Balochistan's stolen antiques recovered from Rome

Somebody made a ton of money on this.. first these precious gems were stolen and then made sure nothing happened and then smuggled. Another proof of miserable govts and security/investigation agencies..

Balochistan’s stolen antiques recovered from Rome - Pakistan - DAWN.COM
Balochistan’s stolen antiques recovered from Rome
By Syed Ali Shah
Published about 8 hours ago

[TABLE=“class: media media–left one-whole palm–one-whole, width: 650”]

This picture shows a police official inspecting seized ancient statues. — File photo/AFP

QUETTA: Italian police has recovered from Rome antiques stolen from Balochistan’s Mehrgarh area, said a statement issued by the provincial government.
Mehrgarh, which is located in Bolan district, has a history of civilisation that goes back to thousands of years.
The Balochistan government said late on Tuesday that the Italian police had on Monday recovered the antiques from Rome, which were stolen from Mehrgarh.
The government did not give details about any arrests in relation to the theft or the value of the antiques. The recovered antiques are said to be thousands of years old and are considered highly valuable in the international market, the statement said.

Chief Minister Balochistan Dr Abdul Malik Baloch expressed pleasure over the recovery of the antiques and directed Secretary Archives to contact the Pakistani embassy in Rome for an immediate return of the antiques.
Prominent local historian Noor Khan Mohammad Hassani told Dawn that there was no mechanism in place to guard antiques in Balochistan.
“People have stolen artifacts and material that represents our history, our identity,” Hassani said, adding that certain people were stealing antiquities from Balochistan to sell them in the international market.
Mehrgarh is regarded as among the oldest civilisations across the globe, with historians saying it could be at least eight thousand years old.

Re: Balochistan's stolen antiques recovered from Rome

MehrGarh , Ten thousand years old Pakistani civilization
Left abundant for thieves .

Re: Balochistan's stolen antiques recovered from Rome

I'd say give it back to Italy. Once came to Pakistan, its gonna stolen again either way

Re: Balochistan’s stolen antiques recovered from Rome

ایشیا کا پہلا شہر : مہرگڑھ](Redirect Notice)
کھچی(مہر گڑھ)](Redirect Notice)

Re: Balochistan’s stolen antiques recovered from Rome

An amazing article about MehrGarh
پتھر کے زمانے میں دانتوں کا علاجایک امریکی یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ ڈیوڈ فرائر نے پتھر کے زمانے کی نو کھوپڑیوں پر کی جانے والی اپنی تحقیقی رپورٹ جاری کر دی ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانے میں بھی دانتوں کا باقاعدہ علاج کیا جاتا تھا۔

انسان اپنی تلاش کے سفر میں ماضی کو کھوجتا جا رہا ہے اور اِس تلاش کا ایک رُوپ آثار قدیمہ کی بازیافت بھی ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کا ماضی کتنا تابناک تھا۔ اگر مصری تہذیب سے گنجے پن کے علاج ، نعشوں کو محفوظ رکھنے اور دیگر بیماریوں کے بارے میں اُس دور کے معالجین کے علم کا اندازہ ہوتا ہے تو موہنجوڈارو سے پسندیدہ کھیل شطرنج ، نکاسی آب اور شہر کے طرزِ تعمیر سے اُس دور کے سماجی رویوں اور ترقی کا پتہ چلتا ہے۔
سب سے پرانی انسانی تہذیب کے کچھ آثار تو پاکستان میں پوٹھوہار کی وادی سواں میں بسنے والی تہذیب سے ملے تھے اور اب بولان کی وادی میں انسانی تہذیب و تمدن کے چونکا دینے والے شواہد ملے ہیں۔ پاکستان کے مغرب میں واقع ایک مقام ، مہر گڑھ سے ملنے والی انسانی کھوپڑیوں پر تحقیق کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ یہ نو ہزار سال قبل از مسیح کی ہیں ، جو پتھر کے زمانے کا آخری زریں دور قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی تہذیب و تمدن کے پرانے آثار وادی سندھ میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔
امریکی Kansas یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ David Frayer نے پتھر کے زمانے کی 9 عدد کھوپڑیوں پر کی جانے والی اپنی تحقیقی رپورٹ جاری کر دی ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانے میں بھی دانتوں کا باقاعدہ علاج کیا جاتا تھا۔ ڈیوڈ فرائر کے مطابق یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ دانتوں کے علاج اور خصوصیت سے دانتوں میں سوراخ کر کے اُن کو بھرنے کے یہ پہلے نمونے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ اِس سارے علاقے میں یہ علاج پندرہ سو سال تک مروّج رہا تھا۔اِس سے پہلے دانتوں کے علاج کے حوالے سے انسانی کاوش تین ہزار سال قبل از مسیح کے ڈنمارک میں ملنے والے آثار تھے لیکن مہر گڑھ سے ملنے والے ماضی کے نشانات کا زمانہ چار ہزار قبل از مسیح سے سات ہزار قبل از مسیح کے درمیان کا ہے۔
مہر گڑھ سے ملنے والی کھوپڑیوں پر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ 9 عدد مریضوں کی عمریں اندازاً بیس سے چالیس کے درمیان تھیں اور اُن میں سے چار خواتین تھیں۔ دانتوں کے اندر سوراخ غالباً سوراخ کسیے نوکیلے اَوزار سے کئے گئے تھے ، جسے تیزی سے گھمایا جا سکتا تھا۔اِن سوراخوں کا مقصد داڑھوں میں لگے کیڑے یا اندر موجود انفیکشن کی وجہ سے پیدا پیپ کو نکالنا تھا۔ سوراخ کی مدد سے مرمت کئے گئے دانتوں کی تعداد گیارہ ہے جبکہ چار ایسے ہیں جن میں غالباً مکمل شفایابی نہیں ہوئی تھی۔محققین کا خیال ہے کہ یہ دانت یقیناً کسی بہتر مواد سے بھرے گئے تھے جو وقت کی گزرگاہ پر ضائع ہوگئے ہیں۔ ابھی اُس مواد سے آگاہی ممکن نہیں ہو سکی۔ فرانس کی Poitiers یونیورسٹی کے ماہر حجریات Roberto Macchiarelliکا خیال ہے کہ اُس زمانے میں دانتوں کے حوالے سے انسانی رویے بالغ نہیں تھے اور ہر قسم کی خوراک کے اِستعمال سے اُن میں بیماریاں عام تھیں۔ ویسے بھی یہ وہ زمانہ ہے جب اِنسان نے جَو اور گندم کو بطورِ خوراک کھانا شروع کیا تھا۔
پاکستان کے صوبے بلو چستان میں دریائے بولان کی وادی میں چار ہزار سال پرانی اِس تہذیب نے ماہرین آثار قدیمہ کے لئے نئے باب کھول دئیے ہیں۔اِس مقام پر سن 1980ءمیں ایک فرانسیسی ٹیم نے 380 افراد کے ساتھ کھدائی کا کام شروع کیا تھا۔ اِس عمل میں بعد ازاں سن 2000ءمیں مزید بین الاقوامی ماہرین بھی شریک ہو گئے حالانکہ تب بلوچستان غیر ملکیوں کے لئے کوئی پُر سکون علاقہ نہیں رہا تھا۔ تحقیق سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ مریض ایک سے زیادہ مرتبہ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس گئے تھے۔ دانتوں کا علاج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ معالجین اپنے کام کے زبردست ماہر تھے۔ فرانسیسی ماہر آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ قدیم تہذیبوں میں دانت کا علاج ایک انتہائی کمیاب شے ہے۔ مہر گڑھ میں دانتوںکے علاج کی روایت 1500 برسوں پر محیط ہونے کے باوجود اِس علاقے سے کسی دوسرے تمدن کو کیوں منتقل نہیں ہوئی ، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کی کھوج جاری ہے۔