Ayesha Mumtaz Phenomena

Re: Ayesha Mumtaz Phenomena

چیک ہوتے تھے ،میرے عزیز،میرے محترم، زیادہ عرصے کی بات نہیں۔ جب میونپل ادارے عوامی نمائندوں کے پاس تھے تو شہر کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ دکانوں پر فروخت ہونے والی اشیا کے معیار چیک کرنے کے لئے بھی انسپکٹرز ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔ جو بڑی مارکیٹوں ہی میں نہیں گلی محلے کی دکانوں سے بھی مختلف سیمپلز لیتے تھے۔ انہیں بوتلوں میں بھر کر با قایدہ دکان دار کے سامنے سیل کرتے تھے۔ دکان کا نام پتہ لکھتے تھے اور اگلی کاروائی کے لئے بھیج دیتے تھے۔ یہی نہیں ترازو اور باٹ تک چیک کئے جاتے تھے۔ ہفتہ وار ناغہ چیک ہوتا تھا اور اس کی خلاف ورزی پر بھی چالان ہوتے تھے۔ فروٹس کی دکانوں اور ریڑھیوں ،گوشت بیچنے والوں اور دیگر کھانے پینے والوں کی صفائی کے معیار کو چیک کیا جاتا تھا۔ خاص طور پر برسات کے دنوں میں کٹے سڑے پھل، گندی کلفی اور برف کے گولوں پر پابندی لگا دی جاتی تھی۔ تحصیل کا میڈیکل آفیسر چھاپے مارا کرتا تھا۔
ایسا سب کچھ ہمارے ہاں ہی تھا۔ اور مقامی حکومتوں کے قیام کے بعد ایسا پھر ہونے کا امکان ہے۔