میں نے چاہا اس عید پر
اک ایسا تحفہ تیری نظر کروں
اک ایسی دعا تیرے لئے مانگوں
جو آج تک کسی نے کسی کے لئے نہ مانگی ہو
جس دعا کو سوچ کر ہی
دل خوشی سے بھر جائے
جسے تو کبھی بھولا نہ سکے
کہ کسی اپنے نےیہ دعا کی تھی
کہ آنے والے دنوں میں
غم تیری زندگی میں کبھی نہ آئے
تیرا دامن خوشیوں سے
ہمیشہ بھرا رہے
پر چیز مانگنے سے پہلے
تیری جھولی میں ہو
ہر دل میں تیرے لیے پیار ہو
ہر آنکھ میں تیرے لیے احترام ہو
ہر کوئی بانہیں پھیلائے تجھے
اپنے پاس بلاتا ہو
ہر کوئی تجھے اپنانا چاہتا ہو
تیری عید واقعی عید ہوجائے
کیوں کہ کسی اپنے کی دعا تمہارے ساتھ ہے
بن دیکھے اسے یا رب یہ عید نہ گزرے
کر پیدا کوئی سبب کہ یہ عید نہ گزرے
دنیا کو دکھایا ہے اک چاند جو تو نے
مجھ کو بھی دکھا دے اب یہ عید نہ گزرے
3
Name: eiddddv.jpg Views: 21 Size: 52.8 KB
Name: GHAZAL.gif Views: 111 Size: 116.3 KB
Name: zong eid card.jpg Views: 10 Size: 43.4 KB
,.-~´¨¯¨*·~-.¸-(_ Wishing You _)-,.-~*´¨¯¨·~-.¸
׺°"~"°º××÷·.·´¯·)» Å VË®¥ HåppY ËÏD «(·´¯·.·÷×׺°"~"°º×
_________EID MUBA____________EID MUBAR
______EID MUBARAKEID_______EID MUBARAKEID M
____EID MUBARAKEID MUBA___EID MUBARAKEID MUBA
___EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARA_______EID
__EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARA_________EID
_EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID_______EID
_EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID MUB______E
EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAK__EID
EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID_E
EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID M
_EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID
__EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKE
____EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBAR
______EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBARAKEID
_________EID MUBARAKEID MUBARAKEID MUBAR
____________EID MUBARAKEID MUBARAKEID
______________EID MUBARAKEID MUBAR
_________________EID MUBARAKEI
___________________EID MUBAR
_____________________EID MU
______________________EID
_______________________EI
عید آئی ہے تو پھر آج میرے سینے میں
اِک خواہش نے بہت زور سے انگڑائی لی
جی میں آیا تو ساتھ ہو تنہائی ہو
رات نشیلی ہو اور شام ہو گہری نیلی
اور ہم دونوں کسی مکان کی چھت پر
دور ہی دور کہیں فلک پر تکتے جائیں
چاند کو ڈھونڈتے ایک دوجے کو دیکھیں دم بھر
دل کے جذبات نگاہوں سے چھلکتے جائیں
اور آجائے نظر چاند کی جب ایک جھلک
اپنے چہرے پر مسرت سے نکھار آجائے
پھر میرے ذہن میں اشعار اُترتے آئیں
میں تصور میں سنواروں تیری الجھی زلفیں
اور ان زلفوں میں پھر شب کی سیاہی بھر دوں
تیرے چہرے کو کسی چاند سے تشبیہ دے کر
ایک عالم میں اجالا ہی اجالا کر دوں
تیرے ہونٹوں کو کسی پھول کی لالی دے دوں
اور اس لالی کو پھر خون سے پائندہ کردوں
تیرے ہاتھوں میں بسا کر میں حنا کی خوشبو
رنگ و خوشبو سے گلابوں کو بھی شرمندہ کردوں
تیرے ان نینوں کو میں جھیل سے گہرا کردوں
یا بنادوں انھیں سچ مُچ کسی ساون کی طرح
تیری بانہوں میں سجا دوں بہت سے گجرے
تو نگاہوں کو جھکائے نئی دلہن کی طرح
میں تیرا حسنِ جہاں سوز مکمل کرکے
چند لمحوں کے لئے پیار سے تجھ کو دیکھوں
ایک انگلی سے اُٹھاؤں تیری ٹھوڑی جاناں
اور دھیرے سے تجھے عید مبارک کہہ دوں
عید مبارک کہہ دوں
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪ ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
لبوں پہ رنگ تبسم، نہ دل میں موج ِ سرور
میرے وطن کے غریبوں کی عید کیا ہوگی۔
ہیں دھنک رنگ سی لڑکیاں عید پر
جیسے اُڑتی ہوئی تیتلیاں عید پر
رنگ، خوشیوں ،اُمنگوں سے آراستہ
ہیں منور سبھی بستیاں عید پر
باہمی رنجیشیں بھولُ کر آ ملو
توڑ ڈالو سبھی بیڑیاں عید پر
کاش آجائے وہ جس کے ہیں منتظر
میرا دل، بام ودر، کھڑکیاں عید پر ،
جب تک تمام شہر مہکتا نہ پائیں ہم
کیسے یہ عید کی خوشیاں منائیں ہم ۔
مجھکو اک خواب پریشاں سا لگا عید کا چاند
میری نظروں میں ذرا بھی نہ جچا عید کا چاند
آنکھ نم کرگیا بچھڑے ہوئے لوگوں کا خیال
درد ِدل دے کے ہمیں ڈوب گیا عید کا چاند ،
چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی
یہ ملاقات، ملاقات نہ تھی پہلی سی
رنج کچھ کم تو ہوا آج تیرے ملنے سے
یہ الگ بات ہے کے وہ بات نہ تھی پہلی سی
عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگ سے کہاں ملتی ہیں
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہیں
عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے
دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے
یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے
کتنے ترسے ہوئے ہیں عیدوں کو
وہ جو عیدوں کی بات کرتے ہیں
×××
جن کے ملنے کا آسرا ہی نہیں
عید ان کا خیال لاتی ہے
×××
میرے قریب آئی نہ اب تک بہار عید
مدت سے ہے جہاں میں مجھے انتظار عید
×××
مجھ کو تیری نہ تجھے میری خبر جائے گی
عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی
×××
نہ جانے میرا تصور تھا یا فریب نظر
ہلال عید میں بھی تم مجھے نظر آئے
×××
وفا کا سندیس لے کر اترے تمہارے آنگن میں
گواہ رفاقتوں کا محبتوں کا بن کر ہلال عید
×××
کتنی مشکل سے فلک پر یہ نظر اتا ہے
عید کے چاند نے بھی انداز تمہارے سیکھے
×××
ایک لمحے کو کبھی میں تجھے دیکھا تھا
عمر بھر میری نظر میں نہ جچا عید کا چاند
×××
خود تو آتے نہیں یاد چلی آتی ہے
عید کے روز مجھے یوں نہ ستائے کوئی
×××
ہلال عید بھی نکلا تھا وہ بھی آئے تھے
مگر انہی کی طرف تھی نظر زمانے کی
×××
مزہ بہار کہن کا چکھا ہی جاتی ہے
ہم اہل ہوں کہ نہ ہوں عید آ ہی جاتی ہے
×××
جب تو نہیں تو عید میں رنگ وفا نہیں
سب قسمتوں کے کھیل ہیں تجھ سے گلہ نہیں
×××
پلکوں پہ حسرتوں کے ستارے سجالیئے
اس دھج سے خواہشوں نے کیا اہتمام عید
××××××
عیدکی ہربہاردیکھوتم
عیش لیل ونہاردیکھوتم
ایک اس عیدپرہے کیاموقوف؟
ایسی عیدیں ہزاردیکھوتم
عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگ سے کہاں ملتی ہیں
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہیں
عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے
دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے
یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے
چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی
یہ ملاقات، ملاقات نہ تھی پہلی سی
رنج کچھ کم تو ہوا آج تیرے ملنے سے
یہ الگ بات ہے کے وہ بات نہ تھی پہلی سی
آو مل کر مانگیں دعائیں ہم عید کے دن
باقی رہے نہ کوئی بھی غم عید کے دن
ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اُترے
اور چمکتا رہے ہر آنگن عید کے دن
آج چاند رات ہے
اور میں اپنے ہاتھوں میں
دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں
کہ یہ عید کس کے نام کروں
اس کے نام۔۔۔
جو دل کی دھڑکنوں میں ہے
یا پھر اس کے نام
جو ہاتھوں کی لکیروں میں* ہے
دعائے نیم شبی
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
اپنے پاکیزہ جذبوں کو گواہ بنا کر
اب کی بار بھی عید کا چاند دیکھ کر
میں دعا مانگوں گی
اپنے اور تمہارے ساتھ کی
بس تم اتنا کرنا
کہ جب میری آنکھوں کا نمکین پانی
میری پھیلی ہتھیلی پر گرے
تو میری دعائے نیم شبی کو مکمل کرنا
میرے مقدّس لفظوں کی لاج رکھنا
صدقِ دل سے کہنا ! آمین !
دن بھر خفا تھی مجھ سے مگر چاند رات کو
مہندی سے میرا نام لکھا اس نے ہاتھ پر
×××
میری آرزوؤں کی تمہید تم ہو
میرا چاند تم ہو میری عید تم ہو
×××
غم کے ماروں کے لیئے درد کا سامان بنا
شام کی گود میں وہ شعلہ نما عید کا چاند
×××
چاند کو دیکھا تو یاد آگئی صورت تری
ہاتھ اٹھے ہیں مگر حرف دعا یاد نہیں
×××
اللہ کرے کہ تم کو مبارک ہو روز عید
ہر راحت و نشاط کا ساماں لیئے ہوئے
×××
نظر جو چاند پہ کی دل میں مسکرائے تم
دعا کو ہاتھ اٹھائے تو یاد آئے تم
مری آرزؤں کی تمہید تم ہو
مرا چاند تم ہو مری عید ہو
کتنے تَرسے ہوئے ہیں خوشیوں کے
وہ جو عید کی بات کرتےہیں
اس بچے کی عید نہ جانے کیسی ہو
جس کی جنت ننگے پاؤں پھرتی ہے
عید کا چاند فلک پر نظر آیا جس دَم
میری پلکوں پہ ستارے تھے تیری یادوں کے
سوچا کسی اپنے سے بات کروں
اپنے کسی خاص کو یاد کروں
کیا جو فیصلہ عید مبارک کہنے کا
دل نے کہا کیوں نہ آپ سے شُروات کروں
یہ کس طرح یاد آرھے ھو
آنکھیں بند ھیں پھر بھی نظر آرھے ھو
ناجانے ایسا لگتا ھے کیوں
سامنے کھڑے ھو اور سینگ ھلا رھے ھو
اب آ گئ عید مبارک تو
اب دھوپ بھی اچھی لگتی ہے
آئی ہے بقر عید بڑی دھوم دھام سے
منسوب ہو گئی ہے جو بکرے کے نام سے
بچے بھی خوش ہیں اور ہیں بیگم بھی مطمئن
بس میرے ہوش اڑ گئے ہیں بکرے کے نام سے
اپنے دل کا حال تجھے سناؤں کیسے
تو جو ساتھ نہیں میں عید مناؤں کیسے
تیرے لیے اتنا پیار چھپا ہے دل میں
اپنی چاہتوں کے پھول تجھے پہناؤں کیسے
مجھےبھی تم سے محبت ہے جاناں
میں تجھے اس کا یقیں دلاؤں کیسے
میرے بس میں ہو تو تمہیں ابھی آن ملوں
مگر بے بس ہوں میں آؤں کیسے
اپنے دل کا حال تجھے سناؤں کیسے
تو جو ساتھ نہیں میں عید مناؤں کیسے
دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا، نہ جاں تڑپی ہے
ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے
ASSLAMUALIKUM
/dancy
HERE ARE SOME EID GIFTS 4 U
Muhammad Tariq Raheel
138-psd-jpg
presentation1-jpg
خدا کی رحمتوںوالی نوید آئی ہے
تمہارے پاس نہیں ہے اگر تو کیا غم ہے
تیرے شہید کی جنت میںعید آئی ہے مبارک ہو
تجھے اے ماں عظیم ماں کہ تجھے
کہ اس کی عید تیرے پاس جب گزرتی تھی
نماز پڑھ کےجو آتا تیرے گلے لگتا
تیری نظر میں تو بچہ تھا کل کا چھوٹا سا
زمانے بھر کو وہ کڑیل جواں* بھلے لگتا
تمہارے سینے کی ٹھنڈک تمہاری آنکھہ کا نور
اسی کو لینے خدا کی وعید آئی ہے
تیرے شہید کی جنت میں*عید آئی ہے
تمہارے ساتھہ لگی ہے جو فطرت انساں
تمہارا صبر و رضا امتحاں سے گزرے گا
وہ اس کی باتیں ، ہنسی ، اس کا پہلا ماںکہنا
ہر ایک پیار کا منظر فغاں سے گزرے گا
مگر نہ چھوڑنا للہ صبر کا دامن
تیری دعا کے سبب تو سعید آئی ہے
تیرے شہید کی جنت میں عید آئی ہے
نہ سوچنا کبھی زنہار وہ اکیلا ہے
تیرے گلے سے جو لگتا تھا عید ملتا تھا
رسول پاک نے اس کو گلے لگایا ہے
علی نے اس کی شجاعت پہ پیٹھہ ٹھونکی ہے
حسین نے اسے پہلو میں لا بٹھایا ہے
تمہارے پاس نہیں ہے اگر تمہارا لال
گر آج عید کے دن تیری گود خالی ہے
تو کیا ہے غم تجھے اٹھہ اور ہنس کے عید منا
کہ ماں شہید کی ، جو بھی ہو مسکراتی ہے
تمہارے پاس خدا کی نوید آئی ہے
تیرے شہید کی جنت میں عید آئی ہے
معظم شاہ
eid-card-jpg
eidcard002-jpg
001-eidcard002-jpg
1248154607art-valentine-05dec07-1-jpg
Ab
Ab to Mujhe B
Ab Aiye
Khanon ki Janib
Gol gappay ki plate 15 ruppees
Aur ye waali 12 ruppees
special dahi bara plate 30 ruppees
Fikar na karin
copyrighted hai bas dekhen khaiye ga nain
Ya rhi fruit chart
Chota cup:Rs. 15
Bara cup: Rs. 30
special topping kay sath 50 Rs.
Pepsi kay crates bhi agay
Lemonade: hazmay kay lia .Rs.30
STrawbery Juice:
ya lo Bhatk bhatak kar thak gai hogi na ab humray dhaba ka pepsi piyo
ye lein ji
\
عـيد پــر تـمهــيں ڈهــونڈتـى ہے يہ نـگـا ہيں ..
سب تو گهر آچكے ..
كيا تم لوٹ كر نہيں آســكـتے..
تم تو موت كى آغوش ميں تهك كر ..
سكون كى نيند ميں ہونگے ..مــگر
مجهے ياد آرہا تيرا وه مجهہ سے جهگڑنا…
اور پهر چهپ چهپ كر ڈ رانا …ستانا اور
بهاگ جانا…وه الگ انداز تمهارا مجهے منانے كا…
ميرے سر كو سهلانا …مجهے روتے ميں ہنسانا..
تمهارى ہربات مجهے اب ہنستے ميں رولاتى ہے
ميرے دوست ميرے همراز ميرے بهائى …
كيا تم لوٹ كے نہيں آسكـتے …
آج ميں نے اپــنے بابا كے آنكـهوں ميں آنسـوؤں ديكـهے
جو ايك چينـخ بهى تهے اور ايك خاموشـى انهـوں نے
وه ہى دعـاء جو تمكو كو ديتـے تهے مجـهہ سے كہتـے
ہوئـے (سو سـال جيئو مـيرى بچے ) سـهم سے گے …
كيا تم لوٹ كے نہيں آسكـتے …
تصویر: nn669y.jpg]
قصہ ایک چاند رات کا
رمضان کا آخری عشرہ گزر رہا تھا۔ بس کچھ ہی دن باقی تھے۔ میرا گزر ڈھوک
حسو چوک سے ہوا ۔ اچانک مجھے تصدیق کی آواز آئی۔ تصدیق میرا ایک دوست ہے۔
اس کی کاسمیٹکس کی دوکان بیچ چوک کے ہیں مطلب اس کی دوکان چوک کے درمیان
ہے ہر طرف سے کسٹمر اس دوکان کا رخ کرتے ہیں۔ میں تصدیق کی دوکان کی طرف
گیا۔ کافی گپ شپ ہوئی۔ جب میں اٹھ کر آنے لگا تو اس نے مجھے کہا یار خرم
چاند رات کو کیا کر رہے ہو۔ میں نے کہا کچھ نہیں بس فارغ ہی ہوتا ہوں۔
میری ایک عادت تھی بلکے میرے باقی دوستوں کی بھی عادت تھی ہم چاند رات کو
کیا رمضان کے آخری عشرہ میں چوک کے راستے نہیں گزرتے تھے۔ کیونکہ وہاں
عورتوں کا بہت رش ہوتا تھا۔(آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ بچہ شریف بننے کی کوشش
کر رہا ہے ہی ہی ہی میں ایسا ہی تھا سچ میں آگے جو باتیں آئیں گی تو سب
پتہ چل جائےگا کتنے پانی میں ہوں) اس لیے ہم نے اگر کسی کام جانا ہوتا تو
گلیوں سے ہی گزر کر جاتے تھے۔ جب تصدیق کو پتہ چلا میں فارغ ہوں تو اس نے
کہا یار ہم نے چوڑیوں کا سٹال لگایا ہوا ہے۔ چاند رات کو بہت رش ہوتی ہے
اس بار کزن بھی نہیں ہے ہم تین بھائی ہونگے ۔ لیکن رش اتنا ہو گا کہ ہم
تین کنٹرول نہیں کر سکے گے تم بھی آ جاو ہماری مدد ہو جائے گی۔ میں نے کہا
یار مجھے تو چوڑیاں پہنانی بھی نہیں آتی اور نا ہی مجھے اس کا تجربہ ہے۔
مجھے تو معاف ہی رکھو۔ پھر اس نے کہا یار میں اور کسی دوست کو بھی کہہ
سکتا ہوں۔ لیکن مسئلہ لڑکیوں کا ہے اگر کسی نے کسی بھی لڑکی کو چھیڑ دیا۔
تو اپنی دوکان کا معاملہ ہے۔ ساری ریپوٹیشن خراب ہو جائے گی۔ان دنوں میرے
ساتھ ایک مسئلہ بنا ہوا تھا۔ ایک ناکامی ہوئی تھی جس کا بہت دکھ تھا۔ میں
نے کہا چلو وقت اچھا گزر جائے گا۔
29 روزے کو صبح 11 بجے میں تصدیق کی دوکان پر چلا گیا۔ روزوں میں تو ویسے
بھی رش ہوتا تھا۔ لیکن آج صبح سے ہی بہت رش تھا۔ مجھے تصدیق نے ایک جگہ
بتادی کہ تم یہاں کھڑے ہو جاو۔ جو چیز بھی سیل کرو اس کے پیسے اپنے پاس ہی
رکھ لو رات کو حساب کر لیں گے۔ میں نےدیکھا دن کے وقت دن کافی رش تھی۔ سب
کی کوشش تھی کہ جو کچھ خریدنہ ہے وہ آج ہی خرید لیں کل عید ہو گی تو کیا
کریں گے۔ مجھے چوڑیاں پہنانی نہیں آتی تھیں اس لیے میں صرف پیک کر کے دے
رہا تھا۔زندگی میں پہلی دفعہ بہت سی عورتوں اور لڑکیوں سے گفتگو کرنے کا
تجربہ ہوا۔ کچھ لڑکیاں تو بھائی کہہ کر بلاتی تھی اور کچھ مسٹر کہتی تھی۔
بہت عجیب لگتا تھا۔ اسی دوران تین لڑکیاں آئیں۔ میں اپنا کام کر رہا تھا
میں نے ابھی تک کسی لڑکی پر توجہ نہیں دی تھا نا کسی کو غور سے دیکھا تھا۔
اچانک میری نظر اس لڑکی پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں وہ مجھے دیکھ رہی تھی۔
مجھے تصدیق کی بات یاد آ گی کہ اس نے مجھے دوسرے دوستوں پر اس لیے اہمیت
دی تھی کہ اس کی دوکان کی ریپوٹیشن کا مسئلہ تھا۔ بس یہی سوچ کر میں نے
پھر توجہ اپنے کام کی طرف مرکوز کر دی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد پھر میری نظر
اس پر پڑی تو وہ مسلسل مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ اب میں نے بھی کچھ ہمت کی
اور ظفری بھائی کی طرح آنکھیں چار کرنے لگا۔ اس نے دوسری لڑکی کے کان میں
کچھ کہا اور تینوں میری طرف چلی پڑی۔ بس میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے
کا سانس نیچے رہ گیا۔ میں نے سوچا اب گیا ، کہ اب گیا ۔ لیکن بچت اس وقت
ہوئی جب ان میں سے ایک لڑکی نے بہت پیار سے کہا۔ ایسکوز می! چوڑیاں پہننی
ہیں۔ میں نے اپنی نظر اس پر ڈالی تو وہ وہی ساتھ والی لڑکی تھی جس کے کان
میں اس لڑکی نے کچھ کہا تھا جو مجھے ٹکٹکی بھاندے دیکھ رہی تھی۔ میں نے
آہستہ سے کہا مجھے چوڑیاں پہنانی نہیں آتی۔ تو اس نے شرارتی انداز میں کہا
تو کیا یہاں لڑکیاں دیکھنے کے لیے کھڑے ہو۔ یہ کہہ کر وہ اسی لڑکی کی طرف
دیکھ کر ہنسنے لگی۔ میں تو ڈر رہا تھا۔ لیکن معاملہ کچھ اور ہی تھا۔ میں
نے ہمت کر کے کہا میں چوڑیاں نہیں پہنا رہا صرف پیکنگ کر کے دے رہا ہوں
اگر آپ کو لینی ہیں تو لیے لیں۔ اگر پہننی ہیں تو پھر تصدیق کے پاس چلی
جائیں۔ لیکن ہم نے تو آپ سے ہی پہننی ہیں۔ میرے خاموش ہوتے ہی وہی لڑکی
بولی جو مجھے دیکھ رہی تھی۔ میں اسے کچھ کہہ نہیں سکا اور خاموش ہو گیا ۔
مجھے خاموش دیکھ کر اس نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا۔ مجھے تو کچھ اندازہ ہی
نہیں تھا کہ اس کے ہاتھ میں کس سائز کی چوڑی آئے گی۔چوڑیوں میں مختلف سائز
ہوتے ہیں اور ان سائز کے مختلف نام ہوتے ہیں جو مجھے نہیں پتہ تھا۔ میں نے
اس کو دیکھا جو مسلسل مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ اور کہا پہلے چوڑی پسند کر
لیں اس نے ایک نظر چوڑی پر ڈالی اور فوراََ ایک چوڑیوں کے ڈبے پر ہاتھ رکھ
دیا ۔ یہ والی پہنا دیں۔ میں نے زندگی میں کبھی کسی کو چوڑیاں نہیں
پہنائیں تھیں یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ اتنے میں تصدیق نے مجھے دیکھا اور
میں نے اسے اشارے سے بُلا لیا۔ تصدیق کے آتے ہی میں نے کہا یار ان کو
چوڑیاں پہنا دو
تصدیق نے کہا کس نے پہننی ہیں ہاتھ آگے کریں۔ اس لڑکی نے بڑے نخرے کے ساتھ
کہا آپ سے نہیں ان سے پہننی ہیں۔ تصدیق نے مجھے دیکھا اور آنکھ مار کر چلا
گیا۔ لیکن میں پرشان تھا کہ اب کیا کروں۔ خیر اللہ ، اللہ کر کے محترمہ کا
ہاتھ پکڑا اور چوڑی پہننانے کی کوشش کرنے لگا۔ جو چوڑی محترمہ نے پسند کی
تھی وہ ان کے ہاتھ سے چھوٹی تھیں اس لیے مجھ سے پہنائی نہیں گی۔ میں نے
کہا یہ تو چھوٹی ہیں آپ کوئی اور چوڑی پسند کریں پھر اس نے ایک اور پسند
کی سائز میں وہ بھی اتنی ہی تھی اس رنگ میں میں نے اس سے کچھ بڑی چوڑی
نکالی اور پہنانے کی کوشش کی بڑی مشکل سے آدھے ہاتھ تک ہی پہنچی تھی کہ
بیچاری شہید ہو گی۔ نجانے میں نے کتنی چوڑیاں توڑ دیں۔ تصدیق بھی خاموش
رہا اور وہ لڑکی بھی۔ آخر کار وہاں جو سب سے بڑا سائز تھا اس سائز کی
چوڑیاں لیں اور میں نے اس کے ہاتھ میں ڈال دیں دونوں ہاتھوں میں دو ، دو
درجن چوڑیاں پہننے کے بعد وہ لڑکی بولی یہ تو مجھے کھلی ہیں آپ ایسا کریں
یہ چوڑیاں پیک کر دیں۔ اس نے پھر وہی چوڑیاں پسند کی جو سب سے پہلے اس نے
پسند کی تھی۔ اور جو چوڑیاں پہنی ہوئی تھی اس کو پھر سے اتارنے کا کہا ۔
بس پھر میں نے غصے میں وہ چوڑیاں اتار دیں اور دوسری پیک کر کے دے
دیں۔چوڑیاں پہنانے کا پہلا تجربہ اور وہ بھی ناکام۔ جاتے ہوئے اس نے پھر
مجھے دیکھا اور چلی گی۔ اگر یہاں ظفری بھائی ہوتے تو میں یقین سے کہتا ہوں
انھوں ایک عشق اور ہو جاتا ہی ہی ۔ لیکن مجھے یہاں ساری رات کھڑا ہونا
تھا۔ وقت گزرتا گیا کوئی بہت سی لڑکیاں اور عورتیں آتی رہی۔ کچھ محلے
والیاں بھی آئیں جو مجھے دیکھ کر حیران ہوگئی۔اس لڑکی کے واقعہ کے بعد میں
نے سب پر نظر رکھنی شروع کر دی۔ شام سے کچھ پہلے میری امی اور چھوڑی پہن
بھی چوڑیاں لینے کے لیے آئیں ان کو خبر ہو گی تھی کہ آپ کا بیٹا فلاں
دوکان پر چوڑیاں فروخت کر رہا ہے۔ اسی لیے وہ سیدھی میرے پاس ہی آئیں۔ میں
نے اپنی بہن اور امی کو چوڑیاں دیں لیکن تصدیق نے پیسے نہیں لیے۔ کچھ ایسے
چہرے بھی نظر سے گزرے جو بہت مخترم ہیں میری نظر میں۔ ان میں کچھ میری
ٹیچرز بھی تھیں۔ جو مجھ دیکھ کر میرے پاس آئیں حال احوال پوچھا اور چوڑیاں
بھی لیں۔ کچھ سے میں نے پیسے نہیں لیے اور کچھ نے پیسے ذبردستی میری جیب
میں ڈال دیے۔ کچھ پتہ نہیں چلا کب افطاری ہوئی افطاری کے وقت صرف دس منٹ
ملے۔ اس کے بعد پھر سے وہی رش شروع ہو گیا۔ اسی دوران ایک چہرہ نظر سے
گزرا جو کبھی محبوبِ نظر ہوا کرتا تھا۔ جس سے کبھی ایک عظیم رشتہ تھا، ایک
تعلق تھا ۔ جس کے بارے میں دونوں کا کہنا تھا کہ یہ تعلق کبھی ختم نہیں
ہوگا۔ لیکن ختم ہو چکا تھا، کچھ دیر تک دور سے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھا
اور پھر وہ چہرا کچھ بھی خریدے بغیر اس رش میں گم ہو گیا اور پھر اس کے
بعد آج تک نظر نہیں آیا۔ اور نا ہی میں نے کبھی دیکھنے کی کوشش کی۔ صبح 11
بجے سے لے کر رات آٹھ بجے تک کھڑے ہو کر چوڑیاں فروخت کرنے کا پہلا تجربہ
اور اتنا سخت کہ پاؤں جواب دے گے۔ نا بیٹھنے کا وقت ملا اور نا کچھ کھانے
کو۔ اور اوپر سے ایک ظلم اور ہو گیا کہ چاند نظر آ گیا۔ اب تو صبح تک اسی
طرح کھڑے ہونا تھا۔ رات 1 بجے تک یوں ہی رش رہا ایک بجے کے بعد رش کچھ کم
ہوا تو میں نے آگے پیچھے کی خبر لینا شروع کی ۔دور ،دور تک سٹال ہی نظر آ
رہے تھے اب رش کافی کم تھا لیکن پھر بھی عام دنوں سے زیادہ تھا۔
سٹال پر موجود تمام لڑکے ایک دوسرے سے گپ شپ لگا رہے تھے۔ کچھ تو لڑکیوں
کی باتیں کر رہے تھے، کہ وہ والی لڑکی بہت خوبصورت تھی، یار میری والی
ابھی تک نہیں آئی، گھر والوں نے آنے نہیں دیا ہو گا ، تو سنا تیرے والی
آئی تھی کیا، ہاں یار ایک گھنٹہ میرے سٹال پر ہی رہی باتیں کرتے رہے۔
اتنے میں چار لڑکیاں مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ میں
نے ایک نظر ان کو دیکھا اور دوسرے سٹال پر کھڑی لڑکیوں کی طرف دیکھنے لگا۔
رات کے ایک بجے کے بعد ابھی تک لڑکیاں خریداری میں مصروف تھیں۔ اور حیران
ہونے والی بات یہ تھی کہ صرف لڑکیاں تھی ان کے ساتھ نا ان کی مائیں تھیں
اور نا ہی بھائی نا کوئی بڑی عورت بس لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں۔ میرا دھیان
وہاں سے ہٹا تو پھر دوبارہ ان چار لڑکیوں کی طرف چلا گیا جو باتیں کر رہی
تھیں اس بار وہ کچھ اور میرے قریب تھیں اور ان کی آواز مجھے صاف سنائی دے
رہی تھی۔ میں نے نظریں تو ان سے ہٹا دیں لیکن کان ان کی طرف ہی رکھے۔ ان
میں سے ایک لڑکی نے کہا چلو اس دوکان پر چلتے ہیں۔ دوسری لڑکی نےکہا میرے
پاس پیسے ختم ہو گے ہیں۔ تو پہلی والی پھر بولی تو کیا ہوا۔ ہم نے کون سا
کچھ خریدنہ ہے بس دیکھیں گے اور دوکان دار کو تنگ کرے گے کیاخیال ہے۔
چاروں ایک ساتھ ہنسی اور ساتھ والی دوکان میں چلی گیں۔ لڑکیاں اپنی مستی
میں اور لڑکے اپنی مستی میں جتنی لڑکیاں تھی اس سے کہیں زیادہ لڑکے وہاں
نظر آئے کچھ موٹرسائیکل پر تھے اور کچھ پیدل چل رہے تھے۔ میں نے جس لڑکی
کو ایک بار دیکھا اپنے سٹال پر یا کسی بھی سٹال پر تو دوسری بار وہ مجھے
کم ہی نظر آئی ۔ لیکن لڑکے میں نے میرے خیال میں دس ، دس دفعہ دیکھیں
ہونگے ، کبھی اس سڑک سے اور کبھی اس سڑک سے آتے ہوئے نظر آتے تھے۔ کبھی
کسی کو جگت مار رہے تھے اور کبھی کسی پر ہوٹنگ کر رہے تھے۔ 3 بجے کے قریب
رش نا ہونے کے برابر رہ گیا ۔ میں نے تصدیق سے اجازت چاہی۔ لیکن تصدیق نے
کھانے کے لیے روک لیا۔ کچھ دیر میں ہی تصدیق کے گھر سے کھانا آیا ، کھانے
کے دوران تصدیق نے معذرت کی کہ رش کی وجہ سے ہو کوئی خدمت نہیں کر سکا۔ 4
بجے کے قریب میں گھر کی طرف چل پڑا۔ اور سارے راستے میں یہی ان لڑکیوں اور
لڑکوں کے بارے میں سوچتا رہا جو گھروں سے اتنی دیر تک باہر رہے اورگھر
والوں میں سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔
یہ میرا پہلا اور آخری تجربہ تھا اس کے بعد میں کبھی کسی سٹال پر کھڑا
نہیں ہوا۔ بڑی عید پر تصدیق نے پھر درخواست کی لیکن میں معذرت کر لی۔
عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت
پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہو
مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا سا نورِ سحر
میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
میں اسی سوچ میں تھا پریشان بہت
کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪ ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪