enough with booty shaking lolz Pashto singer singing Na'at

:omg:
Pashot singer are forced to sing na’ats now.

               **پشتو گلو کار نعتین پڑھنے پر مجبور**

            
                                                                                                          احمد رضا
                        بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

شہنشاہ خان پشتوں کے مقبول گلوکار

                  گانے چھوڑ کر نعتیں پڑھنے کا رجحان پشتو گلوکاروں میں بھی آیا ہے لیکن آج بھی پشتو موسیقی میں سب سے زیادہ مقبول گلوکارائیں اور ان کے گانے ہیں۔ 
                  مجھے بھی گل ستار کی اس بات پر حیرت ہوئی تھی جو کراچی کی لی مارکیٹ میں پچھلے کئی برسں سے آڈیو وڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز کی دکان چلاتے ہیں۔ 
                  میں ان کے پاس یہ معلوم کرنے گیا تھا کہ اس دھرتی کی موسیقی کس حال میں ہے جو رحمن بابا، خوشحال خان خٹک، امیر حمزہ شنواری، حافظ الپوری اور خان عبدالغنی خان جیسے مفکروں اور شاعروں کی جنم بھومی ہے۔
                  کیونکہ جنرل ضیاء کی سیاسی کوکھ سے پیدا ہونے والی مسلح شدت پسندی کا سب سے پہلا نشانہ کوئی اور نہیں پختون ثقافت ہی بنی ہے۔ 
                  صوبہ سرحد اور اس سے ملحقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے اس جن نے جہاں اپنے زیر اثر علاقوں میں پختون موسیقاروں اورگلوکاروں کو ملک کے دوسرے حصوں یا بیرون ملک ہجرت پر مجبور کیا وہیں ان کے گیتوں کو بھی بندوق کے زور پر زمین دوز کرنے کی کوشش کی ہے۔ 
                  اسلح اور بارود سے تراشی گئی دہشت کی اس فضاء کو مذہب اور عقیدے کی دھونی نے اتنا آسیب زدہ بنادیا ہے کہ اب بعض پشتو گلوکار گانے چھوڑ کر نعتیں پڑھنے لگے ہیں۔

گلوکاراؤں میں مقبول گلوکارہ نغمہ

                  کم سے کم گل ستار کی باتوں سے تو مجھے یہی اندازہ ہوا۔
                  'سب سے پہلے شہنشاہ باچا نے نعتیں پڑھنا شروع کیا اور۔۔۔۔۔اسکے بعد میرا اوس جو مزاقی (مزاحیہ) گلوکار تھا اس نے بھی چھوڑ دیا۔ اس نے بھی نعتیں شروع کردیا ہے۔‘
                  گل ستار کے مطابق شہنشاہ باچا مقبول ترین گلوکاروں میں سے ایک تھے۔ 
                  'شہنشاہ باچا (کی کیسٹیں) پہلے بہت چلتا تھا۔ مہینے میں اسکا پانچ پانچ کیسٹیں آتا تھا۔ اتنا دور تھا۔ دو تین سال میں ان کا سو ڈیڑھ سو کیسٹیں آیا تھا۔‘ 
                  تو کیا شہنشاہ باچا کے گائیکی چھوڑنے سے کاروبار پر بھی کوئی اثر پڑا ہے؟ 

میرے اس سوال پر ان کا جواب بہت مختصر تھا۔ ’ہاں۔ فرق تو پڑگیا ہے لیکن نعتیں بھی اسکا چلتا ہے۔‘

گل ستار نے بتایا کہ پشتو میں نعتوں کی کیسٹیں تو پہلے بھی آتی تھیں لیکن صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کی حالات کی وجہ سے اب نعتیہ کیسٹیں زیادہ آرہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے لوگ اپنے گاؤں جاتے وقت کراچی سے گانوں کی کیسٹیں خرید لیتے تھے لیکن اب چونکہ ان علاقوں میں حالات صحیح نہیں ہیں تو یہ رجحان بھی کم ہوگیا ہے۔
لیکن جب ان سے یہ پوچھا کہ آج بھی پشتو میں گانے والوں میں عورتیں زیادہ مقبول ہیں یا مرد تو وہ میری بات سمجھے نہیں۔

ناز اقبال پشتو گانوں کا ایک اور مقبول نام

                  مجھے اپنے سوال کو اور سادہ کرنا پڑا۔ ’گانوں کی کیسیٹیں زیادہ کس کی بکتی ہیں مردوں کی یا عورتوں کی۔‘
                  گل ستار نے جھٹ سے جواب دیا۔ ’عورتوں کا‘ اور ساتھ ہی قہقہہ لگایا۔ 
                  گلوکاراؤں کی مقبولیت کی وجہ پوچھی تو ان کے پاس کوئی واضح جواب تو نہیں تھا لیکن اتنا ضرور کہا کہ ’اپنا اپنا پسند کی بات ہے۔ بس لوگ خریدتا ہے۔‘ 
                  انہوں نے بتایا کہ پشتو گلوکاراؤں میں نازیہ اقبال، نغمہ اور وگمہ کے گیت سب سے زیادہ پسند کئے جاتے ہیں۔ 
                  گل ستار سے اور بھی کئی باتیں ہوئیں۔ 

ان کے خیالات میں کئی طرح کے تضادات بھی تھے۔ مثلاً ان کا کہنا تھا کہ موسیقی گناہ کا کام ہے اور اسلام میں گانوں کی آڈیو ویڈیو کیسٹوں، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز فروخت کرنے کی تو اجازت نہیں ہے۔
لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب صوبہ سرحد کے کسی حصے یا قبائلی علاقے میں گانوں اور فلموں کی کیسٹوں اور سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی دکانوں اور مارکیٹوں کو بموں سے اڑایا جاتا ہے یا آگ لگائی جاتی ہے تو انہیں دکھ ہوتا ہے۔

واگمہ

                  ان کے بقول کہ پختون ثقافت میں کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ گانوں اور فلموں کی کیسٹوں اور مارکیٹوں کو تباہ کردیا جائے بلکہ پچھلے چند سالوں سے ایسا ہونے لگا ہے۔ ’یہ ہمارا کلچر نہیں ہے۔‘
                  گل ستار کے چھوٹے بھائی بیس سالہ ذیشان سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں سب سے پسندیدہ گلوکار شہنشاہ باچا ہے۔ 
                  ذیشان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ مزہ شہنشاہ باچا کے گانوں میں آتا تھا کیونکہ اسکی آواز بھی بہت اچھی ہے اور موسیقی بھی اسکی بہت اچھی ہوتی تھی۔‘ 

لی مارکیٹ سے واپس آتے مجھے رحمن بابا کی نظم کے یہ اشعار یاد آرہے تھے۔

پھول کھلا کہ تیرے اطراف میں مہکے باغ
جو کانٹے بوئے گا تیرے ہی پاؤں میں چبھیں گے
دوسروں پر پھینکے ہوئے تیر
گرے تو تجھے ہی لگیں گے
کسی دوسرے کو مارنا خود کو ہی زخمی کرنا ہے
وہی دل محفوظ ہوتا ہے طوفان میں
جو دوسروں کے بوجھ اٹھاتا ہے، کسی کشتی کی طرح

Re: enough with booty shaking lolz Pashto singer singing Na’at

next I want to see nergis dancing on some religious stuff :omg:

Re: enough with booty shaking lolz Pashto singer singing Na'at

Don't you just love religious bigotry?