**
**
[RIGHT]**
موبائل فون کی شرط لگی تھی کہ اگر علی تیرتا ہوا دریاۓ جہلم کے دوسری طرف پار کر کے پہنچ گیا تو اسے اس کے دوست موبائل فون دینگے ، لیکن
علی نے جہلم دریا کی تیز موجوںکی بے رحمی کا غلط اندازہ لگایا اور سمجھا وہ آسانی سے پار کر کے دریا کے دوسری طرف پہنچ کر موبائل فون ملنے کی شرط جیت لے گا ، حالانکہ اس دریا میں ڈوبنے والے کی کبھی لاش بھی نہیں ملتی ، افسوس 19 سالہ علی کے ناداں دوست اسے چھلانگ لگانے پر اکساتے رہے اور وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی کود گیا ، آج دو دن گزر گئے لیکن علی کی لاش بھی نہ مل سکی ، یہ واقعہ کوہالہ پل کے نیچے نیلم پواینٹ پر کل 19 اگست کو ہفتے کے دن پیش آیا ، یہ دوست اچھا وقت گزارنے گجرانوالہ سے یہاں آئے تھے ، بکوٹ پولیس نے باقی دوستوں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے ، ایک دوست نے اپنے موبائل پر اس افسوسناک واقعے کی ویڈیو بنائی جو آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں ، اسی لئے کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے**[/RIGHT]
Boy lost his life in jhelum river over a bet for a mobile phone. His friends forced him to jump and reach the other side across the river. And they would give him a mobile phone as reward. 19 years old boy Ali’s dead body has not been found so far even after two days of this sad incident. The group of friends belonged to Gujranwala (Punjab) who had come here to this picnic spot at neelam point (Under Kohala Bridge) in order to have good summer time on the river bank. But their joy turned into a big tragedy because of a silly bet over a mobile phone. The Bakot police has arrested the group of friends who forced Ali to jump and a case against them has been registered in Thana Bakot. They are now in police custody and further investigation are currently underway.