** Hadhrat Zainab (Radhiyallaho anha)**
**Daughters of Islam k silsiley k tehat aaj jis azeem hasti k barey mai’n aaj hum yaha’n malomat faraham ker rahey hai’n unka naam **
“Hazrat Zainab”
** hey jin ko hazrat Muhammed (saww) ki sub se bari baiti honey ka sharf hasil hey mairi aap sub se guzarish hey k isey sirf ek malomati mazmoon ki hasiyet se na perhai’n bel keh us aehsas ko mehsos kijiye Jo Allah k Rasool hazrat Muhammed (saww) Hazrat Zainab (ra) k liye rakhtey they un k us ranj aur takhlief ko mehsos kijiye jo unhoo’n ne Hazrat Zainab ki judai mai’n aur Hazrat Zainab ney Hazoor (saww) k liye uthai.
**
Daughters of Islam
Hadhrat Zainab (Radhiyallaho anha)
**Hazrat Zainab RA was Our Holy Prophet Mohammad’s SAW eldest daughter. She was born when Our Holy Prophet Mohammad SAW was thirty years old. She was married to her cousin (Hazrat Khadija’s RA sister’s son) Abu Al-Aas Bin Rabee. She was unable to migrate with the Holy Prophet SAW. Her husband participated in the battle of Badr against the Muslims and was captured as a prisoner of war.
The people of Makkah sent head money for the prisoners to be released- Hazrat Zainab RA also sent valuables to get her husband free. The valuables included a necklace which was part of the dowry that Hazrat Khadija RA had provided for her daughter.
When Our Holy Prophet SAW saw the necklace amongst the other valuables he was deeply reminded of his late wife and had tears in his eyes.
**
**
After consulting with the Sahaba RA, our Prophet SAW decided that Abu Al-Aas would be released without accepting the ransom on the condition that he would send Hazrat Zainab RA to Madina when he reached Makkah. Two men were sent along with Abu Al-Aas to wait for Hazrat Zainab RA outside Makkah.**
**
Thus Hazrat Zainab RA mounted a camel and left to meet the two Muslims who waited for her outside Makkah with her brother in law Kanana. When the disbelievers heard this, they got very angry. A group of these people arrived to protest this exchange. Amongst these men was Habbar Bin Aswad who was Hazrat Khadija’s cousin’s son. It is said that there was one other man with him but most historians say it was Habbar who shot Hazrat Zainab RA with an arrow which wounded her and she fell off the camel. She was expecting and this caused her to loose the child as well. Kanana fought these people with arrows of his own. **
Abu Sufyan told Kanana that they could not let Mohammad’s daughter (SAW) leave openly like that. He advised Kanana to return and send her quietly after a few days. Kanana agreed and a few days later sent Hazrat Zainab to Madina.
The wound Hazrat Zainab got from the arrow was never completely healed and after years of suffering from this wound passed away in 8 A.H.
Hazrat Mohammad SAW said that she was his best daughter who was persecuted for loving him. Our Holy Prophet buried her himself. During her burial he was very sad but later smiled and revealed that he (SAW) had been worried about Hazrat Zainab’s delicacy so He (SAW) prayed to Allah SWT to remove the hardships of the grave from Hazrat Zainab RA and His (SAW) prayer was accepted.
**
May Allah SWT take us into His mercy and save us from the hardships of the grave. Ameen.
**
]Daughters of Islam
Hadhrat Zainab (Radhiyallaho anha)
[RIGHT][/RIGHT]
[size=5]حضرت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
[/size]
[RIGHT][/RIGHT]
[RIGHT]**
****[size=3]زینب نام تھا، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ والدہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضرت زینب بعثت نبوی سے دس برس پہلے مکہ معظمہ میں پیدا ہوئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر اس وقت تیس برس تھی۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی شادی کمسنی میں (بعثت نبوی سے قبل) ان کے خالہ زاد بھائی ابو العاص (لقیط) بن ربیع سے ہو گئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منصب رسالت پر فائز ہوئے تو زینب رضی اللہ عنہا فوراً ایمان لے آئیں۔ بعثت نبوی کے بعد کفار مکہ نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور دعوت حق پر لبیّک کہنے والوں پر بے پناہ ظلم ڈھانے شروع کر دیئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیّہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امّ کلثوم رضی اللہ عنہا ابو لہب کے دو بیٹوں کے نکاح میں تھیں، تاہم رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ان دونوں نے اپنے باپ کے کہنے پر دونوں صاحبزادیوں کو طلاق دے دی۔ ابو العاص کو بھی کفّار نے بہت اکسایا کہ وہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دیں لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نہایت اچھا سلوک کرتے رہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو العاص کے اس طرز عمل کی ہمیشہ تعریف کی۔ باوجود اتنی شرافت اور نیک نفسی کے ابو العاص نے اپنا آبائی مذہب ترک نہ کیا حتّیٰ کے رسول اکریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے۔
رمضان سنہ ۲ ہجری میں حق اور باطل کے درمیان پہلا معرکہ بدر کے میدان میں ہوا اس میں حق غالب رہا اور قریش مکہ کے بہت سے آدمی مسلمانوں مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار ہو گئے۔ ان میں حضرت ابو العاص بھی تھے۔ انہیں ایک انصاری حضرت عبداللہ بن جبیر نے اسیر کیا۔ اہل مکہ نے جب یہ خبر سنی تو قیدیوں کے قرابت داروں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے عزیزوں کی رہائی کیلئے زر فدیہ بھیجا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھی مکہ سے اپنے دیور عمرو بن ربیع کے ہاتھ یمنی عقیق کا ایک ہار اپنے شوہر کی رہائی کیلئے بھیجا۔ یہ ہار حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو انکی والدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے شادی کے وقت جہیز میں دیا تھا۔ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ ہار پیش کیا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا یاد آ گئیں اور آپ آبدیدہ ہو گئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’ اگر مناسب سمجھو تو یہ ہار زینب کو واپس بھیج دو، یہ اسکی ماں کی نشانی ہے۔ ابو العاص کا فدیہ صرف یہ ہے کہ وہ مکہ جا کر حضرت زینب کو فوراً مدینہ بھیج دیں۔‘‘ تمام صحابہ نے ارشاد نبوی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ حضرت ابو العاص نے بھی یہ شرط قبول کرلی اور رہا ہو کر مکہ پہنچے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے ہمراہ حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا کہ وہ ’’ بطن یا جج‘‘ کے مقام پر ٹہر کر انتظار کریں، جب زینب مکہ سے وہاں پہنچیں تو انہیں ساتھ لے کر مدینہ آ جائیں۔ حضرت ابو العاص نے وعدہ کے مطابق اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ہمراہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو مکہ سے مدینہ کی جانب روانہ کر دیا۔ کفار مکہ کو جب یہ خبر پہنچی کہ سرور کائنات کی بیٹی مدینہ جا رہی ہے تو انہوں نے کنانہ بن ربیع اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا تعاقب کیا اور مقام ’’ ذی طویٰ‘‘ میں انہیں جا گھیرا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اونٹ پر سوار تھیں۔ کفار کی جماعت میں سے ہبار بن اسود نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے نیزہ سے زمین پر گرا دیا۔ ( یا اونٹ کا منہ پھیر لینے کیلئے اپنا نیزہ گھمایا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا گر پڑیں) وہ حاملہ تھیں۔ سخت چوٹ آئی اور حمل ساقط ہو گیا۔ کنانہ بن ربیع غضبناک ہو گئے، ترکش سے اپنے تیر نکالے اور انہیں کمان پر چڑھا کر للکارے کہ خبردار اب تم میں سے کوئی آگے بڑھا تو اسے چھلنی کر دونگا۔ کفار رک گئے۔ ابو سفیان بھی ان میں شامل تھے، انہوں نے کہا بھتیجے اپنے تیر روک لو میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ کنانہ نے پوچھا، کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ ابو سفیان نے ان کے کان میں کہا: ’’ محمّد کے ہاتھوں ہمیں جس رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا پرا ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو، اگر تم اسکی بیٹی کو اس طرح کھلّم کھلاّ ہمارے سامنے لے جاؤگے تو ہماری بڑی سبکی ہوگی، بہتر یہ ہے کہ تم زینب کے ہمراہ اسی وقت مکہ لوٹ چلو اور پھر کسی وقت خفیہ طور پر زینب کو لے جانا۔‘‘ کنانہ نے یہ بات مان لی اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو لے کر مکہ واپس آگئے۔ چند دن بعد وہ رات کے وقت چپکے سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ہمراہ لے کر بطن یا جج کے مقام پر پہنچے اور انہیں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کرکے مکہ واپس چلے گئے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ پہنچے۔
حضرت ابو العاص کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بہت محبت تھی۔ حضرت زینب کے چلے جانے کے بعد وہ بہت بے چین رہنے لگے۔ ایک دفعہ جب وہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے تو پر درد الفاظ میں یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
ذکرت زینب کما ورکت ارما
فقلت سقیاً لشخص یسکن الحرما
بنت الامین جزاھا اللہ صالحہ
وکل بعلٍ ما الّذی علماترجمہ: جب میں ارم کے مقام سے گزرا تو زینب کو یاد کیا اور کہا کہ خدا اس شخص کو شاداب رکھے جو حرم میں مقیم ہے، امین کی لڑکی کو خدا جزائے خیر دے اور ہر خاوند اسی بات کی تعریف کرتا ہے جس کو وہ خوب جانتا ہے۔
حضرت ابو العاص رضی اللہ بڑے شریف النفس اور دیانتدار تھے، لوگ ان کے پاس اپنی امانتیں رکھتے تھے۔ وہ نہایت دیانت کے ساتھ ان کی حفاظت کرتے اور مالکوں کے طلب کرنے پر فوراً واپس کردیتے تھے۔ مکے میں ان کی اس قدر اچھی ساکھ تھی کی لوگ اپنا مال تجارت نہیں دے کر فروخت کیلئے دوسرے ممالک میں بھیجا کرتے تھے۔ سنہ ۶ ہجری میں ابو العاص ایک تجارتی قافلہ کے ہمراہ شام جا رہے تھے کہ عیص کے مقام پر مجاہدین اسلام نے قریش کے قافلے پر چھاپا مارا اور تمام مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔ حضرت ابو العاص نے مدینہ پہنچ کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پناہ لی۔ انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی کہ ابو العاص کا مال انہیں واپس کر دیا جائے۔ چونکہ ابو العاص نے مکہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کا لحاظ کرتے تھے۔ صحابہ سے فرمایا: ’’ اگر تم ابو العاص کا مال واپس کردوگے تو میں ممنون احسان ہوں گا۔‘‘
صحابہ کرام کو تو ہر وقت خوشنودی رسول مطلوب تھی، فوراً تمام مال و اسباب حضرت ابو العاص کو واپس کر دیا۔ وہ تمام متاع لے کر مکہ پہنچے اور تمام لوگوں کی امانتیں واپس کر دیں۔ پھر اہل مکہ سے مخاطب ہو کر کہا: ’’ اے اہل قریش! اب میرے ذمے کسی کی کوئی امانت تو نہیں ہے؟ ‘‘ تمام اہل مکہ نے یک زبان ہو کر کہا: ’’ بالکل نہیں! خدا تمہیں جزائے خیر دے تم ایک نیک نہاد اور باوفا شخص ہو۔‘‘
حضرت ابو العاص نے کہا: ’’ تو سن لو میں مسلمان ہوتا ہوں، خدا کی قسم اسلام قبول کرنے میں مجھے صرف یہ امر مانع تھا کہ تم لوگ مجھے خائن نہ سمجھو۔‘‘
یہ کہہ کر کلمہ شہادت پڑھا اور اس کے بعد ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ یہ محرم سنہ ۷ ہجری کا واقعہ ہے۔
چونکہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو العاص میں شرک کی وجہ سے تفریق ہو گئی تھی اسلئے جب حضرت ابو العاص مشرف بہ اسلام ہو کر مدینہ پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے حضرت ابو العاص کے گھر بھجوا دیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اس واقعہ کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہ رہیں اور سنہ ۸ ہجری میں خالق حقیقی کے حضور پہنچ گئیں۔ اس کا سبب اسقاط حمل کی وہ تکلیف تھی کو پہلی مرتبہ مکہ سے آتے ہوئے ذی طویٰ کے مقام پر انہیں پہنچی تھی۔
حضرت امّ یمن، حضرت سودہ اور حضرت امّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق میّت کو غسل دیا ۔ جب غسل سے فارغ ہوئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہہ بند عنایت فرمایا اور ہدایت کی کہ اسے کفن کے اندر پہنا دو۔
صحیح بخاری میں مشہور صحابیہ حضرت امّ عطیہ سے روایت ہے کہ میں بھی زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل میں شریک تھی۔ غسل کا طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بتلاتے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے ہر عضو کو تین بار ہا پانچ بار غسل دو پھر کافور لگاؤ۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’ اے امّ عطیہ میری بیٹی کو اچھی طرح کفن میں لپیٹنا اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنانا اور اسے بہترین خوشبوں سے معطر کرنا۔‘‘
نماز جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پڑھائی اور حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ نے قبر میں اتارا اور ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی قبر میں اترے۔
جس دن حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے وفات پائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیحد مغموم تھے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ فرما رہے تھے۔ ’’ زینب میری سب سے اچھی بیٹی تھی جو میری محبت میں ستائی گئی۔‘‘
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پیچھے اپنے پیچھے ایک لڑکا علی رضی اللہ عنہ اور ایک لڑکی امامہ رضی اللہ عنہا چھوڑی۔ ایک روایت کے مطابق فتح مکہ کے موقع پر علی بن ابو العاص رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق انہوں نے جنگ یرموک میں شہادت پائی۔ ایک تیسری روایت کے مطابق وہ سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ تھوڑے عرصے بعد حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ نے بھی وفات پائی۔ وفات سے پہلے انہوں نے اپنی بیٹی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں دے دیا جو آپ کے ماموں زاد بھائی تھے۔ حضرت فاطمہ الزہراء کی وفات کے بعد حضرت امامہ رضی اللہ عنہا حضرت زبیر کے ایماء پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عقد نکاح میں آئیں۔
**[/size][/RIGHT]