Dil Khoon Hua Kahin..

دل خون ہوا کہیں تو کبھی زخم سہہ گئے
اب حادثے ہی اپنی وراثت میں رہ گئے
کہنے کو ایک ساتھ ہی ڈوبا ہے قافلہ
کچھ عکس زیرِ آب مگر تہہ بہ تہہ گئے
پتوں سے پھوٹتی ہیں ہواؤں کی ہچکیاں
پنچھی ہرے شجر سے عجب بات کہہ گئے
شاید وہ بام و در کو نہ سونے دیں عمر بھر
جو خواب گھر کی خاک میں پیوست رہ گئے
"محسن"غریب لوگ بھی تنکوں کے ڈھیر ھیں
ملبے میں دب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے

محسن نقوی

2 Likes

Wah!

2 Likes

Aadaab Arz for Mohsin Naqvi and [USER="134058"]Hakuna Matata[/USER]

2 Likes