Daikha Suna bhi Saray ka Sara Faraib hy...

دیکھا سنا بھی سارے کا سارا فریب ہے
دنیا کو جو بھی سمجھا پکارا فریب ہے

مرنے کی آرزو بھی خدارا فریب ہے
اور جی رہے ہیں یہ بھی ہمارا فریب ہے

آنکھیں جو دیکھتی ہیں نظارہ فریب ہے
یہ دل کشی یہ حسن تمہارا فریب ہے

مشکل تو یہ ہے کرتی نہیں تشنگی یقیں
دریا کے پار کا وہ کنارا فریب ہے

مانا فریب ہے یہ تعلق ترا مرا
اب دیکھنا ہے تھوڑا یا سارا فریب ہے

اہلِ جہاں نے نام محبت بتا بتا
اک دوسرے کے دل میں اتارا فریب ہے

مدت کے بعد آئینہ پھر آج ہے فدا
کچھ اس خلوصِ دل سے سنوارا فریب ہے

یہ میری سادگی ہے کہ ہر بار میں یہاں
گرنے کے بعد جانا سہارا فریب ہے

ابرک ملی نجات فریبِ حیات سے
چہرے سے ہم نے جب سے اتارا فریب ہے

۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک

2 Likes

:lajawab:

مرنے کی آرزو بھی خدارا فریب ہے
اور جی رہے ہیں یہ بھی ہمارا فریب ہے

2 Likes

:hat: