوتا۔ یہ بعد ازمرگ واویلا کے مصداق ہوتا ہے! بلندی سے پستی کی طرف ہمارے اس سفر میں اب ہماری رفتار ارضی قانون ثِقل کی وجہ سے بہت تیز ہو گئی ہے اور مکافات عمل کا نتیجہ اب زیادہ دور نہیں رہ گیا! دنیا دعاؤں سے تبدیل نہیں ہوتی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے تبدیل کیا جا تا ہے۔ جب سائنس کے اولین امام یونانی تھے تو سکندر اعظم آدھی دنیا فتح کر رہا تھا۔ پھر وہ ”تقلید“ کے مرض میں جب مبتلا ہو گئے اور ارسطو کے کہے کو حرف آخر سمجھنے لگے جس نے بتایا تھا کہ مرد کی نسبت عورت کے دو دانت کم ہوتے ہیں۔ نہ ارسطو نے اور نہ مقلدین نے عورت کے دانت گن کر تصدیق کرنے کی زحمت کی۔ اسی طرح جب ارسطو نے کہا بلندی سے زمین پر دو چیزیں ایک ساتھ گرائی جائیں تو زیادہ وزن والی چیز کم وزن والی سے پہلے زمین کو چھوئے گی۔ یہ اصول صدیوں ان کے یقین کا حصہ رہا حتیٰ کہ گلیلیو نے پیزا ٹاور سے مختلف وزن کے گولے گرا کر ثابت کر دیا کہ ارسطو کا اصول غلط تھا! سائنس یونانیوں کی میراث نہ رہی تو کہاں فاتح عالم یونانی؟ آج قبرص کا آدھا جزیرہ بھی فتح کرنے کے قابل نہیں ہیں یوناینوں کے بعد سائنس اور ٹیکنالوجی کے امام مسلمان بنے تو آدھی دنیا پر حکومت کی۔ جب سائنس کے میدان سے آؤٹ ہوئے تو 56مسلم ممالک اپنا قبلہٴ اول بھی یہودیوں سے واپس لینے کے قابل نہیں رہے۔ مسلمانوں سے پھر سائنس کا علم اہل مغرب کے ہاں منتقل ہوا تو وہ دنیا پر غالب ہیں اور چاند تاروں پر کمندیں ڈال دی ہیں! ”دنیا کسی قوم یا کسی مذہب کی پیرو کسی امت یا ملت کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت یہ نہیں دیکھتی کہ اس قوم یا ملت کا اپنے اور اپنے مذہب کے بارے میں کیا دعویٰ ہے۔ دنیا صرف اس کے حالیہ کارناموں اور کرتوں کو تول کر فیصلہ کرتی ہے کہ قوموں کی برادری میں وہ کس مقام کے مستحق ہیں! ”اس کسوٹی پر جب دنیا ہمیں پرکھتی ہے تو ہم کو مندر، چرچ اور اپنی مساجد اور امام بارگاہیں جلاتے دیکھتی ہے۔ بدھ کے مجسمے توپوں سے اڑاتے اور ٹی وی کو پھانسی دیتے دیکھتی ہے۔ سنگیانگ سے ماسکو تک جہاد سیف میں مشغول پاتی ہے۔ دنیا نتیجہ نکالتی ہے کہ دوسرا کوئی مذہب ا ور اس کے پیروکار ہم برداشت کر ہی نہیں سکتے۔ہم روم اور ویٹی کن سٹی جو پوپ کا پایہ تخت ہے، وہاں اپنی مساجد تعمیر کر سکتے ہیں اور اپنے مقدس شہروں میں دوسرے مذاہب کو اپنی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت دینا تو کجا ہم انہیں ان مقدس شہروں میں داخلے کی بھی اجازت نہیں دیتے! ”مسلم دنیا ڈنمارک کے اخبار کے ملعون کارٹونسٹ اور ایڈیٹر کی جسارت پر بجا طور پر سراپا احتجاج ہے اور پاکستان کے علماء نے تو مطالبہ کر دیا ہے کہ جن ممالک کے اخبارات نے یہ توہین آمیز کارٹون دوبارہ شائع کئے ہیں ان ممالک سے سفارتی تعلقات توڑ لئے جائیں یہ توہین آمیز کارٹون پچاس سے زیادہ ممالک کے ڈیڑھ سو سے زیادہ اخبارات میں چھاپے گئے جن میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں تو کیا اردن، سعودی عرب، ملائیشیا اور مصر سے بھی سفارتی تعلقات توڑ لئے جائیں کہ یہاں بھی یہ چھپے ہیں۔ ”اغیار کو ہماری دکھتی رگ یعنی ہماری چڑ معلوم ہوگئی ہے وہ جب چاہیں ہمیں پر تشدد احتجاج کے لئے سڑکوں پر لا سکتے ہیں۔ اپنی املاک جلا کر اور جانوں کا ضیاع کرنے کے کچھ عرصے بعد ہم بھول جاتے ہیں کہ کوئی سلمان رشدی یا تسلیمہ نسرین بھی تھی اور کبھی مسجد اقصیٰ پر قبضہ بھی ہوا تھا۔ ”ہم ڈھائی لاکھ پاکستانیوں کو بنگلہ دیش سے نہیں لا سکتے کہ اس طرح ہمارے ملک پر آبادی کا بوجھ بڑھ جائے گا جبکہ چوتھائی صدی سے26 لاکھ افغان مہاجرین کو مہمان بنا رکھا ہے ہم اپنے رقبے کے 43فیصد والے بلوچستان کی صرف 65لاکھ آبادی کو جو کراچی سے بھی آدھی ہے ان کو ان کے وسائل کی آمدنی کا 25فیصد بھی دیں تو وہ شارجہ اور دبئی والوں کی طرح خوشحال ہو سکتے ہیں مگر کیوں دیں؟ ہمیں پرانے ایف 16خریدنے ہیں اور اربوں روپے اسلام آباد میں جی ایچ کیوں اور ملٹری کمپلیکس کی تعمیر کے لئے درکار ہیں۔ وزیرستان اور بلوچستان کے آپر یشنز پر اٹھنے والا خرچ پورا کرنا ہے اور وہاں مزید چھاؤنیاں بنانی ہیں۔ ”تیسری دنیا کے اکثر نو آزاد ممالک کی طرح ہماری بدحالی کا بنیادی سبب بھی یہ ہے کہ ہم آزاد ہونے کے بعد آج تک جمہوری انقلاب کے لئے درکار فریضے ادا کرنے سے قاصر رہے جو زرعی اصلاحات، صنعتی معاشرے کے لئے مطلوبہ انفرااسٹرکچر کی تعمیر، مذہب اور ریاست کو الگ الگ رکھنا، تعلیم اور صحت کو عوام کی پہنچ تک لانا ہیں ۔ اس سب کچھ کے لئے جو سرمایہ ہم استعمال کر سکتے تھے اس کا غالب ترین حصہ ہم ”دفاع“ جیسے غیر پیداواری شعبے پر خرچ کرتے کرتے مقروض ہوتے چلے گئے اور پاکستان رفتہ رفتہ مراعات یافتہ جرنیل و سول نوکر شاہی کی جنت بن گیا۔ کیونکہ شروع ہی سے یہ ہشت پا ریاست پر قابض ہو گئے تھے! رہے عوام تووہ گوروں کی غلامی سے نکل کر ان کے غلاموں کی غلامی کا طوق پہننے پر مجبور کر دیئے گئے۔ ”ہر چیز کی طرح عالمی مارکیٹ میں قوموں کی بھی ایک Face Valueہوتی ہے یہ ویلیو جاننے کا سکہ رائج الوقت ”جمہوریت“ ہے جو مضبوط مقننہ، عدلیہ اور مضبوط سیاسی جماعتیں بطور بنیاد چاہتی ہے۔ جس ملک کے پاس یہ سکہ رائج الوقت موجود نہیں وہ معنوی طور پر دیوالیہ ہے چاہے اس کے پاس کتنے ہی پیسے کیوں نہ ہوں قوموں کی برادری میں وہ عزت کا حقدار نہیں سمجھا جاتا آج ایران سمیت کسی بھی مسلم ملک میں معروف معنوں میں جمہوریت نہیں کہ جمہوریت صرف الیکشن کرا دینے کا نام نہیں۔ ”آج حکمران طبقے بش سے بڑے شاکی ہیں۔ کہ بھارت کو بہت کچھ دے گیا اورر ہمیں کچھ بھی نہیں دیا۔ بھئی بھارت سکہ رائج الوقت جمہوریت سے مالا مال ہے اور ہمارے ہاں اس حوالے سے کال ہے۔ ہم دیوالئے ہیں! وہ بھارت کو لبھانے اور رجھانے گیا تھا۔ اور بش سلطان محمود کی طرح ”زلف ایاز کے خم“ کی قدر و قیمت سے آگاہ ہے۔ یہاں تو ہم غلاموں کو تھپکی کے ساتھ جھڑکی دینے آیا تھا کہ سپرد کردہ فرائض کی ادائیگی میں کاہلی کے مرتکب پائے گئے ہو۔ شاباش! پہلے کی طرح کارکردگی دکھاؤ! سامراج کے نزدیک پاکستان کی عرفیت ایوب، یحییٰ ، ضیاء اور مشرف ہے۔ ”خدا نہ کرے کہ پاکستان پھر ٹوٹ رہا ہو ا ور یحییٰ کی طرح مشرف کا صدارتی آئین اخبارات کے دفاتر میں ٹیلی پرنٹرز پر آرہا ہو ۔ راجہ فتح خان[/RIGHT]
Re: Excellent Read from Jang
Jang
I know its in Urdu, but its an excellent read about our Presidents new direction.