Re: Donald Trump - POTUS
[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
اس سے پہلے کہ آپ بغير کسی تامل کے امريکہ کو شام کی عوام کی حمايت کے ليے ہدف تنقيد بنائيں اور اس امر کو تشدد کی اصل وجہ قرار ديں، يہ ياد رکھیں کہ اس جاری تنازعے کے دوران گزشتہ قريب پانچ برسوں کے دوران دو لاکھ پچاس ہزار شہری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں۔ اور اب يہ محض احتجاج نہيں بلکہ خانہ جنگی ہے۔ علاوہ ازيں ايک رپورٹ کے مطابق 11 ملين افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہيں۔
ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کردوں کہ تشدد کا آغاز اس وقت نہيں ہوا تھا جب امريکی حکومت نے اصولی موقف اپناتے ہوۓ ان مظاہرين کی حمايت کا فيصلہ کيا تھا جو اسد حکومت کی بربريت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ يہ سارا معاملہ مارچ 2011 ميں شروع ہوا تھا جب شام کے جنوبی شہر ديرہ ميں چند نوجوانوں کی گرفتاری اور تشدد کے واقعات کے بعد مظاہروں کا آغاز ہو گيا۔ جولائ 2011 تک ہزاروں کی تعداد ميں مظاہرين ملک بھر ميں سراپا احتجاج بن گۓ۔ مخالف جماعتوں کی جانب سے اسلحہ بھی استمعال کيا جانے لگا۔ ابتداء ميں اپنے دفاع کے ليے اور پھر حکومتی فوجوں کو اپنے علاقوں سے دور رکھنے کے ليے۔
جون 2013 تک اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس تنازعے ميں نوے ہزار افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ اگست 2015 تک يہ تعداد بڑھ کر دو لاکھ پچاس ہزار تک پہنچ گئ۔ امريکی قيادت ميں شام ميں فضائ بمباری کی مہم کا آغاز ستمبر 2014 ميں ہوا جس کا مقصد داعش کے بڑھتے ہوۓ تسلط کو روکنا اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کو نيست ونابود کرنا تھا۔
اس بےمثال انسانی ظلم و تشدد کے نتيجے ميں امريکی عوام اور حکومت کے پاس اس کے سوا کوئ چارہ نہيں تھا کہ وہ شام کی عوام کے اپنے بہتر مستقبل کی خواہش کے جائز اور ايک آزاد اور جمہوری حکومت کے قيام کے مطالبے کا ساتھ ديں۔
جيسا کہ صدر اوبامہ نے خود واضح کيا کہ ہم شام ميں معصوم عورتوں، مردوں اور بچوں کی حفاظت کے ليے صرف امداد اور لاجسٹک تعاون فراہم کر رہے ہيں، ان حالات ميں جب کہ ان کے تحفظ کی ذمہ دار حکومت ان پر بموں سے حملے کر رہی ہے۔ مقصد صرف ان کی حفاظت کو يقينی بنانا ہے۔
يقينی طور پر آپ ان لوگوں کی مدد کے ليے ہميں ہدف تنقید نہيں بنا سکتے
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected]”]
[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu