whatever makes you sleep better in the night dude.
either you cant read or you are just ignorant. where did i say ray da was on a peace mission in pakistan.
so are we discussing about pakistan or afghanistan here??
if the thread is about pakistan, i dont think i need to answer you…
and if its about afghanistan, are we comparing indiscriminate mass killings and bombings on weddings/ funerals with sporadic and few capital punishments here and there???
no you are wrong… dawn is very well known and believed to have anti-pakistan and anti-islam agenda… their style of reporting, the language they use to define “islamists” and the way they dont let any chance go to praise the west, is very well known in Pakistan. its only the secular elite of the country and foreigners who like to read dawn, because it publishes what pleases their ears (eyes?)
the facts which may be harmful for the enemies of pakistan only get published by dawn to catchup with other media outlets, even then they dont stop from twisting it…
almost every newspaper and television channel has some kind of association or liking towards different classes/ ideologies. you will only understand this if you sometime read ALLL OF THEM, just to get a clear view of whats being hide by whom, and whats being given extra coverage by whom… then you will automatically start differentiating between the facts and the fiction, your preconceived mindset may definitely prove to be a barrier in this effort… but it will take time
no i’ve been following pak news but nowhere was there an indication in any article that there was any CIA involvement when it came to pak talibs. and no it’s not that i don’t check out other pak news sources it’s just that after reading an article in those i always make sure the story is in other sources too including dawn.
it’s like me reading fox news(totally republican) and then making sure to read cnn and nbc news(totally democrat friendly) too.
يہ بات توجہ طلب ہے کہ کچھ راۓ دہندگان بعض مغربی اخبارات ميں شائع ہونی والی رپورٹس ميں سے بغير کسی نام کے امريکی عہديدران کے حوالے سے پيش کيے جانے والے بيانات کے منتخب حصوں کو محض اس بنياد پر اجاگر کر رہے ہيں کيونکہ اس سے ان کے مخصوص خيالات اور طرز فکر کو تقويت ملتی ہے۔ ليکن اسی اصول کو اس وقت نظرانداز کر ديا جاتا ہے جب امريکی صدر سميت حکومت کے اعلی ترين عہدوں پر فائز افراد متعدد بار سرکاری طور پر بيانات کے ذريعے يہ باور کرواتے ہيں کہ لاہور میں گرفتار ہونے والے امريکی کو سفارتی استثنی حاصل ہے۔
اگر بغير کسی نام اور بغیر کسی شناخت کے کسی امريکی عہديدار کا بيان بعض تجزيہ نگاروں اور راۓ دہندگان کے نزديک ناقابل ترديد ثبوت ہے تو پھر اسی اصول کے تحت جانے مانے اور شناخت شدہ اعلی امريکی عہديداروں، امريکی سفارت خانے اور اسٹيٹ ڈيپارٹنمٹ کی جانب سے سفارتی استثنی کے حوالے سے موقف اور بيانات کو بھی تسليم کيا جانا چاہيے۔
امريکی حکومت نے شروع دن سے يہ موقف اختيار کيا ہے کہ گرفتار ہونے والے امريکی شہری کو سال 1961 کے سفارتی تعلقات سے متعلق ويانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنی حاصل ہے۔ جب وہ پاکستان آۓ تھے تو امريکی حکومت نے تحريری طور پر حکومت پاکستان کو مطلع کيا تھا کہ ان کی تعنياتی اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے ميں تکنيکی اور انتظامی سٹاف کی حيثيت سے سفارتی کيٹيگری ميں سفارت کار کی حيثيت سے کی گئ ہے۔ ويانا کنونشن کے آرٹيکل 37 کے تحت سفارت خانے کے تکنيکی اور انتظامی عملے کو مکمل طور پر قانونی کاروائ سے استثنی حاصل ہوتی ہے اور کنونشن کے تحت انھيں قانونی طور پر گرفتار يا قيد نہيں کيا جا سکتا۔
آپ نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ ميں اہم امريکی حکومتی اہلکاروں اور سفارت کاروں کے بيانات اور سرکاری رپورٹس کے ذريعے سوالات کے جوابات دينے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ يہ بيانات امريکہ کی خارجہ پاليسی کے ايجنڈا اور مقاصد کی عکاسی کرتے ہيں۔ امريکی سفارتی اہلکار اور عہديدار اپنی سرکاری حيثيت ميں ديے گۓ بيانات اور الفاظ کے ليے مکمل ذمہ دار ہوتے ہيں۔
ميں اس امر سے بخوبی واقف ہوں کہ پاکستان ميں حکومتی عہديداروں اور مختلف حکومتی اداروں کی طرف سے جاری کردہ بيانات اور سرکاری ٹی وی پر خبروں اور رپورٹوں پر عام طور پر بھروسہ نہيں کيا جاتا۔
پاليسی بيانات کے حوالے سے عام طور پر شکوک و شبہات اور تحفظات پاۓ جاتے ہيں۔ امريکہ ميں بھی پاليسی بيانات کے حوالے سے تنقيد اور تحفظات کا عنصر موجود ہوتا ہے ليکن اس کے ساتھ ساتھ ہر عہديدار اس امر سے بھی واقف ہوتا ہے کہ احتساب کا عمل موجود ہے اور غلط بيانات کے نتيجے ميں ان کے خلاف کاروائ کی جا سکتی ہے۔ جب وائٹ ہاؤس يا اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی جانب سے کسی معاملے پر کوئ بيان جاری کيا جاتا ہے تو وہ اس معاملے پر براہراست امريکی حکومت کے موقف کی ترجمانی کرتا ہے۔
اس تناظر ميں ان بيانات اور رپورٹس کو نظرانداز نہيں کيا جا سکتا۔