بھلا نہیں تو برا ملے گا
بھلا نہیں تو برا ملے گا
تم سے کچھ کیا صلہ ملے گا
ضرور تیرا دلکش چہرہ
کبھی تو ہم کو تنہاہ ملے گا
طواف کرنا اور پھر لکھنا
سبق محبت کا نیا ملے گا
تم تو آئی ہو صبا بن کے
دل وحشتوں سے بھرا ملے گا
ملی نہ فرصت تمھیں بندگی کی
ھمیں کون سا اب خدا ملے گا
تم پڑھ کر حیران ہو گی
کہاں تم کو ہم سا با وفا ملے گا
علی چلو تم اپنے گھر کو
[size=6]اُس دلربہ کا نہ پتا ملے گا[/size]
اشاعر علی