Davis recruiting for TTP

Re: Davis recruiting for TTP

يہ بات توجہ طلب ہے کہ کچھ راۓ دہندگان بعض مغربی اخبارات ميں شائع ہونی والی رپورٹس ميں سے بغير کسی نام کے امريکی عہديدران کے حوالے سے پيش کيے جانے والے بيانات کے منتخب حصوں کو محض اس بنياد پر اجاگر کر رہے ہيں کيونکہ اس سے ان کے مخصوص خيالات اور طرز فکر کو تقويت ملتی ہے۔ ليکن اسی اصول کو اس وقت نظرانداز کر ديا جاتا ہے جب امريکی صدر سميت حکومت کے اعلی ترين عہدوں پر فائز افراد متعدد بار سرکاری طور پر بيانات کے ذريعے يہ باور کرواتے ہيں کہ لاہور میں گرفتار ہونے والے امريکی کو سفارتی استثنی حاصل ہے۔

اگر بغير کسی نام اور بغیر کسی شناخت کے کسی امريکی عہديدار کا بيان بعض تجزيہ نگاروں اور راۓ دہندگان کے نزديک ناقابل ترديد ثبوت ہے تو پھر اسی اصول کے تحت جانے مانے اور شناخت شدہ اعلی امريکی عہديداروں، امريکی سفارت خانے اور اسٹيٹ ڈيپارٹنمٹ کی جانب سے سفارتی استثنی کے حوالے سے موقف اور بيانات کو بھی تسليم کيا جانا چاہيے۔

امريکی حکومت نے شروع دن سے يہ موقف اختيار کيا ہے کہ گرفتار ہونے والے امريکی شہری کو سال 1961 کے سفارتی تعلقات سے متعلق ويانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنی حاصل ہے۔ جب وہ پاکستان آۓ تھے تو امريکی حکومت نے تحريری طور پر حکومت پاکستان کو مطلع کيا تھا کہ ان کی تعنياتی اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے ميں تکنيکی اور انتظامی سٹاف کی حيثيت سے سفارتی کيٹيگری ميں سفارت کار کی حيثيت سے کی گئ ہے۔ ويانا کنونشن کے آرٹيکل 37 کے تحت سفارت خانے کے تکنيکی اور انتظامی عملے کو مکمل طور پر قانونی کاروائ سے استثنی حاصل ہوتی ہے اور کنونشن کے تحت انھيں قانونی طور پر گرفتار يا قيد نہيں کيا جا سکتا۔

ذوالفقار – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall

[RIGHT][FONT=Times New Roman] [/RIGHT]